قطرکے سابق امیرشیخ حمد کے لیبیا اور شامی نظام سے قریبی تعلقات کا انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

دوحہ (این این آئی )قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے لیبیا کے مقتول سابق مطلق العنان لیڈر معمر قذافی اور شامی صدر بشارالاسد کے نظام کے ساتھ قریبی تعلقات استوار تھے اور انھوں نے ان دونوں ممالک کو دوحہ کی جانب سے مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف ایک صوتی ریکارڈنگ سے ہوا ۔ یہ گفتگو شیخ حمد اور مقتول معمر قذافی اور قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کے درمیان ہوئی تھی۔اس آڈیو ریکارڈنگ میں شیخ حمد کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ایک چھوٹا ملک ہونے کے ناتے ہمیں بڑے ممالک ناپسند کرتے ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ

لیبیا ایسے ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ پھر عمان ہے اور اب شامی نظام (رجیم)۔اس گفتگو میں سابق قطری امیر نے شامی نظام کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ شام نے یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ خود پر کیسے انحصار کیا جاسکتا ہے۔ان کی اس بات کے جواب میں قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم یوں گویا ہوئے جہاں تک روابط کا تعلق ہے تواللہ کا شکر ہے کہ ان کے اور ہمارے درمیان سیاسی اور اقتصادی سطح پر بہت زیادہ روابط ہیں اور معاملات اطمینان بخش طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ہمارے درمیان قریب قریب مستقل ابلاغ ہے۔‎

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر