اپوزیشن کورونا اور ٹڈی دل کی یلغار کیخلاف اقدامات نہ اٹھانے پر حکومت پر برس پڑی، کتنے کروڑ پاکستانی کرونا سے متاثر ہو سکتے ہیں؟قومی اسمبلی میں دھماکہ خیز انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے حملوں پر حکومت پربرس پڑی،کورونا وائرس کے بعد بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوںکو واپس نہ لانے اور ٹڈی دل کے حملوں کی روک تھام کیلئے اقدامات نہ اٹھانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی و بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ جو فضائی آپریشن آپ نے شروع کیا اس میں بلوچستان کے لیے کتنی فلائٹس آئیں ،ایک بھی فلائٹ کوئٹہ کے لیے یو اے اییا مسقط یا سعودی عرب سے نہیں آئی انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ایک گھر میں دہشت گردوں نے حملہ کیا ،

ایک خاتون کو گھر میں گھس کر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور اس کی چار سالہ بچی کو بھی زخمی کردیا گیا ،معصومیت کی وجہ سے اس بچی کو یہ تک علم نہیں تھا وہ موت کی منہ سے واپس آئی ہے ،اس بچی کو یہ تک علم نہیں تھا کہ اس کی ماں کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ،ابھی تک کچھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو ابھی تک نہیں پکڑا گیا ،افسوس کی بات ہے کہ یہ نظام کی خرابی ہے ، ان افراد کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہوتی جن کی وزیروں مشیروں کے ساتھ تصاویر بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ کیوں بنائے جارہے ہیں،کئی علاقوں میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں وہ بھی ان ڈیتھ اسکواڈ کی کارروائی تھی،ریاست کی طرف سے ان ڈیتھ اسکواڈ کو مارنے کا لائسنس دیا گیا ہے۔کچھ ایسے ڈیتھ سکواڈ بنایا گیا ہے ، ان افراد کو سیاسی جدو جہد کرنیوالوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،کئی علاقوں میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں، کب تک بلوچوں کا یہ قتل عام جاری رہے گا ؟ میں ان کو را کا ایجنٹ کہوں یا موساد کا ؟ جنہیں قتل کرنے کا سرٹیفیکیٹ دیدیا گیا ہے ،انہیں کارڈز دیئے گئے ہیں کہ بغیر کسی شناخت کے چلے جائیں ،یہ کسی کے گھر میں جائیں، روڈز پر جائیں یا کسی کا قتل کریں، انہیں ریاستی لائسنس دیدیا گیا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران جمعیت علماء اسلام کے رکن اسد محمود نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو واپس لانے کے حوالے مختلف ائیرلائنز آفر دے چکی ہیں،اس حوالے سے بیٹھ کر سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے،قبائل کے اندر ہونے والی بدامنی کا بھی جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے،پٹرول سستے ہونے کے بعد جو صورتحال ہے ، لوگوں کو پٹرول دستیاب نہیں ہے،پٹرول پمپس پر لوگوں کی لائنیں ہیں، حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ائیرپورٹ اور پی آئی ہوٹل آؤٹ سورس کرنے پر وزیر ہوابازی پرسوں جواب دے دیں، جو ہمارے پاکستانی ملک سے باہر پھنسے ہوئے ہیں انکی واپسی کا پلان بھی دیا جائے،یو اے ای اور دیگر ممالک میں ہزاروں پاکستانی بے یارومددگار بیٹھے ہوئے ہیں،یہ کرونا کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جس روز پی آئی اے پر بحث ہونی ہے اس دن وزیر ہوابازی کے ہمراہ وزیر اوورسیز پاکستانی بھی ایوان میں آئیں،بتایا جائے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں،مسلح افواج اور دیگر ایئرلائنز کے جہاز لے کر ان کی واپسی کا بندوبست کیا جائے۔پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک میں ہزاروں پاکستانی قونصل خانوں کے باہر بیٹھے ہیں۔اس پر وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کا کہنا تھا کہ پرسوں طیارہ حادثے اور بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کروں گا۔وزیر مواصلات مراد سعید نے اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں کرفیو لگایا گیا،فروری کے آخر میں ائیرپورٹس بند ہو گئے،حکومت نے ان لوگوں کو ان کے ڈیروں پر راشن پہنچایا،یو اے ای، سعودیہ اور دیگر ممالک سے رابطے شروع کیے،ایک لاکھ بائیس ہزار سات سو پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں،اب تک 35 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو واپس لائے ہیں

، خیبرپختونخواہ حکومت نے قرنطینہ سینٹروں پر سہولیات بڑھا دی ہیں،وزیر اعلی سندھ بھی اسی طرح ہماری مدد کریں،بیرون ممالک سے میتیں لانے کا سلسلہ بھی جاری ہے،سعودی عرب سے 46 میتیں لائی گئیں ہیں۔ رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کورونا وائرس کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابھی تکجو ٹرینڈ سامنے آیا ہے اسکے مطابق پاکستان میں ہر چھٹا شخص کورونا کا شکار ہے،ابھی تک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ لوگوں کا کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ ہے،ہمیں اپنی ٹیسٹنگ استعداد کار کو بڑھانا ہوگا،سرکاری ملازمین جن کا عوام سے زیادہ رابطہ ہوتا ہے انکے فوری طور پر ٹیسٹ کیے جائیں،زیادہ تر لوگ کورونا کے خوف سے مررہے ہیں، ملک میں ذہنی صحت پالیسی کی ضرورت ہے، سائیکالوجسٹ عوام کو خوف سے باہر نہ نکالیں،ملک بھر میں ایجوکیشن سسٹم کو بحال کیا جائے۔رکن قومی اسمبلی محمد اسلم نے کہا کہ سندھ حکومت نے

صوبے کو قبرستان بنا دیا ہے،ہر جگہ غیر قانونی تعمیرات کی بھر مار ہے۔،کوئی ادارہ اس اہم ایشو پر بات تک نہیں کر رہا،پانی سب سے بڑا ایشو ہے لیکن کوء شنواء نہیں ہو رہی،بلڈنگ مافیا اور پانی مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فہیم خان نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لایا جائے ،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جیل میں کرونا پھیل جانے کی خبریں ہیں۔ امریکہ کے ساتھ امریکہ افغانستان جیسا معاہدہ کیا جائے جس کے تحت ڈاکٹر عافیہ باقی سزا پاکستان میں کاٹ سکے۔بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے کہا کہ بلوچستان کو محرومیوں کو بیٹھ کر سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا،سب کے سامنے ہے کوٹہ سسٹم میں بلوچستان کے ساتھ کیا ہوتا ہے،پچاس سال سوئی گیس کے لیے بلوچستان کی قربانی سب کے سامنے ہے،تربت واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،بلوچستان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو منفی تاثر زیادہ پھیلے گا،

کوئی واقعہ ہوتا تو ہمیں بلوچستان یاد آتا، بعد میں پھر بھول جاتے ہیں۔اقبال محمد علی نے کہا کہ عوام کہتے ہیں کہ صوبے ایس او پیز پر متفق نہیں ہیں،وزیراعظم کو چاہیے تمام صوبوں سے مل کر حکمت عملی بنائی جائے،سندھ میں اسپتالوں کی بہتری کے تو بہت دعوے کیے گئے مگر عمل کچھ نہیں ہوا،کے الیکٹرک کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا،کراچی میں پانی کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا،واٹر بورڈ کے افسران کے اثاثے چیک کیے جائیں،پورا رمضان ٹینکر مافیا کمائی کرتا رہا ہے،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نااہلی کے باعث عمارتیں گر رہی ہیں،ڈومیسائل کا ایشو آئے گا،جب نوکریاں آتی ہیں سندھ اربن اور رورل کا الگ کوٹہ ہوتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ ٹڈی دل پاکستان کے لئے بہت بڑا مسئلہ بننے جارہی ہے ،سندھ اور جنوبی پنجاب کے بہت سے اضلاع ٹڈی دل کی لپیٹ میں آچکے،اب ٹڈی لیہ بھکر میانوالی سے ہوتا ہوا ڈیرہ اسماعیل خان تک

بڑھتا نظر آرہا ہے۔ ٹڈی دل کے علاقوں میں کوئی جنرل نظر نہیں آرہا ہے۔اس پر وفاقی وزیر خوراک سید فخر امام نے کہا کہ ٹڈی دل کے نقصانات کی رپورٹس ابھی موصول نہیں ہوئی ،ٹڈی دل نوے میل فی دن سفر کرتا ہے ،حکومت جہازوں سے سپرے سمیت مختلف آپشنز استعمال کررہی ہے ،ٹڈی دل دوسو سے گیارہ سو تک فی کس پیدوار بڑھاتی ہے ،پہلے بیس سال سپرے جہاز تھے جو چار رہ گئے ،ایک ان میں سے گر کر تباہ ہوگیا ،چھ جہازوں کی خریداری کی تیاری ہوچکی ہیں ،پاکستان آرمی کے آٹھ ہیلی کاپٹرز اور آٹھ ہزار جون سپرے میں حصہ لے رہے ہیں۔ چین نے ساڑھے چار ملین ڈالر کا سامان ٹڈی دل کے خلاف دیا ہے ،چین ہمیں ٹڈی دل کے خلاف ڈرون بھی جلد دے رہا ہے۔

وفاقی وزیر خوراک سید فخر امام نے تھل کے علاقہ میں ٹڈی دل حملہ پر توجہ دلاؤ نوٹس قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایریل اسپرے کررہے ہیں،صحرا کے علاقہ میں ٹڈی دل کیخلاف ائیر کرافٹ کا استعمال کررہے ہیں،فصل پر ٹڈی دل آجائے تو ایریل کی بجائے گراؤنڈ آپریشن موثر ہوتا ہے،ٹڈی دل کے جتھے چار طرح کے ہوتے ہیں، اس کی رفتار 90 میل فی دن کی ہوتی ہے،ٹڈی دل کلوروفل کو کھاتی ہے،ہمارے پاس ائیر کرافٹ کم تھے، گزشتہ سال تین رہ گئے تھے اور ایک پائلٹ تھا،اب ہمیں 5 ہیلی کاپٹرز پاکستان آرمی نے دیے ہیں،ٹڈی دل کیخلاف 6 جہازوں کی منظوری ہوچکی ہے جو جلد آجائیں گے،پاکستان آرمی کے 8 ہزار افسران و جوان گراؤنڈ پر ٹڈی دل کیخلاف کام کررہے ہیں،

ین ہمیں مزید ڈرونزبھی دیگا،ابھی نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا گیا۔نوید قمر نے کہا کہ آج سے ایک سال پہلے پچھلے بجٹ تقریر میں آصف زرداری نے یہ ایشو اٹھایا تھا،ایک سال پہلے ٹڈی دل کا حملہ اتنا شدید نہیں تھا ،حکومت نے اس حوالے سے سنجیدگی نئیں دیکھا،حکومت نے فوڈ سیکوٹی کے تین وزرا تبدیل کیے لیکن معاملے کا حل نہیں نکالا ،پاکستان کی ہر فصل اور بڑے بڑے درخت ٹڈی دل کا نشانہ بنے، ہمیں فخر امام پر اعتماد ہے لیکن انہوں نے عملی اقدام شروع کرنے میں دیر کر دی ،اس وقت صدیاں پہلے ڈھول بجا کر ان کو بھگانے کا طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے،اب کو بہت ساری فصل تباہ ہو گئی ہے،حکومت اب بھی سپرے کرنے میں تاخیر کر رہی ہے،اب بھی ہمارے پاس

وقت ہے مختلف اضلاع میں سپرے کر کے نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے حکومت سنجیدگی دیکھائے،حکومت اس معاملے ایمرجنسی کے طور پر لے اور اس معاملے پر مذید سستی نہ کرے۔جبکہ حکومتی رکن ثنا اللہ مستی خیل نے ٹڈی دل کو کرونا سے بڑی وبا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں کہاں بن رہی ہیں ،کاشتکاروں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ،انہیں گرفتار کیا گیا ،ہم تو اپنے استعمال کی گندم رکھتے ہیں ،کاشتکاروں کی عزت کو تار تار کیا گیا ہے ،یہ کیا ہو رہا ہے ،کیا قومی اسمبلی ڈی بیٹنگ کلب ہے ،کاشتکاروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ باہر احتجاج اور دھرنا دیں ،ہم اللہ کی مدد اور اپنی طاقت اور عوام کے ووٹوں سے جیت کر آئے ہیں ،بھیک میں نہیں آئے ،ٹڈی دل پر قابو پانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں ،ٹڈی نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے ، کیا فیصلے آسمانی مخلوق نے نیچے آکر کرنے ہیں۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے

پٹرولیم مصنوعات پروضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دو روز کا پٹرول کا ذخیرہ موجود ہے ،مزید دو شپس بھی ملک میں جلد آجائیں گے ،ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ پٹرول پمپس پر جاکر چیک کریں ،جو منافع خوری یا پٹرول نہیں دے رہے انہیں سیل کیا جائے گا ،مصنوعی قلت کرنے والوں پر گہری نظر ہے ،لوگ عجلت میں پٹرولیم مصنوعات کی خریداری نہ کریں ،وزیر اعظم کا عزم ہے کہ مافیا کی کمر توڑیں گے۔ملک میں اس وقت پیٹرول کے 10 دن کے ذخائر موجود ہیں،آئندہ دو روز میں 65 ہزار میٹرک ٹن کی شپمنٹ ہوجائے گی،جو لوگ مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں پورے پاکستان ان کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں،وزیراعظم کا عزم ہے کہ ہم نے مافیا کو توڑنا ہے،ہم ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ خود جا کر پیٹرول پمپوں کو چیک کریں ،جو لوگ مصنوعی بحران پیدا کر رہے ہیں ان کے لائسنس منسوخ کرینگے،واضح کہہ رہا ہوں کہ ک میں پیٹرول،ڈیزل اور مٹی کے تیل کا کوئی بحران نہیں ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر