مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں 8بار عاصم سلیم باجوہ کا نام کیوں لیا ؟ سینئر صحافی ندیم ملک کا تجزیہ

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر اینکر پرسن ندیم ملک نے اپنے پروگرام میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیاست ایسے موڑ پر آگئی جہاں آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران ہمیں سیاسی نقشہ کافی بدلا بدلا سا نظر آئے،ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے آج شہباز شریف کی گرفتاری کے اوپر پریس کانفرنس کی ، جس میں انہوں نے بہت سارے لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن سینٹرل فگر عاصم باجوہ جو کہ

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر ہیں ان کا نام خاص طور پر لیا جاتا رہا عاصم سلیم باجوہ کا نام نواز شریف کی تقریر میں بھی لیکن آج مریم نواز کی تقریر میں کچھ زیادہ عاصم سلیم باجوہ پر تنقید کی گئی ہے۔معروف صحافی کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اپنی تقریر میں آٹھ دفعہ عاصم سلیم باجوہ کا نام دہرایا ، اس کے علاوہ ان ڈرایکٹ ذکر آیا ہو گا لیکن یہ ریٹائرڈ جنرل کی بات تھی جس کو نواز شریف نے بھی ٹارگٹ کیا اور آج پریس کانفرنس میں مریم نواز نے بھی کھل کر تنقید کی ان کی 99کمپنیوں کے اوپر بہت زور ڈالا گیا ۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے شہباز شریف کی گرفتاری کو افسوس ناک دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی صرف ایک وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا، مجھے بھی گرفتار کرنا ہے تو کرلو لیکن نواز شریف کی تقریر اور آل پارٹیز میں ہونے والے فیصلوں پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوگا، جو مرضی کرنا ہے کر لیں لیکن (ن) سے (ش) نہیں بلکہ مخالفین کی چیخیں نکلیں گی، نیب کو بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی اور عمران خان کا گھرکیسز اور جنرل عاصم باجوہ کی اہلیہ کے اثاثے نظر نہیں آتے؟۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کوئی قانون و انصاف ہے تو پھر گرفتاری ‘شہباز شریف کی نہیں عاصم سلیم باجوہ کی ہونی چاہیے تھی کیونکہ شہباز شریف کے نام 99 کمپنیاں، سیکڑوں فرنچائز نہیں نکلے، شہباز شریف کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے تھا،

ان کے والد ایک معروف کاروباری شخصیت تھے جبکہ عاصم باجوہ ایک تنخواہ دار ملازم تھے، ان کا لکھ پتی یا کروڑ پتی نہیں بلکہ ارب پتی ہوجانا قابل احتساب الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عاصم سلیم باجوہ، ان کی اہلیہ جو ایک گھریلو خاتون تھی ان کے اثاثے، سرمایہ کاری سامنے آئے تو کیا نیب کو اور عمران خان کو کیس نظر نہیں آیا، ان کے بچے 25، 30 سال کے ان پر انحصار نہیں کرتے تو

شہباز شریف کے بچے جو 40 سال کی عمر کے ہیں تو کیا وہ اپنے کاروبار الگ نہیں کرسکتے؟، ان کے ذاتی کاروبار کو والد سے جوڑ دیا جاتا ہے لیکن عاصم باجوہ کے کاروبار، ان کی اہلیہ کے اثاثے، ان کے بچوں کے اثاثے کسی کو نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ پھر ہم یہ سوال پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ کس قسم کا انصاف ہے، میڈیا پر دبا ڈالا گیا کہ عاصم سلیم باجوہ کی خبر آپ نے نہیں اٹھانی

، پھر جب ان کا وضاحتی بیان آیا تو کہا گیا کہ اس کو چلا جبکہ ہمیں خبر کا معلوم ہی نہیں تھا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن)اداروں کے خلاف ہے یا ان کے خلاف بات کرتی ہے، چاہے عدلیہ ہو یا کوئی ادارہ ہو، جب آپ ججز کو بلیک میل کرتے اور عدلیہ کو دبا میں ڈالتے تو اس سے متازع کوئی چیز عدالتوں اور اداروں کو نہیں بناسکتی۔دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف تو کچھ ثابت نہیں ہوا لیکن جن کے خلاف ثبوت سامنے آگئے تو وہ کسی کو نظر نہیں آرہے، کبھی شہباز شریف کو گرفتار کرلیا جاتا تو کبھی مولانا فضل الرحمن کو نوٹس بھیج دیا جاتا لیکن ‘ہے کسی میں ہمت کہ وہ عاصم سلیم باجوہ کو نوٹس بھیجے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر