پاکستان میں کرونا وائرس بے احتیاطی کی وجہ سے پھیلا، قابو پانے کیلئے کتنے ماہ لگ سکتے ہیں ؟ معروف معالجین نے صورتحال واضح کر دی

سوشل میڈیا‎‎

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لوگوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا کی صورتحال بگڑ گئی،بیماری ڈاکٹرز میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے ، اس پر قابو پانے میں دو ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے ۔نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر ابرار اشرف نے کہا اس وقت پاکستان میں کورونا کا گراف پیک کی طرف گامزن ہے ، جب پاکستان میں لاک ڈاون کیا گیا تھا تو یہ گراف فلیٹ تھا ،

اب لوگوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا پھیل گیا ، کورونا کے واپس آنے میں مزید دو ماہ لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ماسک کا استعمال کریں اور سماجی دوری اختیار کرنی چاہئے ،ہمارے ہسپتالوں میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہ کورونا کے مریضوں کا مزید بوجھ برداشت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خود احتیاط اور احساس کرنے کی ضرورت ہے ۔ معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر اشرف ضیا نے کہا کہ اس وقت کورونا اپنی پیک کی طرف جا رہا ہے اور جو حالات پاکستان میں بن گئے ہیں، جون کے آخر تک یا جولائی کے شروع تک پیک رہے گی، اب صورتحال یہ ہو گئی کہ لوگ سڑکوں پر کورونا کو لیکر گھوم رہے ہیں، یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو خود بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ،ہمیں اپنی قوت مدافعت کو بہتر رکھنا ہو گا۔معروف معالج ڈاکٹر سلیمان کاظمی نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ابھی پاکستان میں کورونا کی پیک آنی ہے ،جیسے ہم نے سوچا تھا کہ کورونا بہت تیزی سے آئے گا، ایسا نہیں ہوا لیکن اب کرونا میں بہت تیزی آ گئی ہے ، ابھی ہم اگر 200 ٹیسٹ کرتے ہیں تو ان میں سے 30 سے 40 پازیٹیو آ رہے ہیں، جب 200 میں سے 170 پازیٹو آئیں گے تو تب کورونا کی پیک ہو گی۔ انہوں نے کہا ڈاکٹرز میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ، ڈاکٹرز بھی ڈر گئے ہیں، اگر ڈاکٹرز ڈر گئے تو علاج کون کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو ہسپتالوں میں آکسیجن مل رہی ہے ، آگے کے حالات ایسے نہ بن جائیں کہ لوگ آکسیجن کو بھی ترسیں، اس لئے سب سے بہتر احتیاط ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر