”جنرل باجوہ سے 40 سال پرانا تعلق ہے، کوئی پیغام لے کر نہیں گیا تھا“ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر محمد زبیر کا ردعمل بھی آ گیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاقاتیں خفیہ تھیں جن کا مقصد نوازشریف یا مریم نواز کے لئے ریلیف مانگنا نہیں تھا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قانونی معاملات عدالتوں میں جبکہ سیاسی معاملات پارلیمان میں حل ہونے بارے واضح کیا تھا،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے

طویل مدت سے تعلقات ہیں۔بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے میرے طویل مدت سے تعلقات ہیں۔اس طرح کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گفتگو میں نہیں کہا کہ میں نوازشریف یا مریم نواز کیلئے کوئی ریلیف مانگنے گیا تھا۔تاہم اسد عمر کے صاحبزادے کے ولیمے کی تقریب میں میری آخری ملاقات ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کا نمائندہ ہوں،مریم نواز کا کوئی پیغام لے کر نہیں گیا تھا۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں بھی میرا پہلا جملہ تھا کہ نہ اپنے،نہ پارٹی،نہ مریم نواز اور نہ ہی نوازشریف کیلئے ریلیف مانگنے آیا ہوں۔آرمی چیف سے ملنے کھانے پر گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے خلاف کوئی کیس نہیں چل رہا۔محمد زبیر نے کہا کہ میری اپنی جماعت مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے ایک واضح پوزیشن ہے۔ڈان لیکس،پانامہ پیپرز،نااہلی اورپھر اتنے کیسز بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب کئی گھنٹے کسی تقریب میں یا کسی جگہ پر ملاقات کریں گے تو مریم نواز اور نوازشریف کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہوگی۔ملاقات اور کھانے کے دوران سیاست پر بھی بات ہوتی ہے لیکن میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ترجمان پاک فوج کو یہ بات کیوں کرنا پڑی ہے۔ دوسری جانب ڈی جی

آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارکا کہناہے کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف سے دو ملاقاتیں کیں جن میں نواز شریف اور مریم نواز کے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی جی آئی ایس آئی کی موجودگی میں واضح کیا کہ قانونی معاملات عدالتوں جبکہ سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل ہو نگے دونوں بار

ملاقات محمد زبیر کی درخواست پر ہوئی۔ بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف نے انسداد پولیو مہم میں شرکت کی ہے انسدادپولیومہم کوروناوبا کے باعث 15 مارچ سے تعطل کا شکار تھی جو 20 جولائی سے دوبارہ شروع ہوچکی ہے مہم کے تحت 130 اضلاع میں تقریبا 32 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

ہیں اسی طرح 31 اگست سے شروع ہونے والی مہم کے دوران بھی 40 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ 2021 کے آخر تک پاکستان کو پولیو فری بنا دیں گے انسداد پولیو کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کی بل گیٹس بھی تعریف کر چکے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنگ کے حوالے سے ہماری تیاری بھارتی صلاحیتوں کے عین مطابق ہے

محدود وسائل کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے ٹینک وی ٹی فور کا مظاہرہ بھی دیکھا ہے ریجن میں ہونے والے حالات و واقعات اور بھارت کے جنگی جنون کے حوالے سے تیاریوں سے آگاہ ہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کی خبروں کے بارے میں سوال

کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے دو مرتبہ آرمی چیف سے ملاقات کی ہے پہلے ملاقات اگست کے آخری ہفتے میں جب کہ دوسری ملاقات سات ستمبر کو ہوئی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ملاقاتیں محمد زبیر کی درخواست پر ہی ہوئی جبکہ دونوں ملاقاتوں میں انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کے بارے میں ہی

بات چیت کی تھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں جو بھی بات چیت ہوئی تھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے محمد زبیر پر واضح کردیا تھا کہ تمام قانونی مسائل پاکستان کی عدالتوں میں حل ہوں گے جبکہ سیاسی مسائل کا حل پارلیمنٹ میں ہی ہوگا ان معاملات سے پاک فوج کو دور رکھا جائے واضح رہے کہ مریم نواز نے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کے کسی نمائندے کی عسکری حکام سے ملاقات کی تردید کی تھی جس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق سے مریم نواز کی جانب سے جاری تردید غلط ثابت ہوگئی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر