“Be Kind To Yourself”

سوشل میڈیا‎‎

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے گونجنے لگتے ہیں‘ یہ ہمارے گروپ کے زندہ دل ترین ممبر تھے‘ اقبال صاحب قہقہے کے ساتھ ائیر پورٹ پہنچے اور واپسی تک ہنستے اور ہنساتے رہے‘ یہ عطاءالحق قاسمی صاحب کے بعد میری زندی کے خوش گوار ترین بزرگ ہیں۔

مجھے یقین ہے قاسمی صاحب کی طرح اقبال صاحب بھی بزرگی کے ٹائٹل پر ناراض ہو جائیں گے کیوں کہ دونوں نے اپنی عمر کو 30 سال سے اوپر نہیں جانے دیا اور یہ جانے بھی نہیں دیں گے‘ میں نے اقبال صاحب سے ملاقات کے بعد فیصلہ کیا میرا بڑھاپا کم از کم جوانی کی طرح بور نہیں ہوگا‘ میں عطاءالحق قاسمی نہ بن سکا تو ان شاءاللہ سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ضرور بنوں گا‘ مجھے اقبال صاحب سے مل کر دوبارہ اپنی پرانی فلاسفی یاد آ گئی‘ دنیا میں لوگ اچھے یا برے نہیں ہوتے‘ دل چسپ یا بور ہوتے ہیں اور ہمیں زندگی میں دل چسپ لوگ چاہیے ہوتے ہیں‘ انسان بور مذہب اور بور دیوتا تک چھوڑ دیتا ہے‘ ہم تو پھر بھی انسان ہیں اور لوگ پسندیدہ اور ناپسندیدہ بھی نہیں ہوتے‘ یہ بس مختلف ہوتے ہیں۔ ہمارے ساتھ دو جج صاحبان بھی تھے‘ جسٹس یونس چودھری کیا شان دار انسان ہیں‘ ہر وقت خوش اور مطمئن‘ ہم جب بھی ترکوں کو ڈرانا چاہتے تھے تو ہم انہیں آگے کر دیتے تھے اور ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی پاکستانی عدلیہ سے صرف ہم نہیں ڈرتے ترکی کے لوگ بھی ڈرتے ہیں‘ جسٹس صاحب اس سے قبل مصر میں بھی ہمارے لیے یہ خدمات سرانجام دے چکے ہیں‘ ہم ان کا تعارف کراتے تھے تو بند دروازے بھی کھل جاتے تھے حتیٰ کہ مصری حکومت نے ہمیں قاہرہ میں اصلی فرعون تک بھی پہنچا دیا‘ ان کے ساتھ اس بار ایک ایڈیشنل سیشن جج بھی تشریف لائے تھے‘ یہ بظاہر خاموش انسان تھے لیکن ان کی آنکھوں میں ہر وقت ایک شرارت تیرتی رہتی تھی‘ یہ جب قہقہہ لگاتے تھے تو وہ طوفانی ہوتا تھا‘ ہمارا بحری جہاز باقاعدہ ڈولنے لگتا تھا۔

ہمارے ساتھ ممتاز صاحب اور ان کی بیگم بھی تھیں‘ یہ ایک منفرد خاندان ہے‘ ممتاز صاحب راولپنڈی میں ریفریشمنٹ سنٹر کے نام سے دیسی کھانوں کا برینڈ چلا رہے ہیں‘ برینڈ چلانا کوئی کمال نہیں‘ پاکستان میں ہزاروں لوگ یہ کام کرتے ہیں مگر ان کا اصل کمال ان کی بیگم ہیں‘ یہ انتہائی مذہبی ہیں‘ پردہ کرتی ہیں لیکن ہماری بہن نے پردے کے باوجود ریستوران پر بیٹھنا شروع کیا اور آج پورا کاروبار ان کے ہاتھ میں ہے‘ یہ نواسے نواسیوں والی ہیں لیکن ریستوران کے لیے خریداری سے لے کر سیل تک ہر چیز یہ خود ڈیل کرتی ہیں۔

یہ کاﺅنٹر پر بھی کھڑی ہوتی ہیں اور یہ کوئی چھوٹا موٹا ریستوران نہیں‘اس پر دو اڑھائی سو لوگ کام کرتے ہیں اور یہ پورے راولپنڈی اور اسلام آباد میں مشہور ہے‘ لوگ باقاعدہ لائنوں میں لگ کر خریداری کرتے ہیں‘ یہ خاتون پاکستانی خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں‘ یہ ثابت کر چکی ہیں کم تعلیم اور پردہ آپ کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا‘ انسان اگر کام کرنا چاہے یا ترقی کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی‘ ممتاز صاحب نے اپنے والدین کے بارے میں بتایا تو سب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

والد حافظ قرآن تھے‘ تلاوت کرتے ہوئے دکان پر آتے تھے اور سارا دن کام کے ساتھ ساتھ قرآن پڑھتے رہتے تھے‘ والدہ بیٹے کے لیے سموسے بناتی تھی اور ممتاز صاحب دکان پر کھڑے ہو کر یہ بیچتے تھے‘ کام یابی اور خوش حالی کی یہ ایک حیران کن داستان ہے‘ ممتاز صاحب اور ان کی بیگم کو آج بھی اردو نہیںآتی‘یہ دونوں دھڑلے سے پنجابی بولتے ہیں اور اپنے کام پر فخر کرتے ہیں‘ یہ خاندان کسی بھی طرح بل گیٹس یا والٹن فیملی سے کم نہیں‘ امریکا جیسے معاشرے میں ترقی کرنا آسان ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں پردے میں رہ کر اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے کاروبار کرنا بہت مشکل ہے اور یہ لوگ اس مشکل ترین راستے کے کام یاب ترین مسافر ہیں‘ یہ پاکستان کا اصل اثاثہ ہیں۔

ہمارے ساتھ ہری پور سے عبدالوحید اور ان کی فیملی بھی تھی‘ وحید صاحب نے 78 روپے سے کام شروع کیا تھا اور یہ آج چھ بڑے سٹورز کے مالک ہیں‘ اڑھائی سو لوگ ان کے ساتھ کام کرتے ہیں‘ ان کی مشکل زندگی اور کہانی نے بھی سب کو رلا دیا‘ یہ زندگی میں ایک بار بری طرح پھنس گئے تھے اور عرش سے فرش پر آ گئے تھے‘ مشکل کے اس دور سے انہیں صرف اللہ کی ذات نے نکالا تھا‘ یہ دن رات دعا کرتے تھے یا باری تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرما اور ہر بار ان کے اندر سے آواز آتی تھی تم ڈیپارٹمنٹل سٹور بناﺅ اور یہ کیا کام تھا ان کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا لیکن انہوں نے جس دن کام شروع کیا اسی دن اللہ کا کرم شروع ہو گیا۔

وحید صاحب نے سب کو یہ بتا کر حیران کر دیا ہم خریدا ہوا اور استعمال شدہ مال بھی واپس لے لیتے ہیں‘ ان کا کہنا تھا آپ کو ہر دکان پر لکھا ملتا ہے خریدا ہوا مال واپس نہیں ہو گا‘ صرف ہمارے سٹور ہیں جن پر لکھا ہے آپ خریدا ہوا استعمال شدہ مال بھی واپس کر سکتے ہیں‘ ہم نے ان سے پوچھا” آپ اس مال کا کیا کرتے ہیں“ یہ بولے” ہم وہ گھر لے جاتے ہیں اور خود استعمال کر لیتے ہیں مگر گاہک کو تازہ چیز دیتے ہیں یا پیسے واپس کر دیتے ہیں شاید اللہ کو ہماری یہ ادا پسند ہو لہٰذا ہم دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں“۔

ہمارے ساتھ کراچی سے دو نوجوان بہن بھائی بھی تھے‘ ان کی عمریں اٹھارہ انیس سال ہوں گی‘ بھائی ہر مسجد میں سامنے بیٹھ کر بہن کے جوتوں کے تسمے باندھتا تھا اور اپنے ہاتھ سے اسے کھانا کھلاتا تھا‘ ہم انہیں دیکھ کر کہتے تھے یہ کیا لوگ ہیں اور یہ کہاں سے اترے ہیں؟ کراچی کی ایک خاتون ہمارے ساتھ اکیلی سفر کر رہی تھیں‘ ان کی زندگی مشکل گزری‘ دس سال کی بچی ہے اور یہ ”سنگل پیرنٹ“ ہے لیکن مشکلات ان کے اندر سے انسان ہونے کی آگ نہیں بجھا سکیں‘ یہ پورے قد کے ساتھ مشکلوں کے سامنے کھڑی ہیں۔

عدیل ریاض اپنے والد ریاض صاحب کے ساتھ ایک بار پھر ہمارے ساتھ تھے‘ اس بار ان کا آٹھ سال کابیٹا بھی ہمارے ساتھ تھا‘ یہ بچہ جب اپنے ہاتھ سے اپنے دادا کو جوتے پہناتا تھا تو سب اس کی طرف رشک سے دیکھتے تھے‘ میں ریاض صاحب کی کہانی آپ کو سنا چکا ہوں‘ یہ مزدوری کرتے تھے‘ روڈ ایکسیڈنٹ میں بازو کٹ گیا مگر یہ اپنے ایک ہاتھ سے کام کرتے رہے‘عدیل ریاض بڑے صاحب زادے ہیں‘ میٹرک کے بعد انہوں نے فرش کی رگڑائی کا کام شروع کر دیا‘ پھر ایک دفتر میں صفائی اور ٹی بوائے کا کام شروع کیا‘ یہ سمجھ دار اور ذہین انسان ہیں‘ اپنا کام شروع کیا اور پھر قدرت نے سارے چھپر پھاڑ دیے۔

یہ اب صرف ایک کام کرتے ہیں‘ پیسے کماتے ہیں اور والد کو خوش رکھتے ہیں‘ میں نے مری میں لکڑی کے گھر بنانے شروع کیے تو سب سے اچھا اور مہنگا گھر انہوں نے خریدا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ان کے والد کو پسند تھا‘ یہ لوگ اب میرے ہمسائے بھی ہیں اور یہ روز میرا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن میں انہیں جب بھی دیکھتا ہوں میرے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور میں کہتا ہوں کاش میں عدیل صاحب کی طرح اپنے والد کی خدمت کر سکتا۔ہم قدم اور ہم خیال لوگ صرف لوگ نہیں ہیں‘ یہ اصل پاکستان ہیں‘ یہ لوگ خوف ناک سٹرگل کے بعد لوئر مڈل کلاس سے مڈل کلاس میں آئے ہیں اور یہ اب دنیا بھی دیکھنا چاہتے ہیں اور سیکھنا بھی۔

ہمارے گروپ کے زیادہ تر لوگ پہلے دن اپنا کمرہ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے ‘یہ ایک دوسرے سے گھلتے ملتے نہیں ہیں‘ ہم انہیں زبردستی دوسرے لوگوں کے ساتھ ٹھہراتے ہیں اور دوسرے دن یہ لوگ فیملی بن چکے ہوتے ہیں اور یہ قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں‘ قوالیاں اور گانے بھی سن رہے ہوتے ہیں اور ناچ کود بھی رہے ہوتے ہیں‘ یہ جس طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں یہ بھی حیران کن ہوتا ہے‘ ہم لوگ جب پاکستان سے جاتے ہیں تو ہم پاکستانی ہوتے ہیں‘ اکھڑے ہوئے‘ ناراض‘ پریشان اور مشکوک لیکن ہم جب واپس آتے ہیں تو ہم انسان بن چکے ہوتے ہیں۔

خوش‘ مخلص اور ہمدرد‘دنیا میں انسان کے ہر مرض کی دوا انسان ہوتے ہیں‘ شاید اسی لیے ہمیں بیماری کے عالم میںنرسز اورڈاکٹرز چاہیے ہوتے ہیں ورنہ علاج تو مشینیں اور کمپیوٹر بھی کر سکتے ہیں لیکن ہمیں ان سے جذباتی سہارا نہیں ملتا لہٰذا ہم انسانوں کی طرف دوڑتے ہیں‘ ہم انسان دوسرے انسانوں سے جتنا دور ہوتے جاتے ہیں ہم اتنا ہی ڈپریس‘ فرسٹریٹ اور بیمار ہوتے جاتے ہیں اور ہم جتنا دوسرے انسانوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ہم اتنے ہی صحت مند‘ خوش اور پرسکون ہوتے جاتے ہیں اور گروپ ٹورز میں انسان انسانوں سے ملتا ہے چناں چہ اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔

دلائی لاما نے کیا خوب کہا تھا ”انسان کو سب سے زیادہ اپنے ساتھ اچھا ہونا چاہیے“ ہم اپنے ساتھ جتنا اچھا ہوتے جاتے ہیں ہم اتنا ہی دوسروں کے ساتھ بھی اچھے ہوتے جاتے ہیں‘ میں اپنے سیشنز میں لوگوں کو بتاتا ہوں آپ اگر خود خوش‘ مطمئن‘ اچھے اور خوش حال نہیں ہیں تو آپ دوسروں کو خوش حال‘ مطمئن اور خوش نہیں کر سکتے‘ جذبے انسان کے اندر ہوتے ہیں اگر آپ کا اندر ہی خالی ہو گا تو آپ دوسروں کو کیا دیں گے لہٰذا اگر اچھا ہونا ہے تو پہلے اپنے ساتھ اچھے ہوں اور ہم اپنے ہر ٹور سے ہر بار یہ سیکھ کر آتے ہیں سو بی کائنڈ ٹو یورسیلف۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر