مولانا فضل الرحمان نے بھی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کی، شیخ رشید کا تہلکہ خیز انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

فیصل آباد (این این آئی)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کرتے رہے ہیں،مولانا ون آن ون ملاقات کا انکار کریں میں تاریخ اور جگہ بھی بتاؤں گا، تمام لیڈر 16 کی رات کو جنرل باجوہ سے ملے ہیں اور اگر اس دن اگر یہ اپنے استعفے دے دیتے تو تبدیلی آ سکتی تھی۔میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ چار مہینے کا ٹائم آل پارٹیز کانفرنس نے دیا ہے اور چار مہینے کا ہی ٹائم میں نے 31 دسمبر تک دیا ہے، آپ ان کی حالت دیکھیے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج بیروزگاری، آٹے چینی کی قیمتیں اور مہنگائی اس لیے بڑھی ہے کیونکہ یہ چور لوٹ کر باہر لے گئے اور بلاول صاحب نے کل کہا ہے کہ اگر شیخ رشید ہو گا تو میں نہیں آؤں گا، یہ نہیں کہا کہ میں نہیں جاؤں گا۔شیخ رشید نے کہا کہ یہ قومی سلامتی کی بات کرتے ہیں، بلاول تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب میں قومی سلامتی کا رکن تھا، اپنی تاریخ پیدائش نکالو، میں غیرملکی امور کا چار مرتبہ رکن رہا ہوں، میں نوابزادہ نصراللہ کے ساتھ کشمیر کمیٹی کو لندن اور امریکا میں لیڈ کرتا تھا، اب امریکا نے مجھ پر پابندی لگائی ہے، اس وقت مجھ پر پابندی نہیں تھی۔انہوں نے بلاول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج آپ کی والدہ زندہ ہوتیں تو آپ کو بتاتی کہ شیخ رشید کس کا نام ہے، ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتا تو آپ کو بتاتا کہ شیخ رشید کس کا نام ہے، میں نے تنہا بنگلہ دیش پر لیاقت باغ میں ذوالفقار علی بھٹو کا جلسہ پلٹ دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ آپ نے تین دفعہ میرا نام لیا ہے، میں آپ کو جواب دے سکتا ہوں تاہم میں اخلاق کے دائرے کو عبور نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کس منہ سے قوم کو کال دیں گے، 16ہزار کے ملازم سے 9 ارب اور 17ہزار روپے کے ملازم سے تین تین ارب روپے منی لانڈرنگ نکل رہا ہے،

دیں اسمبلیوں سے استعفیٰ، ہم نئے الیکشن کرائیں گے، کل دیتے ہیں، آج کرائیں، قوم اور نئے امیدوار تیار ہے۔وزیر ریلوے نے دعویٰ کیا کہ یہ نہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیں گے، نہ دھرنا دیں گے، نہ عدم اعتماد لائیں گے کیونکہ فضل الرحمن نے کہا کہ ہم عدم اعتماد میں اسپیکر کے وقت ہارے، سینیٹ کے اسپیکر، وزیر اعظم، سینیٹ کے الیکشن، ایف اے ٹی ایف میں ہارے ہیں۔انہوں نے کہا کہ

میں نواز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کہتے ہیں کہ میں عمران خان کے خلاف نہیں ہوں، آپ فوج کے مخالف ہیں، اس جندال کے ساتھ ہیں، مودی کے ساتھ ہیں، اْس را کے ساتھ ہیں جن کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے لیکن آج پاکستان کی سلامتی کی ضامن پاک فوج ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ میں آج ذمے داری سے کہتے ہوئے فیصل آباد میں چیلنج کرتا ہوں کہ ہفتے

تک ٹی وی پر آ کر بتایا جائے کہ کونسا لیڈر سے کہتا ہے کہ وہ تنہائی میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے نہیں ملتا، کوئی پارٹی سربراہ مجھے آ کر بتائے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ فضل الرحمن اس ملک میں شیعہ سنی فساد کرانا چاہتے ہیں، اس ملک میں ختم نبوت کی بات کر رہے ہیں، ختم نبوت کا قانون ہم نے روکا، اس کے خلاف فضل الرحمن نے ووٹ دیا، ہم نے کہا کہ آپ نے ختم نبوت کے

خلاف کام کیا تو ہم عاشق رسول ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اسپیکر ایاز صادق سے کہا کہ جمعے سے پہلے پہلے ختم نبوت کے قانون کو ٹھیک کرو، انہوں نے جمعرات کو ٹھیک کیا اور میں میڈیا پر چیلنج کر رہا ہوں کہ فضل الرحمٰن کی جماعت نے ختم نبوت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے مجھے چیلنج کیا لیکن میں ہر شہر میں لیڈر کو ایکسپوز کروں گا،

یہ کہتے ہیں کہ ہم اس میٹنگ میں نہیں جائیں گے، پاکستان میں ٹی وی پر سب سے بڑی پارٹی شیخ رشید کی ہے، سب سے بڑی پارٹی عوامی مسلم لیگ ہے، ہماری روز کی 14، 14 کروڑ کی ریٹنگ ہوتی ہے، آپ ہزاروں کو کراس نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ میں میرے پاس ایک سیٹ ہے لیکن میں اکیلی سیٹ کا لیڈر ان پر الزام لگاتا ہوں کہ تم تنہائیوں میں ملتے ہو اور عوام کو دھوکا دیتے ہو۔وفاقی

وزیر ریلوے نے کہا کہ آج میں چارج شیٹ کرتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن نے قمر جاوید باجوہ سے ون ٹو ون ملاقات کی، اگر وہ غلط سمجھیں تو کسی چینل پر آ جائیں، میں وہاں جانے اور یہ بتانے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کہتے ہیں کہ ان کی قمر جاوید باجوہ سے بڑی رشتے داری ہے تاہم میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ 36سال سے زبیر کی قمر جاوید باجوہ سے

کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ میں مریم نواز کو بتانا چاہتا ہوں کہ محمد زبیر نے آرمی چیف سے ملاقات کے لیے خود وقت لیا، ایک ہفتے میں ڈی جی آئی ایس کی موجودگی میں ملاقات کی اور یہ آپ کا کیس لڑ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ 10 مہینے تک مریم نواز کا ٹوئٹر خاموش رہا، ایک سال تک نواز شریف کا منہ بند رہا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ ایسے حالات بن جائیں کہ شاید ہماری جان

بچ جائے تاہم عمران خان نے کہاکہ میں اقتدار چھوڑ سکتا ہوں لیکن نواز اور شہباز شریف کو کبھی این آر او نہیں دوں گا۔ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام رہنما 16 تاریخ کی رات آرمی چیف سے 9 بجکر 20 منٹ سے 12 بجکر 30ٹ تک ملے ہیں، مولانا فضل الرحمن نے بھی آرمی چیف سے ون ٹو ون ملاقات کی ہے،

ایک دفعہ انکار کرے، میں ہفتے کو لاہور میں جگہ اور وقت بتاؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی غلط بات نہیں کی، میں نے دسمبر جنوری کا مہینہ کہا ہے، میں قائم ہوں کہ ن سے ش نکلے گی اور پیپلز پارٹی سندھ کی حکومت سے کبھی استعفیٰ نہیں دے گی، ان کو پتہ ہے کہ استعفیٰ دے دیے توجو صوبہ ان کے پاس وہ بھی نہیں رہے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر