ریسرچ سینٹر میں کون سے چھ نکات پر ریسرچ کی جا رہی ہے؟ کرونا وائرس کے حوالے سے آئندہ 4 سے 5 ہفتے انتہائی حساس قرار، پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر نے انتہائی اہم حقائق سے پردہ اٹھا دیا

سوشل میڈیا‎‎

راولپنڈی(آن لائن) راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر نے کورونا وائرس کے حوالے سے آئندہ 4سے5ہفتے انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر میں 6طرح کی تحقیقات کی جارہی ہیں جن میں ادویات، وفات پانے والے افراد کو کورو نا لگنے کی وجہ، وفات پانے والے افراد، ان کا کونسا حصہ زیادہ متاثر ہوتا ہے سمیت6نکات پر ریسرچ کی جا رہی ہے

پنجاب حکومت نے بطور ایمرجنسی سروس 200 کے قریب ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھرتی کئے ہیں جنہیں یونیورسٹی میں باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے ہنگامی حالات میں ضلع راولپنڈی کے ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکل سٹاف ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ضلع بھر میں کورونا کے متاثرہ مریضوں کے ٹیسٹ ہولی فیملی ہسپتال میں خود کر رہے ہیں جس کا رزلٹ 24گھنٹے میں موصول ہو جاتا ہے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر و سربراہ الائیڈ ہسپتا ل راولپنڈی ڈاکٹر محمد عمر نے روزنامہ جناح سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح ہمارا ملک بھی کورونا وائر س وبا کی لپیٹ میں ہے اور راولپنڈی میں موجودہ وقت میں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، تینوں الائیڈ ہسپتالوں سمیت فیلڈ ہسپتالوں میں کورونا وائرس کیراولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور بے نظیر بھٹو ہسپتال سمیت نجی ہسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد171 ہوگئی 108 کی حالت بہتر جبکہ 6 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 4 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اور اسکی تحصیلوں میں قائم قرنطینہ مراکز میں 1200 افراد داخل ہیں جبکہ 262 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں اسکریننگ کے بعد 247 افراد کو قرنطینہ مراکز سے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ 107 افراد گھروں میں قرنطینہ کئے گئے ہیں ڈاکٹر عمر نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد40سے 60 سال کی عمر کے درمیان ہوتے ہیں

جبکہ بیماری کی شدت ان میں زیادہ ہوتی ہے جو دوسری بیماریوں کا شکار بھی ہوتے ہیں راولپنڈی ریجن میں موجودہ مریضوں کی تعداد 2گنا بڑھ جانے پر بھی سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں جبکہ تعداد 2گناہ سے بھی زیادہ بڑھنے کی صورت میں راولپنڈی کے بہترین پرائیویٹ ہسپتال رابطے میں ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکے گا انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے کی گئی پیش گوئی کے مطابق آئندہ 4سے 5ہفتے پاکستان کے لئے انتہائی حساس ہیں

اس حوالے سے راولپنڈی ریجن میں موجودہ مریضوں کی تعداد 2گنا بڑھ جانے پر بھیسرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں جبکہ تعداد 2گناہ سے بھی زیادہ بڑھنے کی صورت میں راولپنڈی کے بہترین پرائیویٹ ہسپتال بھی رابطے میں ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکے گا ڈاکٹر محمد عمر نے کہا ہے کہ 26 فروری کو پاکستان میں پہلا متاثرہ مریض سامنے آیا جس کے بعد ملک کے تمام ہسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی200 سے زیادہ ممالک متاثر ہیں لاکھوں افراد زندگی ہار چکے ہیں

پاکستان میں بھی 13 ہزار سے زیادہ کنفرم کیس ہیں انہوں نے کہا کہ مشاہدہ کے طابق زیادہ متاثرہ افراد چالیس سے ساٹھ سال کی عمر کے درمیان ہوتے ہیں اور ان میں بیماری کی شدت زیادہ ہوتی ہے جو دوسری بیماریوں کا شکار بھی ہوتے ہیں دیگر بیماریوں کے ساتھ راولپنڈی ریجنل نے کرونا سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے بہترین سہولیات کی تیاری کر رکھی ہے وائرس بڑھ جانے کی صورت میں انہیں پرائیویٹ ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جائے گا سرکاری اسپتالوں میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بطور ایمرجنسی سروس پنجاب حکومت میں 200 کے قریب ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھرتی کرنے کا اختیار دیا ہے

جنہیں یونیورسٹی میں باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر میں 6 طرح کی تحقیقات کی جارہی ہیں جن میں ادویات، وفات پانے والے افراد کو کورو نا لگنے کی وجہ، وفات پانے والے افراد، کونسا حصہ زیادہ متاثر ہوتا ہے اس پر ریسرچ کی جارہی ہے اس وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے اس کی علامات 4 سے 5 روز میں ظاہر ہوتی ہیں اوراگلے6 سے 7 روز صحت یاب ہونے میں لگتے ہیں 95 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں راولپنڈی میں کوئی ڈاکٹر اور نرس وائرس سے متاثرہ نہیں ہے ڈینگی کا مسئلہ جولائی، اگست میں ہوتا ہے ڈینگی سے نمٹنے کے لیئے پہلے سے جاری ایس او پیز پر کا م ہو رہا ہے اور اس حوالے سے ہماری تیاری مکمل ہے کورونا وائرس کی وجہ س سرویلینس ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ضرور ہے لیکن اس پر کام ہو رہا ہے ناردن پنجاب میں گرونا کی ٹیسٹنگ خود کر رہے ہیں جو 24 گھنٹے میں رپورٹ دیتے ہیں ایک ہفتہ قبل یہ کام شروع کیا تھا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر