سعودی عرب میں 266 برس پرانی تاریخی مسجد کا نیا رْوپ

انٹرنیشنل

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے شمالی صوبے حائل میں سمیراء شہر کے قدیم ٹاؤن میں واقع تاریخی مسجد الجلعود کی تزئین و آرائش اور تجدید کا کام مکمل ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے مملکت کی تاریخی مساجد کی تجدید و تزئین کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے میں سعودی عرب کے 10 صوبوں کی 30 مساجد کو شامل کیا گیا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسجد الجلعود 1175 ہجری میں بنائی گئی تھی۔ اس کا شمار سمیراء شہر کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔

اس مسجد کی تاریخی اہمیت اس وجہ سے دوچند ہو جاتی ہے کہ سمیراء شہر مکہ اور کوفے کے درمیان حج کے راستے میں پڑاؤ کا مشہور مقام تھا۔ یہاں نماز جمعہ کا انعقاد ہوتا تھا اور پڑوس کے علاقوں کے لوگ نماز کے لیے یہاں کا رخ کیا کرتے تھے۔الجلعود خاندان کے نام کے ساتھ منسوب اس مسجد کی تعمیر کے بعد کئی مرتبہ تجدید و تزئین ہوئی۔ یہ سمیراء شہر کے جنوب میں قدیم ٹاؤن کے وسط میں واقع ہے۔ یہ مقام حائل شہر سے 120 کلو میٹر جنوب مشرق میں ہے۔تاریخی اہمیت کی حامل مسجد الجلعود کو مٹی، پتھروں اور بلاکس سے تعمیر کیا گیا۔ اس کی چھت جھاؤ کی ٹہنیوں اور کھجور کے درخت کے پتوں سے بنی ہوئی تھی۔ چھت کو اوپر سے لوہے کی چادروں سے ڈھانپ دیا گیا تا کہ بارش کے پانی سے محفوظ رہا جا سکے۔حالیہ تزئین و آرائش اور تجدید سے قبل اس مسجد میں 80 کے قریب نمازیوں کی گنجائش تھی۔ اب یہاں 129 نمازی بآسانی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ تجدید کے بعد تاریخی الجلعود مسجد ،،، نمازیوں کی جگہ، بیت الخلا اور مردوں کے لیے وضو خانے پر مشتمل ہے۔‎

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر