کرونا وباء نہ ہوتی تو عمران خان کب کے گھر بھیج دیے گئے ہوتے،ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کیا کرنا تھا؟ چینی آٹا بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، ن لیگ کا دھماکہ خیز اعلان

سوشل میڈیا‎‎

کالاشاہ کاکو(آن لائن) چئیرمین پبلک اکاونٹ کمیٹی رانا تنویر حسین پارلیمانی اپوزیشن لیڈر خواجہ آصف اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے ہم نے پہلے کہا تھا چینی آٹا بحران کے زمہ داروں کیخلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی وہی ہورہا ہے اب کمیشن بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں جو معاملہ کو لٹکانے کا باعث بنے گا رانا تنویر فارم ہاوس پر مسلم لیگ ن کے تینوں مرکزی رہنماوں کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پاکستان کا دیوالیہ نکال دیا ہے اور جس طرح کورونا کے نام پر دنیا سے فنڈز مانگ رہا

ہے اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے انہوں نے کہا اگر کورونا وباء￿ نہ ہوتی تو عمران خان کب کے گھر بھیج دئے گئے ہوتے مسلم لیگ ن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی تحریک نے عمران حکومت کا بوریا بستر گول کردینا تھا انہوں نے کہا مسلم لیگ ن کی حکومت پاکستان کو خوشحالی کی طرف لے آئی تھی پاکستان اتنی تیزی سے ترقی کررہا تھا کہ دنیا حیران تھی دنیا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی معترف تھی میاں نواز شریف کی محنت سے دنیا ہمارے ساتھ تھی اسلامی ممالک اور دیگر دوست ممالک پاکستان کو آنے والے وقت کا معاشی اور اقتصادی ٹائیگر مان رہے تھے مگر عمران خان کی صورت میں پاکستان اور عوام پر عذاب مسلط کردیا گیا جس نے معیشت کا بیڑا گرک کردیا اور پوری قوم کو بھکاری بنادیا آج معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے حکمران لوٹ مار میں مصروف ہیں اور قوم کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں لوٹ مار کرنے والوں کو قوم پہچان اور جان چکی کورونا وباء￿ کے خاتمے کیساتھ ہی اپوزیشن سڑکوں پر ہوگی کیونکہ حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو تاریخی نقصان ہوجائے گا انہوں نے کہا حکومت شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن ارکان پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی چار پائی کے نیچے جھاڑو پھیرے اور لوٹ مار کرنے والے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش نہ کرے میاں شہباز شریف بیمار ہیں انہوں نے ہر الزام کا جواب دیدیا ہے اب جھوٹ اور انتقام کی سیاست اپوزیشن قبول نہیں کرے گی انہوں نے کہا میاں نواز شریف کی صحت بالکل ٹھیک ہے انہوں نے اپریشن کروانا تھا مگر کورونا وباء کی وجہ سے انکا اپریشن التواء کا شکار ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر