اللہ تعالیٰ نے اس بار دنیا کی جھوٹی ترین قوم پر ایک سچا ترین اور ایمان دار ترین لیڈر اتار دیا‘ اب تاریخ ہی بتائے گی کہ ہمارا کیا ہوتا لیکن قدرت اب کونسا دعویٰ نہیں کر سکے گی ؟کونسا اصول تبدیل گیا ، تہلکہ انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ مولانا زندہ باد ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔سچ تو یہ ہے اس ملک میں سچ کو مشکوک بنا دیا گیا ہے‘ ہم جنرل پرویز مشرف‘ شوکت عزیز‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے اچھے کاموں کا اعتراف بھی کریں تو پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل پیجز سے گالیوں کے دہانے کھل جاتے ہیں‘مولانا یہ بھی چھوڑ دیں صرف یہ بتا دیں کیا

یہ سچ نہیں ہم ایک بھکاری ملک تھے‘ پوری دنیا ہمیں منگتا سمجھتی تھی لیکن ہم نے اب وزیراعظم کو بھی چندے پر لگا دیا‘ یہ بھی اب ”دل کھول کر دیں“ کی صدا لگا رہے ہیں اور لوگ اس کے بعد جب کہتے ہیں ”خدا خوفی کریں“ تو جواب آتا ہے وزیراعظم کون سا اپنی ذات کے لیے مانگ رہے ہیں۔ہم نے ملک میں اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے دل چسپ واقعات دیکھے ہیں لیکن یہ منظر پہلی مرتبہ دیکھا‘ عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی خود لوگوں سے چندہ لے کر چندے کا چیک بناتے ہیں اور یہ چیک وزیراعظم کو دے دیتے ہیں اور وزیراعظم وہ وصول بھی کر لیتے ہیں‘ وفاقی وزیر صحت عامر کیانی پر ادویات ساز کمپنیوں سے رقم لینے کا الزام لگتا ہے‘ انہیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے لیکن ان سے وصولی کی جاتی ہے اور نہ ہی تحقیقات ہوتی ہیں اور پھر تین ماہ بعد انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا جاتا ہے۔وفاقی مشیر عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو 309ارب روپے کا ڈیم بنانے کا ٹھیکہ دے دیا جاتا ہے‘ ایف آئی اے کی تحقیقات میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر چینی اور آٹے میں اربوں روپے بنانے کا الزام لگ جاتا ہے لیکن خسرو بختیار کو پہلے سے بہتر وزارت دے دی جاتی ہے اور جہانگیر ترین کو موسم انجوائے کرنے کا وسیع موقع فراہم کر دیا جاتا ہے‘ پشاور میٹرو مکمل نہیں ہوتی‘ نیب کیس کھولنے لگتا ہے تو کے پی کے حکومت عدالت سے سٹے لے لیتی ہے۔الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کی فائل کھلتی ہے اور حکومت سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور وزیراعظم خود ڈیوس میں کھڑے ہو کر کہہ دیتے ہیں میرا یہ دورہ میرے دوست عمران چودھری نے سپانسر کیا تھا اور یہ سچ کی اس فہرست کے وہ اعشاریہ ایک

فیصد سچ ہیں جو جبر کے اس موسم میں بھی میڈیا نے بولے لیکن تاریخ کی ایمان دار ترین حکومت کیا کرتی ہے؟ یہ رپورٹس ”لیک“ ہونے کے بعد ”ہم نے رپورٹ جاری کر دی‘ ہم نے رپورٹ جاری کر دی“کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتی ہے اور بس‘ مولانا صاحب یہ کیا جنون ہے‘ یہ کیا عشق ہے جس میں روز”لیلیٰ نظر آتا اور مجنوں نظر آتی ہے“ ہو رہا ہے اور اہل ایمان تماشا دیکھ رہے ہیں۔میں آخر میں یہ مانتا ہوں

اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ دنیا کے ایک انسان کے لیے اپنا اصول بدل دیا‘ اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے ”ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر والی(حکمران) بنا دیتے ہیں (سورۃ الانعام‘ آیت 129) )لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بار دنیا کی جھوٹی ترین قوم پر ایک سچا ترین اور ایمان دار ترین لیڈر اتار دیا‘ ہمارا کیا بنتا ہے یہ تاریخ ہی بتائے گی لیکن کم از کم قدرت اس کے بعد یہ دعویٰ نہیں کر سکے گی ”ہم قوموں پر قوموں جیسے

لیڈر ہی اتارتے ہیں“ یہ اصول کم از کم تبدیل ہو گیا اور میں سمجھتا ہوں اس میں مولانا کی دعاؤں اور رقت کا بہت عمل دخل ہے‘ یہ نرگس کا ہزاروں سال کا وہ گریہ ہے جس کے بعد چمن میں دیدہ ور پیدا ہوجاتا ہے اور پوری دنیا اب وضو کر کے ہمارے دیدہ ور کا دیدار کر رہی ہے‘ مولانا زندہ باد اورپاکستان پائندہ باد۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر