ہم یہ بات کبھی نہیں بھولیں گے، جنگ میں حمایت پر آذر بائیجان کے صدر نے وزیراعظم عمران خان کا خصوصی شکریہ ادا کر دیا

سوشل میڈیا‎‎

آذر بائیجان (آن لائن) آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف آرمینیا کیساتھ جاری جنگ میں حمایت کرنے پر پاکستان اور ترکی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔ صدر الہام علیوف نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ہم ان ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ساتھ دیا۔یہ بہت اہم ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال میں آپ کے ساتھ کون کون کھڑا ہے۔اور ہمارے لیے بھی

بہت اہم ہیں کہ آج اس صورتحال میں ہمارے ساتھ کون کون کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بردار ممالک ترکی اور پاکستان نے کھل کر آذربائیجان کی حمایت کی۔ہمارے لیے یہ بات بہت معنی رکھتی ہے کہ ہمارے ساتھ کون کون کھڑا ہے اور بے شک ہم یہ بات کبھی نہیں بھلائیں گے۔میں ایک بار پھر وزیراعظم پاکستان، وزیر خارجہ اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔دونوں ممالک کے مابین دوستی کا تعلق مزید مضبوط ہو گا۔دوسری جانب دونوں ممالک نے عالمی برادری کی طرف سے جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کو ٹیلیفونک رابطے کے ذریعے اپنی سرزمین پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔جس پر آذربائیجان کے صدر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک آرمینیا کی فوج ہمارے علاقے غیر مشروط اور فوری طور پر خالی نہیں کر دیتی۔ آذربائیجان اپنی خودمختاری اور سالمیت کے لیے آخری دم تک لڑتا رہے گا۔ادھر آرمینیا نے بھی عالمی برادری کی جنگ بندی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔خیال رہے کہ اتوار کے روز شروع ہونے والی لڑائی کے بعد سے دونوں ممالک کے درجنوں فوجی مارے گئے ہیں۔آرمینیا کی سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب تک سات شہری اور 80 فوجی لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔

جبکہ آذربائیجان کے حکام کا ماننا ہے کہ اب تک ان کے 14 شہری ہلاک اور 50 سے زائد فوجی زخمی ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر