جنرل عاصم باجوہ کو کرپشن پر نوٹس نہیں بھیجنا تو کم از کم ہلال استقلال یا تمغہ جرأت ہی دے دو، نواز شریف پھٹ پڑے

سوشل میڈیا‎‎

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مینڈیٹ چوری کرنا اور انتخابات کو سبوتا ژ کرنا معمولی جرم نہیں ہے،اس کا حساب دینا پڑے گا اور ہمیں لیناپڑے گا،مجھے خاموش کروانے کی کوشش نہ کریں میں اب خاموش نہیں رہوں گا،اب تنگ آمد اور بجنگ آمد والا معاملہ ہے ، اب ہم اس طرح کا کھیل تماشہ برداشت کرنے

کیلئے تیارنہیں۔ ہمارا بیان کہیں لکھ لیں ہم خود دار اور با ضمیر لوگ ہیں،ہمارا عمران خان سے کوئی مقابلہ نہیں ہم اس کواہمیت نہیں دیتے،یہ سلیکٹڈ ہے جس کوہم پرمسلط کردیاگیا،سلیکٹڈکولانے والے بتائیں عوام کامینڈیٹ کیوں چوری کیا،یہ جرائم میں سب سے بڑا جرم ہے ،سب کچھ لکھا ہوا سکرپٹ تھا، اس کے مطابق ہی سب کچھ ہوا، جب ان کو کچھ نہ ملا تو صرف ایک اقامے پر مجھے نکال دیا گیا،ریفرنس بنا کر سزائیں دلوائی گئیں،ہم 2018 کے انتخابات میں بہت سی سیٹیں جیتے ہوئے تھے لیکن آر ٹی ایس سسٹم بند کرکے ہرایا گیا،انتخانی نشان ٹریکٹر والے وہی لوگ تھے جن کو لایا گیا تھا، ہم اندھے نہیں ہے سب کچھ نظر آ رہا ہے،ملک بچانے میدان میں نکلا ہوں، عوام اب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ،ہم نے پہلے ہی بہت تاخیر کر دی ،اب مزید کسی تاخیر نہیں ہونی چاہیے ،شہباز شریف ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے،گزشتہ روز عدالت نے میرے خلاف کیا ارشادت فرمائے ہیں، ہم کس طرح کہیں ہمیں انصاف ملے گا؟ ، ہمیں تو پہلے بھی انصاف نہیں ملا ،اب سب کچھ دیکھ کر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، یہ پاکستانیت نہیں ہے، یہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں لیکن کیا ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے، اتنے بڑے بڑے دعوے کیے اور حال یہ ہے کہ پاکستان میں آج لوگ سکون سے سو نہیں سکتے، اگر روٹی کھاتے ہیں تو ان کے پاس سالن نہیں ہوتا ،بلوچستان میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حکومت گرائی گئی اور نئے مہرے

لائے گئے تاکہ سینیٹ کے انتخاب کو سبوتاژ کیا جا سکے، ایسے گمنام شخص کو سینیٹ کا چیئرمین بنا دیا جسے کوئی جانتا نہیں تھا،،ہم کوئی بھیڑ بکریاں یا گائیں بھینسیںہیں جو سب کچھ یوں ہی برداشت کرتے جائیں، ہم اندھے بہرے گونگے نہیں بلکہ باضمیر لوگ ہیں،بلوچستان میں شہید ہونے والے نوجوان کیپٹن ناصر کو خراج تحسین اور ان کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن میں اس فوجی کو

سلام پیش نہیں کرتا جو وزیراعظم ہائوس کی دیواروں اور گیٹ پھلانگ کر داخل ہوتا ہے اور اپنے ملک کے وزیراعظم کو گرفتار کرتا ہے،میں اس کو بھی سلام پیش نہیں کرتا جو ملکی دولت لوٹ کر امریکہ میں جائیداد بنائے اور عوام کا مینڈیٹ چوری کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں منعقدہ پارٹی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک

خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر احسن اقبال ، راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، اقبال ظفر جھگڑا، مریم اورنگزیب سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے آپ لوگوں سے ملوایا اور بات کرنے کا موقع فراہم کیا جس پر میں خوش ہوں، نواز شریف نے اس موقع پر شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ لیکن اور بھی غم

ہیں زمانے میںمحبت کے سوا ،چاروںطرف صعوبتوں پر نظردوڑاتا ہوں تو دل بڑا غمگین وہتا ہے دکھ اور تکالیف محسوس کرتا ہوں، ہم کیا تھا کہاں جارہے تھے اور آج کہاں ہیں اور کدھر جارہے ہیں،ایک زمین اورآسمان کا فرق دیکھتا ہوں، سمجھ نہیں آتی کہ آناً فاناً ایسا کیونکر ہو گیا ، 2018ء تک ہم کتنے خوشحال تھے ، ہماری 2013ء سے 2018ء تک حکومت تھی ،عوام کی دعائوں سے اور

آپ کی سپورت سے 2013سے2017ء تک میں وزیراعظم رہا اور بھرپورطریقے سے ہم نے قوم کی خدمت کی ، شہباز شریف نا کردہ گناہوں کے جرم میں جیل میں ہیں، ہم نے محنت اور خدمت کرکے پاکستان کا نقشہ بدل دیا ، میں زبانی جمع خرچ نہیں کر رہا ،یہ لفاظی بھی نہیں ہے بلکہ آپ نے خود مشاہدہ کیا ہے ، ہم نے کارنامے کئے ہیں ، ہم نے ہر شعبے میں کارنامے سر انجام دئیے ،یہ اللہ کا

خاص کرم ہے ، میں کئی دفعہ سوچتا ہوں اور سمجھ نہیں آتی کہ ان چارلوں میں ہم نے اتنے منصوبے لگا لئے ، یہ اللہ نے ہم سے لگوائے ، ملک سے لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم ہوئے ، دہشتگردی ختم ہو گئی ، ہماری معیشت آسمان کی طرف جانا شروع ہو گئی تھی ،غربت کا خاتمہ ہو رہا تھا، گیس کا بحران ختم ہو گیا تھا ،روزگار بھی ملنا شروع ہوگیا تھا،پاکستان جی 20میں شامل ہونے کا

منصوبہ بنا رہا تھا، ہم ایشین ٹائیگر بن چکے تھے اور پیشرفت کر رہے تھے ، جنوبی ایشیاء میں ہم ٹائیگر کی حیثیت اختیار کررہے تھے اور دنیا تسلیم کررہی تھے اور تعریف کر رہی تھی ۔ میں اپنے منہ سے یہ الفاظ نہیں کہہ رہا بلکہ آپ لوگ اس کے گواہ ہیں پوری قوم اس کی گواہ ہے، پھر سالوں نہیں بلکہ دنوںمیں اورہفتوں میں سب کچھ تباہ کر دیا گیا ،بی آر ٹی پشاور کا منصوبہ چھ سال سے

پروان نہیں چڑھ سکا اور آج بھی کہیں آگ لگ جاتی ہے کہیںچھتیں ٹوٹ جاتی ہیں ،لفٹوں کا نقصان ہو جاتاہے ،ہمارے تین منصوبے جتنی لاگت سے بنے پشاور بی آر ٹی کا ایک منصوبہ اتنی لاگت میں تیار کیا گیا ہے ، ہم نے ڈیڑھ سے دو سال میں بجلی کے کارخانے چلائے ، کیا تاریخ میں کبھی کسی نے ترقی کی اتنی رفتار دیکھی تھی، کیا ہم جن تھے جو یہ منصوبے بنا رہے ہیں بلکہ قوم کی

دعائیں ہمارے ساتھ تھیں،ہر شعبے میں اسی طرح سے کام ہورہا تھا، دہشتگردی ختم ہو گئی تھی ،5.8فیصد گروتھ ریٹ تھا اور آج مائنس 1.4ہونے والا ہے ،ہمارے زمانے میںروپیہ مٹی میں نہیںملا تھااس کے باوجود کہ بہت سے مشکلات اور مجبوریاں بھی تھیںلیکن ہم نے ڈالر کو قابو میں رکھا اور روپیہ مستحکم رہا ، زرعی اجناس اور روز مرہ کی اشیاء آسانی سے اور ارزاں نرخوں پر دستیاب

تھیں، ہم نے پانچ سال تک قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا ،جب ہم آئے تھے تو چینی پچاس روپے کلو تھی اور جب ہم گئے تو یہی قیمت تھی ، سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھیں دو سالوںمیں چینی پچاس سے سو روپے کلو کیوں کر دی، آپ نہیں بتا سکتے تو غریبوںسے پوچھوجن کے چولہے بند ہوگئے ،ان سے پوچھوںجو آٹا نہیں خرید سکتے جن کے گھروں میں فاقہ کشی ہے ،جن کے بچے سکولوں میں نہیں

جا سکتے ،آج لوگ سوچتے ہیں کہ روٹی کھائیںیا بچوں کو سکولوںمیں بھیجیں ،بجلی یا سوئی گیس کا بل دیں،روٹی کھائیں یا علاج معالجے کا بندوبست کریں جو ان کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے، کیا سلیکٹڈ نے کبھی سوچا ہے کہ عوام کی زندگی اتنی اجیرن کیوں ہو گئی ہے اور وہ کس طرح دن رات گزارتے ہیں ، ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ،ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے ُ۔ اتنے بڑے بڑے دعوے

کئے لیکن حال یہ ہے کہ پاکستان کے اندر لوگ سکون سے نہیں سو سکتے ، امن و امان کی صورتحال ابتر ہے ،پاکستان کی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ، ملتان میں کیا ہوا، چند دن پہلے موٹر وے پر قوم کی بیٹی کے ساتھ کیاسلوک یا گیا ہے ،آج مجرم دندناتے پھررہے تھے، ہمارے دور میں مجال تھی کہ مجرم سر اٹھا کر چلتے ، اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے ہر چیز کو کنٹرول کیاتھا ، عوام کی

دل و جان سے خدمت کر رہے تھے۔ہم نے صرف معاشی میدان میں ہی میں بلکہ دفاعی میدان میںبھی کام کیا ،دفاعی محاذ پر بھی پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا ۔ نواز شریف نے کہا کہ آج ہمیں چار ملک نہیں ملتے جو آپ کو سپورٹ کریں جس پر دکھ ہوتا ہے ، آپ ایک قرارداد پاس نہیں کر ا سکتے ، اکیاون ملکوںمیں اتنے ممالک نہیں ملتے کہ آپ قراردا دمیز پر لا سکیں ، اپ نے ملک کا بیڑہ غرق کر

دیا ہے ،کشمیر کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، بڑا کہتے ہیں کہ میں کشمیر کا سفیر ہوں ، کہاںگئی تمہاری سفارتکاری ،آپ کون سے دعوے کرتے تھے۔ آپ نے ہر شعبے میں ملک کو تباہ و برباد کردیا ہے ،آج بھی تنگ ہوں سب تنگ ہیں،غریبوں کی جھونپڑوںمیں جائو وہ بھی تنگ ہیں، ان کے بچوںسے پوچھوں ان کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے میسرنہیں ہیں،عید آتی ہے بچے روتے ہیں کہ ابو

ہمیں نیا جوتا لے دیں،نئے جوتے کے لئے پیسے نہیںہیں، عید والے دن فکر نہیں نہیں چھوڑتی روٹی کیسے کھائیں گے۔آپ نے کہا تھا کہ ہم ایک کرور نوکریاں دیںگے کہاںہیں وہ ایک نوکریاں؟، بڑے بلند و بانگ دعوے کئے گئے ، آج ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، کیا آپ کو ان کی پرواہ ہے ،کہاں ہیں آپ ، آپ کولانے والے کہاںہیںکدھر ہیں ،لانے والے جواب دیں ۔انہوں نے کہا کہ

عمران خان سے ہمارا مقابلہ نہیںہے اس کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہے جسے لا کر بٹھادیا گیا ہے،ملک پر مسلط کردیا، یہ سوغات لے کر آئے ہیں ، وہ بتائیں یہ سوغات کیوں قوم پر مسلط کی ہے یہ سب کام کیوں کای ،کیوں انتخابات چور ی کئے ، کیوں عوام کا مینڈیت کا چوری کیا ،یہ چیزیں ایک نہ ایک دن منظر نامے پر آنی تھیں۔میری کوشش تھی کی میرا جذبات پر کنٹرول

ختم نہ ہو ۔ لیکن میں موجودہ حالات کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا ، مجھے چپ کرانے کی کوشش بھی نہ کریںاب میں چپ نہیںہوںگا۔انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ کیا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں ، خلوس اور دیانتداری سے جواب دینا، دل ساتھ دیتا ہے تو جواب دو ورنہ جواب بھی نہ دو۔ میں آپ سے پوچھناچاہتا ہوںکہ دماغ سے پوچھیں دل سے پوچھیں ، دل سے پہلے پوچھیں

پھر دماغ سے پوچھ لینا ،کیا آپ اورمجھے ہم سب کو تاریخ کے درست سمت میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھنا چاہیے ، جو سمجھتے ہیں آنا چاہے وہ ہاتھ کھڑا کریں جس پر تمام شرکاء نے بلند آواز میں ہاں کہا ۔نواز شریف نے کہا کہ میں جو باتیں کر ہا ہوںعلم بلند کررہاہوںمیرا ساتھ دو گے، دل سے ساتھ دو گے تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوںگا اور آپ بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑیں

گے، آپ مجھے نظریے پرقائم و دائم پائیںگے،مجھے اب کسی چیز کی کوئی کوئی پرواہ نہیںہے اگر میں ملک بچانے کیلئے میدان میںنکلا ہوں تو بالکل ہرپاکستانی کوبھی یہ کردار ادا کرناہوگا ۔ سب سے پہلے آپ پاکستان کے منتخب نمائندے ہیںآپ نے کردار ادا کرنا ہے ، پھر دیکھنا اللہ کی ذات بھی ہماری تائید کرے گی اورہمارے ساتھ ہوگی۔ آج آپ وعدہ کرینگے کل قوم وعدہ کریگی،قوم کندھے سے کندھے

ملا کرچلے گی۔ میرا پورا یقین ہے کہ اللہ کے فضل سے اللہ کی تائید ہمارے ساتھ ہوگی۔ اس معاملے میں سب واضح ہو جائیں کہ آپ نے میرے ساتھ چلناہے اور میںنے آپ کے ساتھ چلنا ہے ، پاکستان کے عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیںآپ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، وہ تمام مصیبتوںسے نجات چاہتے ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ آپ پہلے ہی اتنی تاخیر کا شکار ہیں، اب مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو

سکتے ،آپ کو بغیر تاخیراپناکام بطور فرض ادا کرناہوگا۔انہوںنے کہا کہ آج بجلی کا بل آتا ہے تو لوگوں کے آنسو نکل جاتے ہیں ،روٹی کھاتے ہیں تو سالن کے پیسے نہیں ہوتے ، پانی میں ڈبو کر کھاتے ہیں ۔نواز شریف نے کہاکہ یہاںانتخابات کو چوری کیا جاتا ہے جعلی مینڈیٹ دلواتے ہیں،آپ بہت ساری سیٹوںپر جیتے ہوئے تھے آپ کو ہرایا گیا آپ کو شکست دلوائی گئی ، آرٹی ایس کو بند کر کے

آپ کی سیٹیں ختم کی گئیں جوان کی نہیں تھیں جو ہماری تھیں،حلقوںمیںاس قدر ووٹ مستردہوئے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیںملتی،ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہرنکالا گیا پھر ڈبے خالی کرا کے دھاندلی کا مرحلہ مکمل کیا گیا ۔آپ فاٹاکے لوگوں کو توڑتے ہیں،ایم کیوایم کے لوگوں اورمہرے شامل کراتے ہیں ،ٹریکٹر والے کون لوگ تھے ، یہ وہی لوگ تھے جن کی میںبات کر رہاہوں،یہ ان کا نشان

تھا آن کو آپ جانتے ہیں،چار ووٹوں سلیکٹڈ کووزیراعظم بناتے ہیں، ہم اتنی آسانی کے ساتھ تماشہ دیکھتے رہیں ، کیا ہم گونگے ،بہرے اور اندھے ہیں؟اگر ہم اندھے ہیں تو ٹھیک ہے ۔ نہیںہے تو ہمارا ضمیر بھی جاگ رہاہے ۔ہمارے اندر بھی خود داری موجود ہے تو پھر ان چیزوںکو دیکھنا سننا خاموش رہنا پاکستانیت ہے ؟یہ ہرگز پاکستانیت نہیںہے ۔ میں تین دفعہ وزیراعظم رہاہوں لیکن آج لندن میں بیٹھ

کر بات کررہا ہوں۔گزشتہ روز عدالت نے میرے بارے میں کیا ارشادات فرمائے ہیں،پھر ہم کیسے کہیں ہمیںانصاف ملے گا ،کیاانصاف ملے گا، پہلے کیا انصاف ملا ہے؟ ۔ محمد بشیر کی عدالت میں کرنل وہاںکہاں کررہاتھا ، وہاں جنرل کیا کررہا تھا ،ہمیں اپنے دفاع میں کہنے کا کچھ حق نہیں اور ہمیں سنے بغیر فیصلے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف عاصم سلیم باجوہ ہیں جنہوںنے کروڑوں اور اربوں کے

اثاثے امریکہ میںبنائے ہیں، ان کے بچوں کی الگ داستانیں ہیں،ساری بات کھل کرآتی ہے تو کہتے ہیں استعفیٰ دیناچاہتا ہوں لیکن سلیکٹڈ وزیر اعظم کہتا ہے ہیںآپ بہت ایماندار ہیںآپ نے کہیں گڑ بڑ نہیں کی ہم سب آپ کے گو اہ ہیں ،آپ اپنا ستعفیٰ واپس لیں، کیا ایمانداری کا یہ معیار ہے ، یہ معیار نہیںچلے گا ، نواز شریف خاموش رہے نواز شریف اب اس مٹی کا بنا نہیں جو خاموشی سکھاتی ہے ، دوہرے

معیار پر خاموش رہیںاور مجھے خاموش کرانے کی کوشش بھی نہ کریں ۔نواز شریف نے کہا کہ جنرل عاصم باجوہ کو کرپشن پر نوٹس نہیں بھیجنا تو کم از کم ہلال استقلال یا تمغہ جرأت ہی دے دو۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئی ہوئی مشکلات کی ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے لیکن آپ اس بات پر آ جائیں کہ اصل ذمہ دار وہ ہیںجو عمران خان کو لائے ہیں،آج ان کو حساب دیناہوگا، کوئی بھوک سے

مرتا ہے تو اسے لانے والے بتائیں ،اگر کسی کی عزت لٹتی ہے تو اسے لانے والے بتائیں ،اگر آپ ذمہ دار نہیں توکوئی ذمہ دار نہیں۔ انہوںنے کہا کہ اصل میں جو جیتے تھے ان کو ہرانے والے آپ ہیں، اگر کسی کو روٹی نہیںملتی ،چینی مہنگی ہو گئی ،بجلی کے بل بم بن کر گرتے ہیںتو آپ ذمہ دار ہیں،نوجوانوں کی بگڑتی صورتحال ،معیشت کی تباہی کے آپ ذمہ داری ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں

سب سے پسماندہ ملک پاکستان ہے ، ہمارا روپیہ مٹی میں مل گیا ہے اس کے آپ ذمہ دار ہیں۔ جو بند اورسوغات آپ نے دی آپ اس کے ذمہ دار ہیں، آپ نے عوام کا مینڈیٹ چور ی کیا ،وہ تو آپ کے سامنے سر تسلیم ختم کرتا ہے اسے کرسی پر بٹھا دیاہے ،اسی وجہ سے ملک کا یہ حال ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی دنیا میں رسوائی ہو رہی ہے،معیشت تباہ ہو رہی ہے رو زبروز غربت بڑھ

رہی ہے، رو ز بروز بربادی بڑ ھ رہی ہے، ہم اقوام عالم میں پہلے سے زیادہ رسوا ہو رہے ہیں،آج کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کیلئے تیار نہیں،او آئی سی کو چھوڑ کر ایک نیا بلاک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں آپ کس طرف ملک کو لے کر جارہے ہیں،اگر ملک ٹریک سے اترے گا تو اسے کون دوبارہ ٹریک پر لائے گا ۔انتخابات سے پہلے یہ کام شروع ہو گیا تھا اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر

مجھے فارغ کردیا گیا ، انتخابات کو سبوتا ژ کرنا معمولی جرم نہیں ہے،اس کا حساب دینا پڑے گا اور ہمیں لیناپڑے گا، نئے گھوڑوںکوجتوا کرووٹ کو سر عام بے عزت کیا گیا،ایک ایسے گمنا م آدمی کوچیئرمین سینیٹ بنا دیا جسے دنیا میں کوئی نہیں جانتا ، ہمارے لئے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے ،آپ اپنی ضمیر کی آوز پر لبیک کہو گے ، ہم نے ان ساری چیزوں کو ایسے ہی نہیں جانے دینا ، ہم ایسے

ہی برداشت کرتے رہیں کیا ہم کوئی بھیڑ بکریاںگائے بھینسیں ہیں جنہیں آپ ہانکوں گے ہم ہانکے جائیں گے ،یہ نہیں ہو سکتا، یہ کبھی نہیں ہو سکتا یہ کبھی نہیںہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اورطاہر القادری کا گٹھ جوڑ بنا دیا گیا،کینیڈا سے امپورت کر کے کے اسلام آبادمیں بٹھا دیا گیا،کہا گیا کہ ہماری دو سالوں کی محنت ہے ، آپ کی محنت کا خمیازہ آج عوام بھگت رہے ہیں،نیب کوکچھ

لوگوں کے اثاثے نظرآتے ہیںلیکن کچھ لوگوںکے اثاثے نظرنہیں آتے ، ،بنی گالہ کی ریاست کہاںسے بنی جسے ثاقب نثار چھوڑ گئے ہیں،ا س کا مطلب یہ نہیں کہ قوم آپ کوچھوڑے گی ہم نہیں چھوڑیںگے ، آپ لاکھ یا دو لاکھ روپے ٹیکس دیتے ہیں لیکن زمان پارک میں کروڑوں روپے سے نیا گھر کہاں سے بنوایا ، کروڑوںاربوںکی جائیدادیں بنالی ہیں ، کہتے ہیں بیوی نے ادھر بھیجے اُدھر بھیجے کیا چکر

دے رہے ہیں اسے کوئی نہیںمانتا ، آپ ان سب کارناموں کے باوجود صادق اور امین ٹھہرے اور ہمارے آبائو اجداد جو 1937ء سے کاروبار کر رہے ہیںہم سب سے بڑے چور ٹھہرے ، اب یہ نہیں چلے گا اسے کوئی تسلیم نہیں کریگا ۔نواز شریف نے کہا کہ میں نے افواج پاکستان کی بڑی خدمت کی ہے، اللہ دوبارہ موقع دے گا پھر خدمت کاجذبہ ہے اور ہم اس کی خدمت کرتے رہیں گے ، ہماری

پارٹی اس جذبے سے سر شار ہے ۔ میں نوجوان لیفٹیننٹ ناصر شہید کوسلام پیش کرتاہوں ، لیکن میں اس فوجی کو سلام پیش نہیں کرتا جو زیراعظم ہائوس کی دیواروں کو اور گیٹ کر پھلانگ کر اندر داخل ہوکر ملک کے وزیر اعظم کو گرفتار کرے ،اسکو بھی سلام نہیں کرتا جو دولت لوٹ کر امریکہ میں جائیدیدیں ، جو عوام کامینڈیٹ چوری کرے ،میرے دل میںایسے لوگوں کی کوئی عزت نہیں ہے،

حق حلال کی کمائی کھانے والے ، سرحدوںپر ملک کی حفاظت کرنے والوں ، آئین و قانون کا احترام کرنے والے کااحترام کرتے ہیں اور ان کے لئے جان بھی حاضر ہے ، ہمیں انہیں اپنے دل کی گہرائیوں سے سلیوٹ کرتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جو آئین توڑتا ہے وہ پاکستان سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے ،میرا مشرف کے ساتھ یہی اختلاف اور تنازعہ تھا ،آج بھی میرا یہی اختلاف ہے ،جنہوں نے

پاکستان کے مینڈیٹ کو چوری کیا ہے انہوںنے سب سے بڑا جرم کیا ہے۔ میں نے آپ سے حلف لیا ہے اب اس میں گڑ بڑ نہیںہونی چاہے قوم آپ کو اورہمیں معاف نہیں کریگی ،قوم مجھے اور آپ کو دیکھ رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ کہا گیا کہ آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت دی تو ہماری دوسال کی محنت ضائع ہو جائے گی جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج صاحب نہیں مانے تو ان

کے چیف جسٹس کے پاس چلے گئے ، ان پر دبائو ڈالا گیا کہ شوکت صدیقی کو بنچ میں مت رکھیں،پھر کہتے ہو ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرتے ، دوسرے اداروں میں مداخلت نہیں کرتے، اس کو مداخلت کی جگہ کیا نام دیں؟ اگر ہم پھر بھی یہ سمجھیں کہ دھامدلی نہیں ہوئی تو ہم سے بڑا بیوقو ف کوئی ہو نہیں سکتا،اب تنگ آمد اور بجنگ آمد والا معاملہ ہے ، اب ہم اس طرح کا کھیل تماشہ برداشت

کرنے کیلئے تیارنہیں۔ ہمارا بیان کہیںلکھ لیںہم خود دار اور با ضمیر لوگ ہیں۔ میں کوئی متکبر نہیںہوں لیکن میں اناء پر یقین رکھنے والاہوں، آپ بھی طے کر لیں آپ نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کرنا ، خوداری کونیلام نہیںکرنا، ہم باضمیر لوگ بن کردکھائیں گے ،اپنے ضمیر کے مطابق چلیںگے تو قوم بھی ہمارے پیچھے چلے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو ہوا وہ ایک لکھا ہوا سکرپٹ

تھا اس کے مطابق جے آئی ٹی بنائی گئی، اس میں حساس اداروں کے لوگ شامل ہوئے ،وٹس ایپ پر چنائو کیاگیا، جب آپ کو کچھ نہ ملا تو اقامے پر وزیرا عظم کو باہر نکال دیا، یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں یا کوئی مجھے سمجھا دے میں اسے سمجھناچاہتا ہوں، میں اگرغلط کہہ رہا ہوں تو معذرت کرنے کے لئے تیار ہوں،اگر غلط نہیں ہے تو آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر