طبی عملہ وائرس سے متاثر ہونے لگا تو علاج کون کرے گا؟ اسلام آباد کے ڈاکٹر بھی میدان میں آ گئے، خاتون ڈاکٹر لوگوں کو پیغام دیتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر رو پڑیں

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن) سندھ اور پنجاب کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈاکٹرز نے بھی حکومت لاک ڈاؤن سخت کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔پمزاسپتال کے ڈاکٹراسفندیار نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کورونا وائرس کو روکنا ہے تو لاک ڈاوَن سخت کرنا ہوگا اور ایسا نہ کرنے سے پوری قوم وائرس سے متاثر ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ لاک ڈاوَن کو سخت کرنے پر حکومتی موقف کی حمایت کرتے ہیں لیکن اگر طبی عملہ وائرس سے متاثر ہونے لگا تو علاج کون کرے گا؟ حفاظتی کٹس کے بغیر کام کرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ڈاکٹرز کے وفد نے مطالبہ کیا کہ ہاتھ جوڑ کرحکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ لاک ڈاوَ ن سخت کیا جائے۔ وائرس سے جو لوگ بچ گئے ہیں وہ لاک ڈاوَن کی وجہ سے بچ گئے ہیں۔ڈاکٹر اسفندیار کا کہنا تھا کہ حالات خرابی کی طرف جارہے ہیں، یورپی ممالک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک نہیں پا رہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ عوام گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیں اور غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔ خاتون ڈاکٹر رضیہ کوریجو نے پریس کانفرنس کے دوران روتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس اتنی ٹیسٹنگ کٹس نہیں کہ سب کے ٹیسٹ کرسکیں، لوگوں سے درخواست ہے گھروں میں رہیں اور فاصلہ رکھیں۔ اپنے بچوں اور پیاروں کیلئے گھروں میں رہیں،یاد رہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز نے بھی گزشتہ روز عوام سے اپیل کی تھی کہ گھروں میں رہیں، اگر احتیاط نہیں کی تو یہ معاملات مکمل طور پر بے قابو ہوجائیں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر