چین اور جاپان کی کمپنیوں نے کرونا ویکسین کی ٹیسٹنگ کیلئے پاکستان سے رابطہ کر لیا، ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کر دی

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس تاثر کو رد کردیا ہے کہ پاکستان میں وائرس کی ویکسین تیار ہورہی ہے اور آئندہ چند ماہ میں علاج کیلئے موجود ہوگی،ویکسین کی تیاری کیلئے دنیا بھر میں بہت کام ہورہا ہے، جاپان اور چین نے ٹرائل کیلئے پاکستان سے رابطہ کیا ہے، پہلے روزے میں لوگوں نے وائرس کے عدم پھیلاؤ سے متعلق مخصوص احتیاط کو نہیں اپنایا جس پر افسوس ہے،کورونا وباء سے متعلق پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے،احتیاط نہ کی گئی تو کورونا وائرس مزید تیزی سے پھیلے گا،عوامرمضان المبارک میں رش والی جگہ سے گریز کریں،حکومت نے ٹیلی ہیلتھ نامی ایک ویب سائٹ کا آغاز کردیا ہے

جس کے تحت اندورن یا بیرون ملک ڈاکٹر ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مشورہ دے سکیں گے۔ ہفتہ کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تیاری کیلئے دنیا بھر میں بہت کام ہورہا ہے لیکن پاکستان میں ویکسین بنانے کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہا۔ڈاکٹر ظفر مراز نے وضاحت کی کہ چین کی ایک کمپنی نے ویکسین کی ٹیسٹنگ و ٹرائل کے لیے پاکستان سے رابطہ کیا ہے جبکہ ہم نے ان سے مذکورہ ٹرائل کا حصہ بننے کے لیے قواعد دستاویزات کی شکل میں طلب کی ہیں۔انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان میں اگلے چند ماہ میں ویکسین مل جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ جاپان میں انٹی وائرل دوائی پر بھی کام ہورہا ہے اور جاپان کے قونصل خانہ نے بھی ٹرائل کے لیے پاکستان سے رابطہ ہے،ہم نے جاپان سے مزید تفصیلات طلب کی ہیں جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائیگا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پہلے روزے میں لوگوں نے وائرس کے عدم پھیلاؤ سے متعلق مخصوص احتیاط کو نہیں اپنایا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ڈاکٹر برادری مختلف شہروں میں پریس کانفرنس میں وائرس کا پھیلاؤ بننے والے اعمال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز نے نیک نیتی کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا کیونکہ وہ وائرس سے متعلق حقائق اور شعبہ صحت کی مجموعی مگر محدود استعداد کار سے بھی واقف ہیں۔ڈاکٹر ظفر مراز نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک میں رش والی جگہ سے گریز کریں۔ڈاکٹر مظفر مرزا نے بتایا کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی پلٹ فارم یاران وطن متعارف کرایا گیا جس کے تحت بیرون ملک پاکستانی ڈاکٹرز اور ہیلتھ پروفینشل خود کو رجسٹرڈ کرا کر حکومت کی کوشوں میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کے ذریعے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کو یاران وطن کے استعمال پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ٹیلی ہیلتھ نامی ایک ویب سائٹ کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت اندورن یا بیرون ملک ڈاکٹر ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مشورہ دے سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ویب سائٹ پر رجسٹریشن کا مراحلہ ہے۔معاون خصوصی نے بتایا کہ جو ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کے خلاف اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں تو ٹیلی ہیلتھ پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا کے کیسز کی تعداد 28لا کھ 50 ہزار 387 ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کورونا وباء سے متعلق پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے،احتیاط نہ کی گئی تو کورونا وائرس مزید تیزی سے پھیلے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر