سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران "دماغ کی دہی" کے ریمارکس آخر کس نے دیے تھے؟ اور پھر کیا ھوا؟

جنرل خبریں

کراچی: سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کے ریمارکس پر شدید احتجاج کیا گیا جب کہ اس دوران اراکین نے “گو شہلا گو” کے نعرے بھی لگائے۔

 اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت اجلاس کے دوران مختصر ترین وقفہ سوالات کے بعد اسپیکر باہر چلے گئے جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا  نے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن وقار شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اندرون سندھ بااثر شخصیات اغوا برائے تاوان کی سربرپرستی کر رہے ہیں جس کے باعث ہندو برادری بھارت ہجرت کررہی ہے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سکندر شورو نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا امن و امان مشرف دور میں تباہ ہوا اور عسکریت پسندی ہی سب سے بڑا خطرہ ہے جو قیام امن میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اجلاس کے دوران گرما گرمی بڑھنے پر پیپلزپارٹی ارکین نے ایم کیو ایم ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لسی پلائی جائے جس پر ہنگامہ برپا ہوگیا اس پر مستزاد یہ کہ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایم کیو ایم اراکین کو پانی اور لسی پلانے کی پیش کش کردی جس پر متحدہ اراکین احتجاجا سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور “گو شہلا گو” کے نعرے لگائے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر