ایک ہی دن 2سابق کور کمانڈرز کا انتقال مظفر عثمانی کے بعد(ر) لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر بھی چل بسے

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر لاہور میں خالق حقیقی سے جا ملے۔نجی ٹی وی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر کے اہلخانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سابق کور کمانڈر کراچی کا انتقال لاہور

کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔اہلخانہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر پچھلے ایک سال سے رعشے کی بیماری میں مبتلا تھے اور کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر کی نماز جنازہ کل ظہر کی نماز کے بعد لاہور کینٹ میں ادا کی جائے گی۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر 1992 سے 1994 تک کور کمانڈر کراچی تعینات رہے۔یاد رہے کہ آج ہی کراچی کے علاقے دو دریا کے قریب سے گاڑی سے لاش برآمد ہوئی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاش سابق کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مظفر علی عثمانی کی ہے۔پولیس نے مظفر عثمانی کی گاڑی کو تحویل میں لے کر لاش پی این ایس شفا منتقل کردی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مظفر عثمانی کا انتقال گاڑی چلاتے ہوئے ہارٹ اٹیک سے ہواہے۔واضح رہے کہ مظفر عثمانی سال 1999 میں لگنے والے مارشل کے دوران کور کمانڈر کراچی تھے۔ انہیں ان کی بہترین پیشہ وارانہ خدمات پر ہلال امتیاز ملٹری سے بھی نوازا گیا۔

ریٹائرڈ مظفر عثمانی سال 1966 سے 2001 تک پاک فوج سے وابستہ رہے اور لیفٹننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ وہ وائس چیف آف جنرل اسٹاف اور کور کمانڈر بہاول پور جیسے اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے۔مظفرعثمانی 1944میں مراد آباد بھارت میں ایک

متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ مفتی اعظم پاکستان تقی عثمانی کے عزیز تھے، آپ نے تین سال کی عمر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ 1947 میں پاکستان ہجرت کی۔1966میں آپ نے پی ایم اے 36 میں کامیاب ہوکر پاک فوج کی فرنٹیر فورس رجمنٹ میں آرمڈ بٹالین میں شمولیت اختیار کی۔

آپ نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کیا۔اس کے علاوہ رائل کالج آف ڈیفینس برطانیہ سے تعلیم حاصل کی، کچھ عرصہ آپ سعودی عرب میں بھی تعینات رہے آپ کے لیفٹیٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد پاک فوج کی دو کورز کراچی اور بہاولپور آپ کے زیرکمان رہیں۔ بعد میں آپ کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنادیا گیا جس سے آپ 2002 میں ریٹائرڈ ہوئے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر