مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں نے طبی ماہرین کیلئےمعلومات تک رسائی مشکل بنا دی ،اقوام متحدہ نے مودی سرکار کو بے نقاب کردیا

انٹرنیشنل

نیویارک (این این آئی)اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حکام کی طرف سے انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ورافرادکے لئے بنیادی معلومات تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی ڈیوڈ کے یی نے اپنی رپورٹ ’’ وبائی امراض اور اظہار رائے کی آزادی‘‘ میں کشمیر میں انٹرنیٹ پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں صحت کی دیکھ بھال

کرنے والے پیشہ ور افراد کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوںکی وجہ سے بنیادی معلومات تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔یہ رپورٹ انسانی حقوق کونسل کے 44 ویں اجلاس میں پیش کی جارہی ہے جورواں سال15 جون سے شروع ہوگا اور 3 جولائی تک جاری رہے گا۔رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے دوران انٹرنیٹ پر پابندیوں کا تسلسل پریشان کن ہے۔وبائی مرض کے دوران انٹرنیٹ کی بندش خاص طور پر پریشان کن ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات بہت اہم ہے بھارتی حکومت نے کشمیر میں انٹرنیٹ پر طویل عرصے سے پابندی عائد کررکھی ہے۔ رپورٹ میںاگست 2019 میں اقوام متحدہ کے ماہرین کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کئی بااختیار لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے کسی جرم کا بہانہ بنائے بغیر ہی کشمیری عوام پر اجتماعی سزا نافذکر رکھی ہے۔بھارت کی سپریم کورٹ نے 2020 ء کے اوائل میں حکومت سے کہاتھا کہ وہ اس سلسلے میںکشمیر میں جاری اپنی کارروائیوں کا جواز پیش کرے ۔لیکن کشمیر میں لوگوں کو اب بھی انٹرنیٹ کی محدود سائٹس اور انتہائی سست رفتار کے ساتھ رسائی حاصل ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پانچ ماہرین کے ایک گروپ نے22 اگست 2019 کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی ، معلومات تک رسائی اور پرامن احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کرے۔‎

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر