ویکسین کی تیاری تک ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہے،ٹیلی ہیلتھ پورٹل کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کا ڈاکٹرز کے نام خصوصی پیغام

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹروں کو وائرس کے خلاف اقدامات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک کورونا وائرس کی ویکسین تیار نہیں ہوتی ہم اس کے ساتھ گزرا کرنا ہے۔اسلام آباد میں ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب تک ویکسین نہیں ہے ہم اس وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہے، گزارا وہی قوم کرسکتی ہے جو سمجھتی ہو کہ مل کر مشکل وقت کا سامنا کرنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ پیسہ والے ممالک جن کے پاس ہمارے پاس ہمارے مقابلے میں بے تحاشا دولت ہے ان کے برے حالات ہیں، ان کی صحت کی سہولیات اس مشکل وقت کاسامنا نہیں کرسکتیں۔ان کاکہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم اپنے صحت کے نظام اور ہسپتالوں پر توجہ نہیں دے سکے تو ہمارے لیے زیادہ بڑا چیلنج ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب تک وائرس جس طرح پھیلا ہے، اس کا مقابلہ مغربی ممالک سے کریں تو وہ حالات نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمار ہسپتالوں میں ابھی تک وہ حالات نہیں ہیں جو ہم باہر کے ملکوں میں دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیں اس سال وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا اس لیے قوم جتنے بھی وسائل ہیں ان کے ساتھ پوری قوم مل کر مقابلہ کرے گی’۔ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ اس سے پہلے ہم نے پی ٹی وی پر ٹیلی اسکول شروع کیا تھا اور اس کو مزید وسعت دیں گے اور اب ٹیلی ہیلتھ شروع کیا ہے جس میں ڈاکٹرکو رجسٹر کریں اور خاص کر خواتین ڈاکٹروں کو رجسٹر کروانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خواتین ڈاکٹر گھر بیٹھے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی اس مشکل وقت میں مدد کر سکتی ہیں، جن کو صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں ہے اس لیے خاص کر خواتین ڈاکٹروں کو حصہ لینا چاہیے لیکن ڈاکٹر بھی رضاکارانہ کام کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹائیگر فورس میں بہت سارے ہیلتھ ورکرز نے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہوا ہے جو بڑی خوش آئند بات ہے،

برطانیہ نے جب رضاکار مانگے تو وہاں ڈھائی لاکھ لوگ آئے اور ہمارے ہاں اللہ کا شکر ہے کہ 10 لاکھ سے زیادہ رضاکار ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جب کورونا وائرس ختم بھی ہو ہمیں اس کی تب بھی ضرورت پڑگے گی کیونکہ ہمارے پاس ایسے علاقے ہیں جہاں پہنچنا مشکل ہے، پہاڑی علاقے ہیں، وہاں صحت کی سہولت اور ڈاکٹروں سے مشورے کا موقع نہیں ملتا اس لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ہم وہاں تک پہنچ سکتے ہیں، جو بہت مثبت چیز ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘تعلیم میں بھی دور دراز علاقوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم بھی دے سکتے ہیں، پھرہمارے ہاں ڈاکٹروں اور عوام کا تناسب بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں برا ہے جس کو ہم ٹیلی ہیلتھ سے پورا کرسکتے ہیں اور آج اس کا افتتاح کردیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘جیسے یہ سال گزرے گا تو ہمیں لگتا ہے کورونا کے کیسز بھی بڑھیں گے تو ہمیں اپنے ڈاکٹروں کی خدمات کی ضرورت پڑے گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر