لاہور موٹروے کیس میں اہم پیشرفت متاثرہ خاتون 20روز بعد کس کام کیلئے راضی ہو گئیں

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور موٹروے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ، متاثرہ خاتون 20روز بعد بیان دینے کیلئے رضامند ہو گئیں ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور موٹروے کے مرکزی ملزم عابد علی تاحال پولیس کیلئے چھلاوا بنا ہوا ہے اس کی تلاش کیلئے متعدد پولیس ٹیمیں کام کر رہی ہیں تاہم انہیں کوئی خاص کامیابی ابھی تک نہیں مل سکی ہے ۔ 20روز بعد متاثرہ خاتون

ابتدائی بیا ن دینے کیلئے راضی ہو گئیں وہ اپنا ابتدائی بیان ٹیلیفون پر دیں گی، پولیس عدالت سے ان کیمرہ ٹرائل کی درخواست کرے گی جبکہ خاتون کا فرضی نام استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس میں گرفتار ملزم شفقت حسین کی شناخت پریڈ کرانے کے لیے مہلت دیدی۔لاہور کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سماعت کی ۔ تفتیشی افسر نے جج کے سامنے پیش ہو کر استدعا کی کہ ملزم شفقت حسین کی شناخت پریڈ کراناممکن نہیں ہو سکا، استدعا ہے کہ عدالت ملزم کی شناخت پریڈ کے لیے مہلت دے۔عدالت نے ملزم شفقت حسین کی شناخت پریڈ کے لیے پولیس کو مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔عدالت نے ملزم شفقت کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی توسیع کر دی، تاہم عدالت نے تفتیشی افسر کو جلد ملزم کی شناخت پریڈ کرانے کاحکم دیا ہے، عدالت نے کہا آئندہ سماعت سے قبل ملزم شفقت کی شناخت پریڈ کو یقینی بنایاجائے۔تفتیشی افسر نے ملزم سے متعلق بتایا کہ ملزم شفقت حسین کو دیپالپور سے گرفتار کیاگیا، ملزم کا ڈی این اے ابتدائی طور پر متاثرہ خاتون سے میچ کرگیا ہے، ملزم کی نشاندہی پر مرکزی ملزم عابد کوگرفتار کرنا باقی ہے، ملزم سے پستول اور ڈنڈا بھی برآمد کرنا باقی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر