اکتوبر پاکستان کے لئے بہت اچھا ثابت ہو گا، چین نے پاکستان کو اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری سنا دی

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اہداف پورے کرنے کے لئے پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، یہ بات چین کے سفیر نے کہی، انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کا جائزہ اجلاس پاکستان کے لیے اچھا ثابت ہو گا، پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اہداف پورے کرنے کیلئے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔یاد رہے کہ چند دن قبل پارلیمنٹ

کے مشترکہ اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف کی لیک لسٹ سے بچنے کیلئے حکومت اہم قانون سازی کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ حکومت مشترکہ اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق تین اہم ترین بلوں سمیت کل آٹھ بلز منظور کروانے میں کامیاب ہوئی، چینی سفیر نے کہاکہ اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے دیے گئے اہداف پر پاکستان نے بہتر کام کیا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کا جائزہ اجلاس پاکستان کے لیے اچھا ثابت ہو گا۔ چینی سفیر کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اور چین دوست اور برادر ملک ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مثالی تعلقات اور تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ علاقائی ترقی کے لئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہو گا۔ واضح رہے کہ چند دن قبل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجو اپنی عددی برتری سے متعدد اہم آئینی بل منظور کرالئے تھے،جن میں اینٹی منی لانڈرنگ بل،وقف املاک کا بل،اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل اور سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل سمیت دیگر بل شامل ہیں،بلز کے حق میں 200ووٹ جبکہ مخالفت میں 190ووٹ پڑے۔اپوزیشن نے بلوں کی منظوری کے وقت ایوان میں شدید ہنگامہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے،چار بلوں پر اپوزیشن کی تمام ترامیمی تحاریک مسترد ہوگئی ہیں اوراب اینٹی منی لانڈرنگ بل قانون کی شکل اختیار کرگیا ہے

جس کے بعد پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا یقینی ہوگیا ہے۔عالمی برادری حکومت پاکستان سے مسلسل مطالبہ کر رہی تھی کہ منی لانڈرنگ کے سخت قانون بنائے جائیں تاکہ دہشتگردوں کو مالی امداد نہ مل سکے۔منی لانڈرنگ بل میں حالیہ ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کا قومی سرمایہ بیرون ملک منتقل نہیں ہوسکے گا۔اپوزیشن کے تمام بڑے رہنماؤں کے خلاف منی لانڈرنگ

کے الزامات ہیں۔مشترکہ پارلیمنٹ کا اہم اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں شہبازشریف،بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔ تاہم پیپلزپارٹی کے آصف علی زردار ی اور خورشید شاہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی بابر اعوان نے وقف املاک بل 2020 کی تحریک پیش کی گئی جسے اسپیکر

نے منظور کر لیا جس پر اپوزیشن نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔احتجاج کے دوران اپوزیشن کا موقف ہے کہ ان کے اراکین کو صحیح طریقے سے نہیں گنا جا رہا اور جلد بازی میں بل منظور کیا جا رہا ہے۔اسی ہنگامہ آرائی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی آغاز رفیع اللہ ان کی حکومتی اراکین کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر اور شیری رحمٰن اسپیکر

کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا جبکہ اپوزیشن نے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے ‘ووٹ کو عزت دو’ کے نعرے بھی بلند کیے۔اپوزیشن کے احتجاج پر اراکین کی دوبارہ گنتی کی گئی اور دوبارہ گنتی کے بعد بھی اسلام آباد وقف املاک بل پیش کرنے کی تحریک اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔تحریک کے حق میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ووٹ پڑے۔بعدازاں بل کی شق وار منظوری کا

عمل شروع کیا گیا لیکن اس دوران اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے رہے اور احتجاج ریکارڈ کراتے رہے جس پر اسپیکر نے دوبارہ گنتی کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔اپوزیشن کی جانب سے کئے گئے مطالبے پر اسپیکر نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو فلور دے دیا لیکن شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کو اظہار خیال کے لئے فلور دینے پر اعتراض کردیا۔ انہوں نے کہا کہ

جس نے ترمیم پیش کی ہو ایوان میں اسے ہی بات کی اجازت دی جاسکتی ہے، اگر بلاول بھٹو زرداری کی کوئی ترمیم ہے تو ضرور بات کریں۔ اس کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ میں ترمیم کا بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کیا جس پر اپوزیشن نے شدید شور شرابا اور ہنگامہ کیا،تاہم حکومت نے اکثریت کی بناء پر اینٹی منی لانڈرنگ بل مشترکہ اجلاس سے منظور کرالیا۔مسلم لیگ(ن) کے

شاہد خاقان عباسی نے اینٹی منی لانڈرنگ میں ترمیم کے خلاف تحریک پیش کی جو مسترد کردی گئی۔منی لانڈرنگ بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن نے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور ”سپیکر کو آزاد کرو“ ”پارلیمان کو آزاد کرو“ کے بلند شگاف نعرے لگائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس ممبر نے ترمیم بارے تحریک دے رکھی ہے وہ کارروائی میں بول سکتا ہے اور بلاول بھٹو نے اگر

ترمیم پیش کی ہے تو بول سکتے ہیں،اگر انہوں نے تحریک پیش نہیں کی ان کو بولنے کا کوئی حق نہیں،جس پر اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی۔جب اپوزیشن نے ہنگامہ کیا تو خیبرپختونخواہ سے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی پشتون قومیت والے ایم این اے نے عمران خان کے گرد حفاظتی گھیرا کرلیا اورعمران خان کی حفاظت کیلئے کھل کر سامنے آگئے۔عمران خان کی حفاظت کرنے والوں میں

ایک بھی پنجابی نہیں تھا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے شدید ہنگامہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے،اپوزیشن نے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے لگائے جس کے جواب میں حکومتی ممبران نے نعرے لگائے کہ ”ووٹ کو ٹی ٹی دو“ اور ”چورو کو ڈنڈا دو“ کے نعرے لگائے جبکہ اپوزیشن نے کہا کہ ”ڈونگی راجہ کی سرکار نہیں چلے گی“۔اپوزیشن نے کہا کہ سپیکر نے

یکطرفہ فیصلہ کیا ہے اوران کی رولنگ کو چیلنج کیا، جس کے بعد سپیکر نے ان کی تنقید مسترد کردی اور کہا کہ رولز کے تحت ایوان کا اجلاس چلا رہا ہوں۔اپوزیشن اور حکومتی اراکین ایک دوسرے پر طنزیہ جملے کستے رہے۔سپیکر کی رولنگ کو چیلنج کرنے کے لئے سینیٹر رضا ربانی و دیگر ممبران سپیکر کے ڈائس پر پہنچ گئے اور سپیکر کو رولز بارے آگاہ کرتے رہے،پھر رضا ربانی

نے فلور پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان اسمبلی میں بل پیش نہیں کرسکتے بلکہ ان پارلیمانی امور کے وزیر انچارج وزیراعظم ہیں،اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے بڑے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔رضا ربانی نے کہا کہ مشیر وزیراعظم تو رائے دے سکتے ہیں،انچارج وزیر نہیں۔ رضا ربانی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بل منسٹر انچارج

پیش کر سکتا ہے اور اس وقت پارلیمانی امور کے منسٹر انچارج وزیر اعظم پاکستان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو انہوں نے پچھلے ہفتے دی ہے اور اس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ معاون خصوصی اور مشیر وزیر نہیں ہیں، ان کے پاس وزیر کا اسٹیٹس تو ہو سکتا ہے لیکن وزیر کا اسٹیٹس ہونے اور وزیر کے کام

انجام دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہ بات عدالت کے اس فیصلے سے میل نہیں کھاتی کہ مشیر یہ تحریک پیش کر سکیں کیونکہ وہ ایک وزیر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ وزیر اعظم کا استحقاق ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو معاون خصوصی یا مشیر تعینات کر سکتے ہیں لیکن ان کا کام صریحاً وزیر اعظم کے کام میں ان کو مشورے اور

معاونت فراہم کرنا ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ وہ فیصلہ یہ بھی کہتا ہے کہ آئین میں ان پانچ مشیروں کے پاس یہ رعایت ہے کہ وہ ایوانوں میں بیٹھ سکتے ہیں اور بات کر سکتے ہیں لیکن وہ ووٹ نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ وہ فیصلہ یہ بھی کہتا ہے کہ مشیر و معاون خصوصی نہ وزیر کے ایگزیکٹو فنکشن انجام دے سکتے ہیں، وہ حکومتی ترجمان نہیں بن

سکتے، یہ استحقاق صرف وزیر یا وزیر اعظم کا ہے۔ اس موقع پر وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ مشیروں کے لیے آئین کا آرٹیکل 93 ہے جو یہ کہتا ہے کہ صدر، وزیر اعظم کے مشورے پر ایسی شرائط پر جو وہ متعین کرے، زیادہ سے زیادہ پانچ مشیر مقرر کر سکے گا جبکہ اس کی دوسری شق کہتی ہے کہ آرٹیکل 57 کے احکام کا کسی بھی مشیر پر بھی اطلاق ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل

وزیراعظم کسی وفاقی وزیر، کسی وزیر مملکت اور اٹارنی جنرل کو کسی بھی ایوان یا ان کے کسی مشترکہ اجلاس یا ان کی کسی کمیٹی میں جس کا اسے رکن نامزد کردیا جائے، تقرر کرنے اور بصورت دیگر اس کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہو گا لیکن اس آرٹیکل کی بنا پر ووٹ دینے کا حق نہیں ہو گا۔فروغ نسیم نے کہا کہ آئین کے تحت صرف یہ قدغن ہے کہ یہ ووٹ نہیں دے سکتے اور رضا

ربانی جس عدالتی فیصلے کی بات کر رہے ہیں وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے بارے میں ہے جبکہ جو بات رضا ربانی کہہ رہے ہیں، اگر وہ اس فیصلے میں لکھی ہوئی دکھا دیں تو میں ان کی بات مان جاؤں گا، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو یہ بات فیصلے کا حصہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب آئین یا قوانین میں کوئی ودغن لگائی جاتی ہے تو اس کے علاوہ کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی

کہ یہ بل پیش نہیں کر سکتے۔۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ مجھے بولنے کا حق نہ دیکر سپیکر نے خود کو غلام بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شق دو، شق 6 اور شق آٹھ میں میری ترامیم تھیں لیکن آپ نے مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا، آپ نے قوانین کو بلڈوز کیا اور آپ ایف اے ٹی ایف کی غلامی میں پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں۔سینیٹر مشتاق نے ترمیم پیش کی تو مشیر قانون بابر اعوان نے اس کی

مخالفت کی جس کے بعد اسے ایوان میں ووٹ کے لیے پیش کیا گیا اور ووٹنگ کی بنیاد پر ترمیم مسترد کردی گئی۔بل کے شق نمبر 14 میں دو ترامیم پارلیمانی سیکریٹری کنول شوزب نے پیش کیں جبکہ سینیٹر مشتاق احمد نے ایک اور ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ دستور کے خلاف قانون سازی کر رہے ہیں۔اسپیکر نے پارلیمانی سیکریٹری کی ترمیم ووٹنگ کے لیے پیش کی

جسے منظور کر لیا گیا جبکہ سینیٹر مشتاق احمد خان کی ترمیم کو ووٹنگ میں مسترد کردیا گیا۔سینیٹر مشتاق احمد نے شق نمبر 16 میں بھی ترمیم پیش کی جسے مشیر قانون کی جانب سے مخالفت کے بعد ووٹنگ میں مسترد کردیا گیا جبکہ ان کی جانب سے شق 21 میں ترمیم کی قرارداد بھی مسترد کردی گئی۔شق 25 کو خارج کرنے کی قرارداد پارلیمانی سیکریٹری کنول شوزب نے پیش کی جسے

منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کے اوپر پھینک دیں۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے کارروائی کا واک آؤٹ کردیا لیکن پارلیمنٹ میں حکومت کی جانب سے قوانین کی منظوری کا عمل جاری رکھا گیا۔ اینٹی منی لانڈرنگ بل کی منظووری کے بعد مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2019 مشترکہ اجلاس میں پیش کیا اور اسے بھی کثرت

رائے سے منظور کرلیا گیا۔ حکومت نے پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کے بعد اپوزیشن کی غیر موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ضمنی ایجنڈا کے تحت پاکستان میڈیکل کمیشن بل 2019 بھی منظوری کے لیے پیش کر دیا۔

یہ قانون بھی کثرت رائے سے منظور ہوگیا۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے معذوروں کے حقوق سے متعلق بل منظوری کے لیے پیش کیا۔ پارلیمنٹ نے اس بل کو بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر