’’وبائیں اگر دعاؤں اور ایمان دار قیادتوں سے رک سکتیں تو مکہ اور مدینہ میں کر فیو نافذ نہ کرنا پڑتا‘‘مہربانی فرما کر ہمیں ہمارے گناہ یاد کرا کے نہ ڈرائیں‘ ہم پہلے ہی سہمے اور مرے ہوئے لوگ ہیں‘ہمیں مزید نہ ماریں، کروناو ائرس کو چین اور بھارتی ریاست کیرالہ نے کیسے شکست دی ، پوری دنیا کیلئے مثال بن گئی

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوھردی اپنے کالم ’’ہم بے حیاء لوگوں کے لیے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔پہلا مریض دسمبر 2019ء کے دوسرے ہفتے میں ووہان میں ظاہر ہوا اور مہینے کے آخری دن نوول کرونا کو وبا ڈکلیئر کر دیا گیا اور یہ وبا اپریل تک 210 ملکوں میں پھیل چکی تھی جس کے بعد انسانی تاریخ میں پہلی بار پوری دنیا لاک ڈاؤن ہوگئی اور یہ آج تک بند ہے‘کرونا کی چار ماہ کی

تاریخ میں چین دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے دو ماہ میں اس وبا پر قابو پالیا‘ ووہان شہر بھی کھل چکا ہے اور چین کے اندر لاک ڈاؤن بھی ختم کر دیا گیا ہے‘ کیرالہ دوسری مثال ہے۔اس میں بھی کرونا پر قابو پا لیا گیا‘ یہ بھارت کی جنوب مغربی ریاست ہے‘ اس میں 29 فروری کو پہلا مریض سامنے آیا‘ ریاستی حکومت نے20اپریل تک اپنا علاقہ کلیئر کر دیا‘ کیسے؟ یہ بھی ایک دل چسپ داستان ہے‘کیرالہ بھارت کی پہلی ریاست تھی جس نے لاک ڈاؤن کیا تھااور پولیس اور سپیشل برانچ سمیت حکومت کے سارے اداروں کو کرونا کے پیچھے لگا دیا تھا اور پوری حکومت نے مل کر ڈیڑھ ماہ میں ریاست کو وبا سے پاک کر دیا‘آپ کو چین اور کیرالہ کا مذہب بھی معلوم ہوگا‘ کیرالہ میں ہندو بستے ہیں‘ یہ پتھر کی مورتیوں کو بھگوان سمجھتے ہیں‘ ریاست میں شراب سرکاری سطح پر جائز ہے‘ جواء خانے بھی ہیں اور کلبز بھی‘ پوری ریاست میں برقعہ پہنا جاتا ہے اور نہ سر پر سکارف لیا جاتا ہے اور ڈانس ان کے مذہب اور ثقافت دونوں کا حصہ ہے جب کہ چین مکمل لادین ملک ہے‘ یہ لوگ اللہ اور مذہب دونوں کو نہیں مانتے‘ ملک میں چرچز‘ مندروں اور مسجدوں کی اجازت نہیں تھی‘ مسلمان اکثریتی صوبے سنکیانگ میں پچھلے سال قرآن مجید کی امپورٹ کی اجازت دی گئی‘ تبلیغ آج بھی منع ہے‘ بے حیائی کا یہ عالم ہے پورے ملک میں کوئی عورت دوپٹہ نہیں اوڑھتی‘ چین میں عصمت فروشی پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود دنیا میں سب سے زیادہ سیکس ورکرز چین میں ہیں‘ پورے ملک میں مساج سنٹرز ہیں اور ان سنٹرز میں

خواتین مردوں اور مرد خواتین کا مساج کرتے ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ سیکس ٹوائز بھی چین میں بنتے ہیں اور یہ پوری دنیا کو سپلائی کیے جاتے ہیں‘ ڈانس اور میوزک ان کی تہذیب کا حصہ بھی ہے‘ آپ پورے چین کا دورہ کر لیں آپ کو لوگ ناچتے اور گاتے نظر آئیں گے‘ شراب اور جواء بھی لیگل ہے‘ چین آج بھی دوسرے‘ تیسرے بلکہ دسویں درجے کی اشیاء بنانے میں پوری دنیا میں بدنام ہے‘ یہ لوگ پلاسٹک کے انڈے‘

چاول اور دالیں تک بناتے اور ایکسپورٹ کرتے ہیں‘ یورپ میں حرام جانور خنزیر کھایا جاتا ہے جب کہ چین میں سانپ‘ کتے‘ چمگادڑیں‘ مینڈک اور سنڈیاں تک کھائی جاتی ہیں۔کرونا کے بارے میں شروع میں بتایا گیا تھا یہ چمگادڑوں کے سوپ سے شروع ہوا تھا‘ چین انسانی اعضاء کی سب سے بڑی منڈی بھی ہے‘ مافیاز دنیا جہاں سے اعضاء اکٹھے کرتے ہیں اور یہ اعضاء چین میں مریضوں کو لگا دیے جاتے ہیں

اور چین میں جمہوریت بھی کنٹرولڈ ہے اور میڈیا بھی‘ سچ اور جھوٹ دونوں حکومت کی مرضی سے بولے جاتے ہیں اور وہاں نماز اور اذان پر بھی پابندی ہے لیکن چین نے ان تمام گناہوں اور بے حیائی کے باوجود دنیا میں سب سے پہلے کرونا پر قابو پالیا۔کیا یہ عجیب بات نہیں؟ اگر عذاب بے حیائی‘ فحاشی اور گناہوں سے آتے ہیں تو اس وقت تک آدھا چین زمین میں دفن ہو جانا چاہیے تھا جب کہ نتیجہ مکمل مختلف نکلا۔

کیرالہ نے بھی دعاؤں کے بغیر کرونا کوبھگا دیا لہٰذا پھر ہم کہہ سکتے ہیں وبا صرف بے حیائی‘ دین سے دوری‘ ملاوٹ‘ جواء‘ شراب اور رقص کی وجہ سے نہیں پھیلتی‘ اس کی کوئی نہ کوئی دوسری وجہ بھی ہو گی اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں یہ صرف دعاؤں اور منتوں سے ختم نہیں ہوتی۔انسانوں کو اسے کنٹرول کرنے کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی کرنی پڑتی ہے‘ مجھے یقین ہے میری اس دلیل کے جواب میں کہا جائے گا

چینی صدر نے مسلمان امام سے دعا کرائی تھی اور اندلس کے شہروں سیویا‘ غرناطہ اور قرطبہ میں بھی پانچ سو سال بعد اذان گونجی تھی اور اٹلی کے کلیساؤں میں بھی تلاوت کرائی گئی تھی لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے پھر یہ دعا سب سے پہلے چین میں کیوں قبول کر لی؟

اور ساری اسلامی دنیا تادم تحریر اس قبولیت سے کیوں محروم ہے؟ کیا ہم چین سے زیادہ بے حیاء اور ملاوٹی ہیں اور کیا ہم کیرالہ سے زیادہ بے باکی سے ناچتے ہیں؟۔ہم اب ایمان اور حیاء کی طرف بھی آتے ہیں‘ سعودی عرب‘ ایران‘ شام‘ عراق اور ترکی مسلمانوں کے مقدس ملک ہیں‘ سعودی عرب اور ایران میں پردہ بھی لازم ہے‘شراب‘جواء اور زنا پر بھی پابندی ہے اور ان دونوں ملکوں میں ناچ گانے کی

محفلیں بھی نہیں ہوتیں‘ دونوں ملکوں میں سرکاری سطح پر پانچ وقت نماز کی پابندی بھی کرائی جاتی ہے لیکن کرونا نے ان دونوں ملکوں کا کیا حشر کر دیا؟ آپ شام‘ عراق اور ترکی کے حالات بھی دیکھ لیجیے‘ یہ پانچوں ملک ہر لحاظ سے ہم سے بہتر ہیں لیکن یہ اس کے باوجود کرونا کاشکار ہوئے اور ابھی تک اس سے نکل نہیں پا رہے۔یہ اب تک تاجکستان کو بھی زمین بوس کر چکی ہوتی اور یہ پانامہ‘ کولمبیا

اور بولیویا جیسے بے حیاء ملکوں میں بھی کنٹرول نہ ہو رہی ہوتی‘ یہ تینوں بے حیاء ملک بھی عن قریب کرونا فری ڈکلیئر کر دیے جائیں گے اور فرانس اور سپین بھی مئی کے دوسرے ہفتے میں کھلنا شروع ہو جائیں گے لہٰذا مہربانی فرما کر ہمیں ہمارے گناہ یاد کرا کے نہ ڈرائیں‘ ہم پہلے ہی سہمے اور مرے ہوئے لوگ ہیں‘ہمیں مزید نہ ماریں‘آپ ایک لمحے کے لیے رک کر یہ بھی سوچ لیں‘ وبائیں اگر دعاؤں اور

ایمان دار قیادتوں سے رک سکتیں تو مکہ اور مدینہ میں کر فیو نافذ نہ کرنا پڑتا۔مزارات کو تالے نہ لگانے پڑتے اور ویٹی کن سٹی اور دیوار گریہ بھی بند نہ ہوتی‘ ہم انسان بے شک گناہ گار ہیں اور ہمیں ہر لمحہ اپنے گناہ یاد کر کے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے خواہ کوئی وبا ہو یا نہ ہو لیکن خدا را‘ خدا را کرونا کو ہمارے گناہوں کے ساتھ نتھی نہ کریں‘ ہم مرے ہوئے لوگوں کو مزید نہ ماریں‘ ہم بے حیاء اور بے ایمان لوگوں کو مارنے کے لیے زندگی ہی کافی ہے‘ آپ اس ظلم میں شامل نہ ہوں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر