12 جون ڈی چوک میں دمادم مست قلندر ہو گا، دھماکہ خیز اعلان

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (آن لائن ) مختلف سرکاری اداروں کے یونینز راہنماؤں نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک بھر کی تمام سرکاری ملازمین کی یونینز ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہیں، اور ایک الائنس کونسل فار یونائیٹڈ یونینز اینڈ ایسوسی ایشن آف گورنمنٹ ایمپلائز پاکستان تشکیل دیا ہے، جس میں سیکرٹریٹ ایمپلائز کور کمیٹی، آل پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کمبائنڈ ایسوسی ایشن، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، پاکستان نیشنل سیونگز ایمپلائز یونین (سی بی اے)،

پاک پی ڈبلیو ڈی عظیم ورکرز یونین (سی بی اے)، نان ٹیچنگ ویلفیئر ایسوسی ایشن، پوسٹل یونین نوپ (سی بی اے)، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، سی ڈی اے لیبر یونین(سی بی اے)شامل ہیں، یہ الائنس حکومتی سطح پر سرکاری ملازمین کے مسائل کو اجاگر کرنے سمیت عملی جدو جہد کرے گا، اس موقع پر پریس کانفر نس سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹریٹ ایمپلائز کور کمیٹی کے رہنما رحمان باجوہ نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ایک ہی پے سکیل پر مختلف الاوئسز اور مراعات دی جاتی ہیں، ملازمین کو شدید مسائل کا سامنا ہے، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بجٹ میں کسی بھی قسم کا اضافہ کرنے سے پہلے پسے ہوئے ملازمین کو ترجیح دی جائے، آج فیڈرل ائمپلائز کی کور کمیٹی وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہے دو نہیں ایک پاکستان بنانے کا وعدہ پورا کیا جائے، ملازمین میں تفریق کاری ختم کرتے ہوئے تمام ملازمین کی تنخواہ اور مراعات یکساں کی جائیں،حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ سے پہلے تنخواہیں اور پے سکیل یکساں کیے جائیں،اگر بجٹ میں کوئی تعصب برتا گیا تو بارہ جون کو ڈی چوک پر احتجاج ہو گا، آٹھ جون سے احتجاج شروع کرنے جارہے ہیں، حکومت ہمارے تمام مسائل کو ترجیحاتی بنیادوں پر حل کرے ورنہ ڈی چوک میں 12 جون کو دھرنا دیا جائے گا اور ملازمین کی مانگوں کو پورا کرنے تک جاری رہے گا، تنخواہوں اور الاوئنسز میں اضافہ کے لیے حکومت توجہ دے، رحمان باجوہ نے مزید کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں ایک سو بیس فیصد اضافہ کا مطالبہ تھا،

صوبوں اور وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں بڑا خلاء ہے، ملازمین نے چند ماہ قبل اضافہ کے لیے احتجاج بھی کیا، جس پر ہمیں یقین دہانی کروائی گی کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا،مگر ابھی تک دعوے ہی ہیں،تمام یونینز اور ایسویشنز کی آواز وزیرا عظم پاکستان تک پہنچانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر وفاقی سیکریٹریٹ ملازمین، ایپکا، اے جی پی آر، پاکستان نیشنل سیونگز ایمپلائز یونین و دیگر یونین راہنماؤں نے مزید کہا کہ حکومت ملازمین کے الاونس اور تنخواہوں میں اضافہ کرے، 8 جون سے ہم اپنی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لیے اپنا احتجاج شروع کر دیں گے پانچ دس فیصد اضافہ سنا جارہا ہے لیکن ہمارا مطالبہ ایک سو بیس فیصد اضافہ کا ہے۔ بیس ہزار تنخواہ میں ملازم اس مہنگائی کے دور میں کیسے ماسک اور سینٹائزر خریدے،

حکومت نے ہمیں کوئی کروونا ریلیف فنڈ نہیں دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی ارشاد ایپکا نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا نعرہ تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان ہو گا، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کریں،نیشنل سیونگز ایمپلائز یونین کے رہنما محمد مبین اختر نے کہا کہ سرکاری ملازم بیس ہزار کی تنخواہ میں گھر کا چولہا جلائے یا ماسک اور سینٹائزرزخریدے، ملازمین کی کم تنخواہوں کے باعث ان کے اہلخانہ کو بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، بیس ہزار میں بمشکل وہ اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں ایسے میں سرکاری ملازمین کے بچے ایک خوشگوار زندگی کیسے گزاریں، نئے پاکستان میں ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق کا خاتمہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تمام مراعات یکساں کر دی جائیں، ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ ہمارے مکمل حقوق دیئے جائیں،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزارت خزانہ بجٹ سے پہلے مراعات کا اعلان کرے، ورنہ اپنے حقوق کیلئے 8 جون سے احتجاجوں کا سلسلہ شروع کریں گے اور 12 جون کو ڈی چوک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر