پنجاب حکومت صدر میں واقع واران ڈپو خالی کرانے میں خود سنجیدہ نہیں ،عظمیٰ گل نے حقیقت کھول کر رکھ دی

سوشل میڈیا‎‎

راولپنڈی (آن لائن) واران ٹوورز کی چیئر پرسن عظمیٰ گل نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت صدر میں واقع واران ڈپو خالی کرانے میں خود سنجیدہ نہیں ہے، ہم نے عسکری بنک سے حاصل کیا گیا تمام قرضہ نہ صرف مع سود واپس کر دیا بلکہ پنجاب حکومت سے کئے گئے معاہدے کی تمام شقوں کی ہمیشہ پاسداری کی لیکن حکومت کی جانب سے ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا حکومت عدالتی فیصلے کا حترام اور معاہدے کی پاسداری کرے ہم بھی ڈپو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر میڈیا کے نمائندوںسے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے شوہر ونگ کمانڈر (ر)یوسف گل بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ 1998میں

صوبائی حکومت نے پنجاب بھر میں ٹریفک کے اژدہام پر قابو پانے کے لئے 6ویگنوں کی جگہ ایک بس چلانے کا منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی تھی لیکن28مئی کے ایٹمی تجربات کے بعد ملٹی نیشنل کمپنیاں بھاگ گئیں جس پر حکومت نے پاکستانی کمپنیوں کے لئے ٹینڈر کال کئے ہمارے ٹینڈر کو انتہائی موزوں قرار دے کر حکومت نے ہمیں جڑواں شہروں کے ساتھ لاہور میں بھی سروس شروع کرنے کی دعوت دی لیکن ہم نے اپنے شہر کو ترجیح دیتے ہوئے جڑواں شہروں تک محدود رہنے کا فیصلہ کیا اس طرح فرنچائز معاہدے کے تحت ہم نے31اکتوبر1999کو سروس کا آغاز کرنا تھا لیکن 12اکتوبر کے فوجی اقدام کی وجہ سے سروس ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی اس طرح مشرف حکومت میں23فروری2000کو از سرنوفرنچائزمعاہدے کے تحت ہم نے جون2000میں سروس کا آغاز کیا ہمارے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت سابقہ جی ٹی ایس بس سروس کے صدر اور چوہڑ میں واقع ڈپو بھی ہمیں ملنا تھے کیونکہ جی ٹی ایس سروس کی بندش کے بعد حکومت نے یہ ڈپو پرائیوٹائزیشن کمیشن کو دینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ان کی نیلامی کر کے گولڈن شیک ہینڈ لینے والے ملازمین کے واجبات ادا کئے جا سکیں لیکن بعد ازاں یہ ڈپو پھر محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب کے حوالے کر دیئے گئے جہاں سے فرنچائز معاہدے کے تحت یہ لیز پر ہمیں دیئے گئے جہاں حکومت کے ساتھ 20روپے یومیہ فی بس پارکنگ فیس کی شرط بھی رکھی گئی انہوں نے کہا کہ جب ہم نے ڈپو کا کنٹرول لیا تو نہ صرف یہاں جی ٹی ایس دور لاکھوں روپے کے یوٹیلٹی بل بقایا تھے بلکہ اس کے فرش اکھاڑ کر یہاں سے سیوریج اور نکاسی کے پائپ بھی نکال لئے گئے تھے کھنڈر نمااس ڈپو میں نشئیوں اور جواریوں کے ڈیرے تھے اور اس کا ایک حصہ فلتھ ڈپو بن چکا تھا اس طرح یہ ڈپو ہر ادارے کا نادہندہ ہونے کے ساتھ ایک کھنصر بنا ہوا تھا جس پر ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت واجبات ادا کر کے اسے آپریشنل کیا انہوں نے کہا کہ ہم معاہدے کے تحت 150بسیں لے آئے لیکن صوبائی حکومت نے معاہدے کی پاسداری کے تحت ہمارے روٹس پر پہلے سے چلنے والی ویگنوں کو متابدل روٹ فراہم کئے نہ ہمارے لئے یہ روٹ خالی کرائے جس سے ہماری بسیں سرپلس ہو گئیں اور ہم 4سال تک انتہائی کٹھن حالات میں بسیں چلاتے رہے اس دوران13دن میں ہونے والے43مختلف واقعات میں ہماری بسوں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا یہاں تک کہ ہماری بسوں پر فائرنگ کی گئی جس سے تنگ آکر ہم نے 21`فروری2005کو سروس بند کر دی جس کے بعد ہم نے حکومت کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے اور اپنے نقصانات کے ازالے کے لئے پنجاب حکومت کے خلاف4ارب30کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جس کے سوا سال بعد پنجاب ھکومت نے ہمارے خلاف5ارب روپے کا دعویٰ کر دیا اس طرح9سال تک کیس زیر سماعت رہنے کے بعد عدالت نے 21مارچ2014کودعوے میں اٹھائے گئے تمام 22نکات کو منظور کرتے ہوئے ہمارے حق میں فیصلہ دے دیا اور2ارب روپے ہمارے ھق میں ڈگری کرتے ہوئے حکومتی دعویٰ خارج کر دیا جبکہ اس کے ساتھ ہم نے اپنی جائیداد فروخت کرنے کے علاوہ عزیزواقارب سے قرض لے کر26دسمبر2005کو اپنے ذمہ واجب الادا عسکری بنک کا تمام قرضہ مع سود واپس کر دیاتاہم عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نے اپیل کر دی اور2014سے لے کر اب تک سالانہ 6یا 7مرتبہ سماعت کے لئے تاریخ مقرر ہوتی ہے ور ہر مرتبہ نئے بہانے کے ساتھ حکومتی وکیل اگلی تاریخ لے لیتا ہے انہوں نے کہا کہ اس ڈپو کی جگہ واگزار کرانے میں پنجاب حکومت خود بڑی رکاوٹ ہے انہوں نے کہا کہ اس دوران حکومت نے چوہڑ ڈپو پر غیر قانونی قبضے کے بعد جب ہمارے ملازمین اور سکیورٹی گارڈز کو بھی مکمل طور پر بے دخل کر دیا اور ڈپو میں موجود ہماری بسوں سے سامان چوری ہونے لگا تو پھر حفظ ماتقدم کے طور پر 24اگست2018کو ہم نے صدر ڈپو پر حکم امتناعی حاصل کر لیا انہوں نے کہا کہ حکومت نہ ہمیں بسیں فروخت کرنے کا این او سی دیتی ہے نہ عدالتی فیصلے کے تحت ہمارے2ارب کی رقم ادا کرتی ہے جس سے یہ واضح ہے کہ پنجاب حکومت خود سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر