جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی بیرون ملک جائیدادوں کی مالیت 10 کروڑ سے زائد، جائز آمدنی کتنی تھی؟ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی حتمی رپورٹ میں انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن) ایف بی آر نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ٹیکس گوشواروں کے متعلق 250سے زائد صفحات پر مشتمل حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی جس کے مطابق سرینا عیسیٰ کی بیرون ملک جائیدادوں کی مالیت 10کروڑ 46لاکھ روپے جبکہ ان کی جائز آمدن صرف 2کروڑ 30لاکھ روپے تھی۔ ایف بی آر ساڑھے تین کروڑ روپے ٹیکس ادائیگی

کا نوٹس جاری کر چکا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 10رکنی بنیچ نے سرینا عیسیٰ کے خلاف ٹیکس معاملات کی تحقیقات 100روز میں مکمل کر کے رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ٹیکس گوشواروں کے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کوجمع کروائی گئی ہے جس کے مطابق ایف بی آر نے سرینا عیسیٰ کو 35ملین روپے ٹیکس واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سرینا عیسیٰ کی بیرون ملک جائیدادوں کی قیمت 10کروڑ 46لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ ان کے پاس جائز آمدن صرف دو کروڑ 30لاکھ روپے تھی۔ سرینا عیسیٰ کو ٹیکس کی ادائیگی کا نوٹس بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی حتمی رپورٹ 250سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ چند روز قبل ایف بی آر کی جانب سے ساڑھے تین کروڑ روپے کی ٹیکس ادائیگی کا نوٹس ملنے پر سرینا عیسیٰ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایف بی آر نے میرے موقف کو سنے بغیر فیصلہ کیا ہے زرعی اراضی کے علاوہ کلفٹن کراچی کے علاقے میں جائیداد کی فروخت سے حاصل شدہ رقم اور 2007سے 2012کے دوران ایک نجی سکول سے ملنے والی تنخواہ کو میری آمدن میں شامل نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ تین ماہ قبل جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے بیرون ملک اثاثے چھپانے کے متعلق صدارتی ریفرنس مسترد کردیا تھا لیکن ان کی اہلیہ کے خلاف ٹیکس معاملات کی تحقیقات سو روز میں

مکمل کرکے رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ اگر اس جائیداد کی خریداری میں جسٹس فائز عیسیٰ کا کوئی کردار ہوا تو سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ازخود نوٹس لے کر مذکورہ جج کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر