تیز گام حادثے میں 74 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے68 افراد کے لواحقین کوکتنے لاکھ فی کس رقم ادا کی گئی ، وزارت ریلوے نے تفصیلات جاری کر دیں

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز نے سیکرٹری ریلوے کی عدم شرکت پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان ریلویز کی طرف سے مسافروں اور محکمہ ریلوے کے

ملازمین کیلئے کرونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے علاوہ سینیٹر مشاہد اللہ خان کے 31 اکتوبر2019 کو پیش آنے والے تیزگام کے حادثہ کے نتیجے میں زخمیوں اور جاں بحق افراد کو دیئے گئے معاوضے کے حوالے سے عوامی اہمیت کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔ قائمہ کمیٹی نے کرونا وبا کی وجہ سے شہید ہونے والے افراد کیلئے دعائے مغفرت اور متاثرین کی جلد صحت یابی کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری ریلوے کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجو نے کہا کہ کرونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس وبا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہم سب کا فرض ہے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے اس کا بہترین علاج ہے۔قائمہ کمیٹی کو وزارت ریلوے کی طرف سے مسافروں اور ملازمین کی کرونا سے بچاؤ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے حکام نے تفصیلی آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرونا وبا کی وجہ سے 19 مارچ کو 5 مسافرٹرینیں بند کی گئیں۔20 مارچ کو 21 اور 31 مارچ کو تمام مسافر ٹرینیں بند کر دی گئیں۔حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے 20 مئی کو 15 ٹرینیں بحال کی گئیں اور یکم جون سے تمام مسافر ٹرینیں بحال کر دی گئیں تاکہ مسافروں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور اس کیلئے

متعدد حفاظتی اقدامات کیے گے جن میں سے ٹرین میں بیٹھنے کی 100 فیصد استعداد کو کم کر کے60 فیصد تک محدود کیا گیا۔ سیٹیوں کے درمیان 4 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا اور کل25ریلوے اسٹیشن کھولے گئے۔ ریلوے اسٹیشن میں صرف ٹکٹ والوں کا داخلہ رکھا اور مناسب سٹاف کو بلایا گیا۔ہر اسٹیشن میں میڈیکل سٹاف اور ٹرین میں ایک آئسولیشن ڈیپارٹمنٹ رکھا گیا۔ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر جرمانہ

عائد کر دیا گیا ہے اور رش سے بچنے کیلئے آن لائن بکنگ کرائی گئی ہے۔ ٹرین میں داخل اور نکلنے کیلئے علیحدہ دروازے مخصوص کیے گئے ہیں۔ٹرین میں کھانے کی سہولت بھی بند کر دی گئی ہے اور لوگوں کے روزگار کو مد نظر رکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر کچھ سٹال کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکرٹری ریلوے نے باہمی تعاون اور لوگوں کو وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے صوبوں کو

خطوط بھی لکھے اور صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت ریلوے کی طرف سے کرونا وبا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجوکے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کارگو سائیڈ پر بھی وہی ایس او پیز اختیار کیے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کارگو سائیڈ کی مزید مانیٹرنگ بہتر کرنے اور ایس او پیز پر

عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت ریلوے میں کرونا وبا کی وجہ سے تین افراد کی اموات ہوئیں اور 50 ملازمین کرونا وبا کا شکار ہوئے۔رکن کمیٹی سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے کہا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سبی سیکشن کی پیش رفت رپوٹ بارے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہاکہ کوئٹہ تفتان ٹریک پہلے سے بنا ہوا ہے اس پر ٹرین سروس فراہم کرنے

کے حوالے سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کیا جائے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے پر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے اور اس کیلئے مشاورت کی جار ہی ہے۔قائمہ کمیٹی نے کوئٹہ چمن ٹریک کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔سانحہ تیز گام کے متاثرین کو معاوضے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس حادثے میں 34 افراد زخمی ہوئے جنہیں 50 ہزار سے

3 لاکھ کامعاوضہ دیا گیا اور اس مد میں 2 کروڑ روپے دیئے گئے ہیں۔تیز گام حادثے میں 74 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے68 افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ فی کس کے حساب سے 10 کروڑ امداد دی گئی ہے اور صرف6 افراد کے لواحقین باقی ہیں جن میں سے 2 افراد کے لواحقین مل نہیں سکے اور 4 افراد کے لواحقین ضروری کاغذات دے کر امداد حاصل کر سکیں گے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر

محمد اسد علی خان جونیجونے کہا کہ محکمہ ریلوے نے بھی متاثرین کو امداد دینے کا کہا تھا اس پر کتنا عملدرآمد کیا گیا ہے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ لواحقین کولائف انشورنس کی مد سے معاوضہ دیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے نے امداد فراہم نہیں کی۔ چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات طلب کر لیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر