امریکہ میں موجود 1200 پاکستانیوں کی وطن واپس کی خواہش،دوسرے ممالک نے اپنے قونصل خانے شہریوں پر بند کر دیئے جبکہ پاکستان نے قونصل خانہ بند نہ کر کے مثال قائم کر دی 

سوشل میڈیا‎‎

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے اسپیشل فلائٹس کے معاملے پر امریکہ میں ہمیں غیر معمولی صورتِ حال کا سامنا ہے، جسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بات امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے امریکی ٹی وی سے خصوصی گفتگومیں کہی ،اسد مجید خان نے کہا کہ ایسے تمام پاکستانی جو وطن واپس جانا چاہتے تھے ان سے ایمبیسی نے فرداً فرداً رابطہ کیا ہے۔ اور ایسے افراد کی ایک جامع فہرست موجود ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ امریکہ سے پاکستانیوں کی واپسی کے حوالے سے کچھ تاخیر ہوئی ہے۔ لیکن، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ اور ایمبیسی اس معاملے پر

مسلسل کام کر رہے ہیں اور اسپیشل فلائٹس کا آپشن موجود ہے، جس پر پاکستان کی قومی ایئر لائین پی آئی اے کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔امریکی حکومت اور محکمہ خارجہ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ ابھی تک سفارت خانے کو کسی غیر معمولی مدد کی ضرورت کا معاملہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی امریکہ میں اسپیشل فلائٹس لانے کے لیے کلیئرنس کی ضرورت ہے اور امریکی حکومت اس بات کی حمایت کرتی ہے۔ ایمبیسی اس سلسلے میں بہت سا وقت اور توانائی صرف کر رہی ہے۔ اسلام آباد بھی اس بارے میں فوکسڈ ہے۔ اس میں امریکہ کے حوالے سے خاص طور پر ہمیں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اور ہم اس کو ریزالو کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔سفیر نے مزید بتایا کہ اس وقت گیارہ سو سے بارہ سو تک ایسے پاکستانی ہیں جو واپس وطن جانا چاہتے ہیں، لیکن اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ قطر ایئرویزکی بکنگ پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے ہو رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قطر ایئرویز خود ہی ہوائی سفر کی ٹکٹ کی قیمت مقرر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسی لیے پی آئی اے کی سپیشل فلائٹ لانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ پاکستانی کم خرچے میں وطن واپس لوٹ سکیں۔امریکہ میں کووڈ نائینٹین کی ایمرجنسی کے دوران پاکستانی سفارت خانے کی مصروفیات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں دوسرے ملکوں نے اپنے اپنے قونصلیٹ بند کر دیے تھے۔ پاکستان نے ایک دن کیلئے بھی اپنا قونصل خانہ بند نہیں کیا۔ اور وہ پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے اجرا اور پاور آف اٹارنی جیسے اہم کاغذات کی تصدیق کے لیے کام کرتے رہے۔سفیر کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایمبیسی نے لوگوں کو پاکستان کے حالات اور ان کے خاندانوں سے متعلق معلومات بھی مسلسل فراہم کی ہیں اور کمیونٹی کو آپس میں بھی رابطے میں رکھا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہونے والے پاکستانیوں کا کوئی ڈیٹا موجود ہے، تو سفیر نے کہا کہ اس پر بات کرنا مشکل ہے۔ تاہم، انہوں نے کئی ایسے پاکستانی امریکنز سے تعزیت کی ہے جن کے پیارے کرونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر