’’سیاہ فام کی ہلاکت امریکا کیخلاف احتجاج ، وائٹ ہائوس کی لائٹیں بند ‘‘لائٹس بند ہونا معمولی نہیں ، ایساصرف امریکی صدر کی موت پر کیا جاتا ہے ، صورتحال تشویشناک ہو گئی ،

انٹرنیشنل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاک کے بعد سے امریکہ بھر میں خاص طور پر وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرے کئے گئے۔قبل ازیں امریکا میں ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد 16 ریاستوں کے 25 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔سیاہ فام کی قتل کے خلاف امریکہ میں احتجاج کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کی لائٹیں بند کرنا پڑ گئیں عموماََ امریکی صدر کی موت پربند کی جاتیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پولیس افسر نے سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی گردن پر

8 منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے رکھے اور تقریباً 3 منٹ بعد ہی فلوئيڈ بے حرکت ہو گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے وہ دم توڑ گیا۔جس کے بعد شہر میں ہنگامہ مچ گیا اور مشتعل مظاہرین گھروں سے نکل آئے، پولیس سٹیشنز سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگائی، کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور سٹورز کو لوٹ لیا گیا۔اس کے علاوہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی اور براہِ راست پتھراؤ کیا جبکہ پولیس کی جانب سے

ان پر ربر کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیلز برسائے گئے۔احتجاج کا یہ سلسلہ پر امن انداز میں شروع ہوا تھا جو پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور اشتعال انگیزی میں تبدیل ہوا اور برسوں سے پولیس کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کے لیے یہ بے امنی اس وقت ایک قومی رجحان کا روپ دھار چکی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکام نے 16 ریاستوں کے 25 شہروں میں کرفیو نافذ کرنے کے بعد ڈسٹرک کولمبیا سمیت درجنوں ریاستوں میں نیشنل گارڈ کو طلب کرلیا ہے۔جن شہروں میں کرفیو نافذ کی گیا ان میں لاس اینجلس، میامی، اٹلانٹا، شگاگو، منی پولس، سینٹ پاؤل، کلیولینڈ، کولمبس، پورٹ لینڈ، فلاڈیلفیا، پٹس برگ، چارلسٹن، کولمبیا، نیش ولے اور سالٹ لیک سٹی شامل ہیں۔احتجاج کے دوران مظاہرین جارج فلائیڈ کے دم توڑتے ہوئے الفاظ

’مجھے سانس نہیں آرہی‘ کے نعرے لگاتے نظر آئے اور اب تک کی کشیدہ صورتحال میں مختلف ریاستوں میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔علاوہ ازیں پولیس کی برسائی جانے والی گولیاں اور شیلز لگنے سے متعدد لوگ زخمی ہوئے جبکہ انڈیانا پولس میں ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی۔ادھر 4 روز سے منی پولس میں جاری آتش زنی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے باعث جنگ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ منی سوٹا نیشنل گارڈ کو پوری طرح متحرک کردیا گیا۔اس سلسلے میں منی سوٹا گورنر کا کہنا تھا کہ گارڈز کی تقرری ضروری تھی کیوں کہ بیرونی جارحیت پسند جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاج کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔اس کے علاوہ غیر معمولی طور پر پینٹاگون کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ منی سوٹا کے گورنر کی جانب سے امن برقرار رکھنے میں مدد کی درخواست کرنے کی صورت میں فوجی دستوں کو 4 گھنٹوں کے نوٹس پر الرٹ رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔امریکا میں کئی ہفتوں سے جاری کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سڑکوں پر مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی نے بحرانی کیفیت کو ہوا دی ہے۔ادھر دارالحکومت واشنگٹن میں بھی سیکڑوں مظاہرین نے محکمہ انصاف کی عمارت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’سیاہ فاموں کی جانیں اہم ہیں‘ کے نعرے لگائے، جس کے بعد متعدد افراد وائٹ ہاؤس کی جانب چل پڑے جہاں انہیں بھاری تعداد میں شیلڈز پکڑے پولیس اہلکاروں کا سامنا ہوا۔اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر لیفیٹ اسکوائر پر جمع ہونے والے مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے پار جنگلے کو توڑنے کی کوشش کی تو ’ان کا استقبال اس طرح کے خطرناک ترین کتوں اور پر آشوب ہتھیاروں سے کیا جائے گا جو شاید ہی میں نے دیکھے ہوں‘۔اٹلانٹا اور نیویارک سٹی میں بھی پولیس کے ساتھ شہریوں کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔مینیسوٹا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث سفید فام پولیس افسر کو گرفتار کرکے اس کے خلاف تھرڈ ڈگری قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کی میئر پر وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج روکنے کے لیے پولیس نہ بھیجنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔میئر کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دے رہی ہیں، مگر ٹرمپ انھیں تقسیم کر رہے ہیں۔ نیویارک کے میئربل ڈی بلیسیو نے کہا کہ سیاہ فام امریکی کے قتل کی آزادانہ تحقیقات اور ملوث افراد سے جوابدہی کی جانی چاہیے۔ سیاہ فام امریکی کے سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل کے خلاف احتجاج برطانیہ تک پہنچ گیا ہے جہاں دارالحکومت لندن میں ٹریفلگر اسکوائر پر احتجاج کیا گیا، اس موقع پر جارج فلوئیڈ کی یاد میں خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر