نواز شریف کی تقریر کے بعد لیگی رہنما دلبرداشتہ، حکومت سے رابطے، تہلکہ خیز دعویٰ

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بطور مجرم اور اشتہاری نوازشریف کو سیاست پر بھاشن زیب نہیں دیتا،نیب کیسز کے باعث گھیرا تنگ ہونے سے اپوزیشن حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے،اپوزیشن ارکان استعفیٰ دینگے تو نئے الیکشن کرائیں گے، پی ٹی آئی دوبارہ اکثریت حاصل کرلے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ نواز

شریف کے حالیہ بیانیے سے خود ان کی جماعت اضطراب کا شکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف کے بیانیے پر ن لیگ کے اندر سے مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ جو تحریک چلانا چاہتی ہے وہ بے بنیاد ہے،نوازشریف کا مقصد ملک میں بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جاتی عمرہ میں اس وقت تذبذب اور اضطراب کے سائے منڈلا رہے ہیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ نیب کیسز کے باعث گھیرا تنگ ہونے سے اپوزیشن حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکیاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیٹف قانون سازی میں ناکامی کے بعد اب یہ سڑکوں پر آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن ارکان استعفیٰ دینگے تو نئے الیکشن کرائیں گے، پی ٹی آئی دوبارہ اکثریت حاصل کرلے گی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن مختلف حربے استعمال کرکے حکومت گرانا چاہتی ہے، ناکامی ان کا مقدربنے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی اقدامات سے معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں،وزیراعظم عمران خان بدعنوان عناصر کے احتساب کیلئے پرعزم ہیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کا بدعنوان عناصر کے خلاف عزم ایسے حالات میں مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ والے ڈیل کے چکر میں ہیں اور مسلسل رابطے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ش لیگ سمیت ن لیگ کے کئی دھڑے بننے

جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ مسلم لیگ ن میں تقسیم کے حوالے سے شیخ رشید کی باتوں میں وزن ہے،شریف خاندان میں بھی اس وقت چپقلش چل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی تنظیم سازی بڑے زوروں پر چل

رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ذاتی مفاد اور منافقانہ سیاست کی ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ نواز شریف کا انقلابی پن دوغلا اور کھوکھلا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بطور مجرم اور اشتہاری نوازشریف کو سیاست پر بھاشن زیب نہیں دیتا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر