سندھ میں کرونا سے اب تک ایک روز میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں گزشتہ 24گھنٹوں میں کتنے نئے مزید کیسز سامنے آگئے ، تشویشناک خبر آگئی

سوشل میڈیا‎‎

کراچی(این این آئی)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ بدھ کوسندھ میں کوروناکے 404 کیسز سامنے آئے ہیں۔200مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ 8 مریض انتقال کرگئے ہیں۔گزشتہ24گھنٹوں کے دوران سندھ میں مزید 3729 کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ سندھ میں اب تک 51790 کورونا کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں مراد علی شاہ نے

صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں کل تک سندھ میں 5291 مثبت کیسز تھے۔ سندھ میں کورونا کے 5659 کیسز ہوچکے ہیں، یہ کل ٹیسٹ کا 11 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اب تک سندھ میں 1161 مریض صحتیاب ہوئے ہیں یہ کل تعداد کا 20.5فیصد ہے جبکہ کورونا کے باعث کل اموات 100 ہوگئی ہیں۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ ہمارے پاس 4426مریض زیرعلاج ہیں۔ کورونا کے 3187مریض گھروں میں آئیسولیٹ ہیں، 762 مریض آئیسولیشن مراکز اور 477 اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔36 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 18 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔کراچی میں کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں کورونا وائرس کے 332 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔کراچی کے ضلع جنوبی میں 113، ضلع شرقی میں 100 اورضلع وسطی میں 39 کورونا کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ کورنگی میں 37، ضلع غربی میں 26 اور ملیر میں 17 کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ سندھ کے دیگر شہروں میں نئے کیسز کی تعداد 72 ہے۔مراد علی شاہ کے مطابق سکھر میں 14، لاڑکانہ اور خیرپور میں 13-13، شہید بینظیرآباداور شکارپور میں 7-7 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ کراچی میں بیرون ممالک سے 2 پروازیں 505 مسافر وں کو لے کر پہنچیں ہیں۔ جن میں سے 69 مسافروں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ 39 کا نتیجہ آنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے تارکین وطن میں سندھ کے 21 فیصد اور 70 فیصد کا تعلق دیگر صوبوں سے ہے۔وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ سندھ میں کچھ کاروبار اور کچھ آن لائن دکانیں کھول دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم صوبے میں مزید 2 لیب قائم کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ لاڑکانہ اور کراچی یونیورسٹی میں بھی ٹیسٹ کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر