اپریل 2022ء میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے وقت کی صورتحال ، مفتاح اسماعیل کی بریفنگ

پاکستان

مالی سال 2022-23میں 5100ارب روپے کے مجموعی خسارہ کا خدشہ تھا ، تاریخ کا بلند ترین
بجٹ تخمینہ سے تقریباً 1600ارب روپے زائد۔
1-پی ٹی آئی کے دور حکومت کے پہلے تین سال 2018-21بجٹ کا خسارہ اوسطاً 3408ارب روپے تھا جبکہ پی ایم ایل این کے دور حکومت میں یہ 1664ارب تھا ۔
2-وفاقی ترقیاتی بجٹ 900ارب سے کم ہو کر 550ارب روپے کر دیا گیا ۔
3-قرض
قومی قرضہ : 19,413ارب روپے کا اضافہ (78%)-24,953ارب سے بڑھ کر 44,366ار ب روپے ۔
کل قرضہ اور واجبات :23,665ارب روپے کا ضافہ (79%)-29,879ارب روپے سے بڑھ کر 53,544ارب روپے ۔

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال میں عدم فیصلہ سازی اور تعطل
پی ٹی آئی حکومت کے کمزور مذاکرات
پی آئی حوکی جانب سے تحریک عدم اعتماد سے قبل جان بوجھ کر آئی ایم ایف پروگرام کی ثبوتاژ جو ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر لے گیا ۔
4-پی ٹی آئی حکومت نے آخری سال میں تجارتی خسارہ 48ارب ڈالر تھا ۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ۔
5-برآمدات صرف 40%درآمدات کا ’’کور‘‘ فراہم کررہی تھیں ۔
6-17ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ۔ تاریخ کا سب سے زیادہ
7-پچھلے مالی سال میں 30.4ارب ڈالر اور رواں مالی سال میں 35.1ارب ڈالر بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ۔
8-FBR TAX to GDP Ratioکی شرح صرف 9.1%.
پچھلی پی ایم ایل این کی حکومت نے شرح 8.5%سے بڑھا کر 11.1%کی تھی ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ہرسال اس شرح کوگرایا ۔
9-پی ٹی آئی حکومت کے لگائے گئے نرخوں کی وجہ سے 120ارب روپے پٹرول کی سبسڈی میں ماہانہ نقصان اور 27ارب روپے کی سبسڈی میں ماہانہ نقصان ہو رہا تھا ۔
10-اس کے علاوہ پچھلے سال بجلی کے شعبے میں 1070ارب کا نقصان ہوا جو حکومت نے ادا کیا
11-گیس کی مد میں 101ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑ رہی ہے ۔
12-بجلی کے گردشی قرضے 1100ارب سے بڑھ کر 2500ارب روپے سے زائد ہو گئے ۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ گیس کا گردشی قرضہ بھی پیدا ہو گیا ۔
13-بدقسمتی سے بیرونی قرض اور واجبات کل قرض کا 33%سے بڑھ کر 40%ہو چکی ہے ۔
14-سالانہ Debt Servicing ، 1500ارب سے بڑھ کر 3144ارب ہو گئی ہے ۔
15-پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال میں عدم فیصلہ سازی اور تعطل
16-پی ٹی آئی حکومت کے کمزور مذاکرات
17-نومبر 2021ء میں سٹاف لیول ایگریمنٹ میں کئے گئے وعدے ۔
18-پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے تحریک عدم اعتماد سے قبل جان بوجھ کر آئی ایم ایف پروگرام کو ثبوتاژ کرناجو ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر لے گیا ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر