پاکستانیو ںبہت بڑی خوشخبری آگئی ، کرونا وائرس کوشکست دے کر بڑی تعداد میں مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو چلے گئے ، تازہ اعدادو شمار جاری

سوشل میڈیا‎‎

لاہور( این این آئی )صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاہے کہ کورونا وائرس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 1380 مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 75ہزار سے زائد تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث کل اموات کی تعداد 95ہوچکی ہے اور 22مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا وائرس کے اب تک کنفرم مریضوں کی تعداد 5730ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر)محمد عثمان یونس اور سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بیرسٹر نبیل احمد اعوان بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہاکہ کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور گجرات ہیں۔ جی ٹی روڈ سے منسلک شمالی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد زائرین اور تبلیغی اجتماع سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔ پنجاب میں لیول 3کے 7لیبز فعال ہوچکے ہیں جن میں ملتان، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان کو بھی شامل کر دیاگیا ہے۔ ہم نے کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی صلاحیت اتنی بڑھا دی ہے کہ انشا اللہ روزانہ کی بنیاد پر 4سے 5ہزار سے زائد ٹیسٹ ہوسکیں گے۔ اب ہمیں اوورآل صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مختلف نوعیت کی ٹیسٹنگ کرنا ہوگی۔لمز، ہاورڈ یونیورسٹی، MITاور ییل کے اندر طبی ماہرین سے مشاورت کرکے وبا کے پھیلا کو روکنے اور آئندہ حکمت عملی وضع کرنے پر غور کیا جار ہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہاکہ ہم سمال ٹیٹسنگ کے عمل کا آغاز کر رہے ہیں۔ حکومت کسی بھی مشتبہ مریض کے تشخیصی ٹیسٹ کی قیمت 4سے 5ہزار روپے

برداشت کر رہی ہے۔کیونکہ فی کس ٹیسٹ کِٹ کی پرائیویٹ قیمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک الیکٹو ٹیسٹنگ نہیں کر رہا۔ صوبائی وزیر صحت نے کہاکہ کچھ مخصوص علاقوں کے کچھ گھروں کی سیمپلنگ بھی کی جائے گی۔ میڈیا ہاسز اور دارالامان میں بھی سمارٹ سیمپلنگ کی جائے گی۔حکومت ابھی تک مریضوں کو تشخیصی ٹیسٹوں کی مفت سہولت فراہم کر رہی ہے۔ چغتائی لیبز پہلے 100ٹیسٹ آدھی

قیمت جبکہ بحریہ لیبز والے بھی رعایتی نرخوں پر کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے نجی سیکٹر کو بھی تشخیصی ٹیسٹوں کی قیمت کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو حفاظتی سامان بروقت مہیاکیاگیا ہے۔ تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو حفاظتی کِٹس کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا گیا ہے۔ہر وائس چانسلر، پرنسپل،

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور سی ای او ہیلتھ کو حفاظتی سامان میں کمی کے باعث مزید سامان خریدنے کیلئے اضافی رقم دی گئی ہے۔ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ کورونا وائرس کا علاج کرنے والے تمام ڈاکٹرز کو ایک مہینے کی اضافی تنخواہ ملے گی۔ کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں جان کی

بازی ہارنے والے ڈاکٹر کو شہید کا درجہ دیا جائے گا۔ 2 سے 16 گریڈ تک ہیلتھ عملہ کے لئے حکومت کی جانب سے 4 ملین اور 17اور اس سے اوپر گریڈ کے ہیلتھ پروفیشنلز کے لئے 8 ملین کا پیکج دیا گیا ہے جس کی منظوری کیبنٹ کمیٹی نے کی ہے۔ الحمد اللہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی نوے فیصد تعداد معمولی علامات کے ساتھ زیر علاج ہیں اور بہت کم تعداد تشویشناک حالت میں جاتے ہیں۔

کورونا وائرس کے باعث اموات ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد 50 سال سے 70 سال کی عمر کے مریضوں کی ہے۔ 90 فیصد مریض پہلے سے ہی کسی بیماری میں مبتلا تھے۔ ہماری نوجوان نسل قوت مدافعت زیادہ ہونے کے بعد اس وبا سے بہت کم متاثر ہو رہی ہے۔ پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے لئے ہسپتالوں کو مختص کر رکھا ہے۔ ہر روز کورونا وائرس کے حوالہ سے

صورتحال بدل رہی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آئندہ پنجاب میں سب سے زیادہ بین الاقوامی فلائٹس لینڈ کریں گی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے تحفظات دور کرنے کے لئے حال ہی میں وزیرقانون کی زیرصدارت 18اپریل کو اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ اداروں کے افسران موجود تھے۔ مختلف ڈاکٹرز کی ہلاکت کی

تحقیقات جاری ہیں۔ تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو حفاظتی سامان مہیا نہ کرنے کا الزام بھی بے بنیاد ہے۔ ملتان سے کورونا وائرس کا شکار 27 ڈاکٹرز صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے میں خلل ڈالنے والے ڈاکٹرز کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ہڑتالی ڈاکٹرز کے تمام تر جائز مطالبات کو مان لیا گیا ہے۔ پانچ ماہ قبل ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف ایکشن لینے کے بعد

عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ کسی بھی ادارے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والے ملازمین کو نوکری سے برخاست کرنے کے بعد واپس اداروں میں نہیں رکھا جاتا۔سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر)محمد عثمان یونس نے اس موقع پر کہاکہ سمارٹ سیمپلنگ کا آغاز بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں سے ہوگا۔

ان افراد میں ایران سے آنے والے مسافر، تبلیغی اجتماع سے تعلق رکھنے والے افراد، بیرون ممالک سے آنے والے اور عام شہری شامل ہیں۔ تمام قرنطینہ مراکز میں سمارٹ سیمپلنگ کے بعد متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرکے افراد کے تشخیصی ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ اس سمارٹ سیمپلنگ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ کن مزید علاقہ جات یا سرگرمیوں پر پابندی لگانی ہے۔ پورا شہر بند کرنے کی بجائے سمارٹ لاک ڈان کی

آپشن بارے سوچا جا رہا ہے۔ سمارٹ سیمپلنگ کیلئے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ایسے تمام سیکٹرز کی سمارٹ سیمپلنگ ہوگی جو سب سے زیادہ معمول کی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں، جن میں ڈاکٹرز، میڈیا، فیکٹریز وغیرہ ہیں۔ کنٹیکٹ ٹریسنگ کے نتائج میں کورونا وائرس سے متاثرین کے اعداد و شمار کا جائزہ لیاجائے گا۔سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بیرسٹر نبیل احمد اعوان نے

اس موقع پر کہاکہ تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو مہیا کئے جانے والے حفاظتی سامان کے اعدادوشمار عوام سے شیئر کر دیئے گئے ہیں۔ مشکل وقت میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کرنے والے تمام ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف، صفائی کرنے والے اور سکیورٹی عملہ کے شکرگزار ہیں۔پنجاب کے مختلف میڈیکل ٹیچنگ ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے 1844مریض زیر علاج ہیں۔ ان مریضوں میں

سے صرف 87مریض نجی ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ 427مریض محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز جبکہ 1333مریض 23مختلف میڈیکل ٹیچنگ ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ تمام داخل مریضوں کی بہترین دیکھ بھال جاری ہے۔ تمام ہیلتھ پرفیسرز فرنٹ لائن سولجرز ہیں۔ ہم تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے

اب تک محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو 5.174ارب روپے مہیا کئے ہیں۔ جس رقم میں سے اب تک 96کروڑ روپے کو 46 میڈیکل ٹیچنگ سہولیات میں تقسیم کر چکے ہیں۔ مریضوں کی تعداد کے تناسب سے فنڈز کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ اب تک میڈیکل ٹیچنگ ہسپتال کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ 96کروڑ روپے میں سے یہ ہسپتال اب تک 40 کروڑ روپے خرچ کر چکے ہیں اور باقی رقم ان کے اکانٹس میں موجود ہے۔ گزشتہ 25 ایام میں 15کروڑ روپے کا حفاظتی سامان خرید کر ہیلتھ پروفیشنلز کے درمیان تقسیم کیا جا چکا ہے۔ تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو حفاظتی سامان دستیاب ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر