عمران خان حکومت کا دوسرا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا ،ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 5سے 10فیصد تک اضافے کا امکان

سوشل میڈیا‎‎

آباد ( آن لائن)وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال2020-21 کے بجٹ کی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں ، وزیراعظم عمران خان کی حکومت آج تقریباً 74کھرب روپے کا اپنا دوسرا بجٹ پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کرے گی ، جس میں 49کھرب 50ارب روپے تک کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھے جانے کا امکان ہے ۔جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 5سے 10فیصد تک اضافے پر کام کیا جارہا ہے ، وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی اقتصادی کونسل ( این ای سی ) نے موجودہ مالی سال کے 1500ارب کے ترقیاتی

پروگرام سے 12فیصد کمی کے ساتھ 1324ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی چکی ہے ، جس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام رواں سال کے 701ارب سے 7.3فیصد کمی کے ساتھ 650 ارب روپے اور صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 16فیصد کمی کے ساتھ 674ارب روپے تجویز کیا گیا ہے ، انسداد کورونا کے لیے 70 ارب روپے کے خصوصی منصوبے بھی اس کا حصہ ہیں ، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ موجودہ برس کے 350 ارب روپے کے مقابلے میں آئندہ برس کے لیے 337 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ سندھ نے رواں برس کے 279 ارب روپے کے مقابلے میں 41 فیصد کمی کے ساتھ آئندہ برس کی ترقیاتی اسکیمز کے لیے 165 ارب روپے مختص کیے ہیں، خیبر پختونخواہ نے 236ارب کے موجودہ ترقیاتی بجٹ میں 58فیصد کمی کرکے 100ارب روپے مختص کئے ہیں ، بلوچستان نے 109ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں 31فیصد کمی کرکے 75ارب رکھے ہیں ، آزاد کشمیر کیلئے 24.5ارب اور گلگت بلتستان کیلئے 15ارب کے ترقیاتی پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی کا ہدف 2.1تجویز کیا گیا ہے، جبکہ رواں سال جی ڈی پی گروتھ 3فیصد ہدف کے مقابلے میں منفی 0.4رہی ہے، زرعی شعبے کا ہدف 2.8 فیصد، صنعتی شعبے کا ہدف 0.1فیصد مقرر کرنے کی تجویز جبکہ سروس سیکٹر کا ہدف 2.6فیصد رکھنے کی تجویز ہے ، ذرائع کے مطابق تجارتی خسارے کا ہدف 7.1 فیصد مقرر کرنے اور کرنٹ اکاو?نٹ خسارے کا ہدف 1.6 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے ۔مالیاتی خسارہ بجٹ کے 7فیصد تک محدود کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے ، آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی 11 فیصد سے کم ہو کر 6.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،نئے مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ تقریباً 12فیصد اضافے کے ساتھ 1250ارب سے بڑھا کر 1400ارب روپے کئے جانے کی تجویز ہے ، جبکہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے 32کھرب 25ارب تک رکھے جانے کی تجویز ہے ، ذرائع کے مطابق حکومتی غیرترقیاتی اخراجات کم کرنے جبکہ آئندہ مالی سال میں سبسڈی کو مزید ٹارگٹڈ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔وسائل کی قلت کے باعث رواں سال بارہ سو ارب روپے تک خرچ ہونے کے امکانات ہیں اور متعدد اداروں کیلئے ترقیاتی فنڈز میں کمی تجویز کی گئی ہے ،، نئے مالی سال میں وفاق کی خالص آمدن کا تخمینہ 4 ہزار 200 ارب روپے ہو گا جبکہ خسارے کا تخمینہ 2 ہزار 896 ارب روپے لگایا گیا ہے، ذرائع کے مطابق سبسڈی کے لیے 260 ارب اور پنشن کے لیے 475 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے اگلے مالی سال وفاقی حکومت کے اخراجات 495 ارب روپے رہیں گے، آئندہ 3 سال میں برآمدات میں 30 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بارے میں مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے تاہم بجٹ ایوان میں پیش کرنے سے قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر