میری گرفتاری ہوئی تو یہ کام کروں گا، حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے چکے مزید وقت نہیں دیں گے،شہباز شریف کا تہلکہ خیز اعلان

سوشل میڈیا‎‎

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری گرفتاری ہوئی تو اس کا سامنا کروں گا،نوازشریف کی اے پی سی میں تقریر آئین و قانون کے مطابق ہے، میرے قائد نے تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو آئین سے متصادم ہو،میں نواز شریف کی تقریر کے ساتھ کھڑا ہوں۔سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج تک مفاہمت سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا،مجھ پر مفاہمت کا الزام غلط اور بلاجواز ہے ،بتائیں میں نے آج تک کیا ذاتیفائدہ حاصل کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت سے سیاسی جماعتوں کی عزت بڑھے گی، نظام تب طاقتورہوگا

جب سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت کریں گی، ہزاروں آرٹیکل 6 لے آئیں عوامی خدمت کرنے تک نظام مضبوط نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میرے مقدمات کی کوئی حیثیت نہیں،ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے،میری گرفتاری ہوئی تو اس کا سامنا کروں گا۔انہوںنے کہا کہ نوازشریف کی اے پی سی میں تقریر آئین و قانون کے مطابق ہے، میرے قائد نے تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو آئین سے متصادم ہو،گئی، نوازشریف نے کبھی محاذ آرائی کی بات نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے چکے مزید وقت نہیں دیں گے، عمران خان مجھے ہر صورت گرفتار کروانا چاہتے ہیں، اے پی سی کے فیصلوں پر ہر صورت عمل درآمد ہوگا، تحریک نہیںرکے گی۔انہوںنے کہا کہ مولانا فضل الرحمن بزرگ سیاستدان ہیں اس لئے اپوزیشن اتحاد کی انہیں قیادت سونپی، بات استعفوں تک پہنچی تو دوسرا قدم ہم بھی اٹھائیں گے،بہت ہوگیا حکومت کو اب ایک منٹ بھی نہیں دیں گے، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کو بے نقاب کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے منصوبوں میں شفافیت ہے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی گئی، نوازشریف نے کبھی محاذ آرائی کی بات نہیں کی۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ان کی رہائشگاہ پر پارٹی کی سینئر قیادت کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں احسن اقبال ،خواجہ آصف، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، رانا تنویر ،خواجہ سعد رفیق ، مریم اورنگزیب سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے ۔ا جلاس میں شہباز شریف کی گرفتاری کی صورت میں آئندہ کے حوالے سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال بار ے بھی گفتگو کی گئی ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر