میں جمہوری وزیراعظم ہوں، کس کی جرأت ہے مجھے کہے استعفیٰ دو، نواز شریف کی جگہ میں ہوتا تو استعفیٰ مانگنے والوں سے استعفے کا مطالبہ کرتا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سارے سول اداروں کو قابو کرتے ہیں، نواز شریف نے عدلیہ کو کنٹرول کیا، سجاد علی شاہ کو ڈنڈے اور باقی عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے پیسوں کے بریف کیس دئیے۔انہوں نے کہا کہ فوج کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے اور جب کنٹرول میں نہیں آتی تھی تو یہ جمہوری بن جاتے تھے اور سارا وقت فوج کو برا بھلا

کہتے ہیں، بیان میں کہہ رہے تھے کہ جنرل ظہیر الاسلام نے آکر کہا کہ استعفی دو، آپ وزیراعظم تھے، اس کی جرات ہے کہ آپ یہ کہنے کی، آپ سیدھے ان سے جواب طلب کریں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہوں اور اگر مجھے کوئی ایسا کہے تو فوری طور پر میں اس کا استعفے کا مطالبہ کروں گا، میں ملک کا وزیراعظم ہوں اور کس کی جرات ہے کہ مجھے آکر یہ کہے۔انہوں نے کہا کہ اگر میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو میں اس کو سامنے بلاتا اور میں اس کو فارغ کرتا، اتنا بزدل نہیں کہ وہ سری لنکا گیا تو فارغ کروں۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی الطاف حسین نے کیا، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد ہندوستان پوری مدد کر رہا ہے، پاکستان کی فوج کمزور کرنے پر دلچسپی ہمارے دشمنوں کی ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکا میں ہندوستانی لابی میں کون بیٹھا ہوا ہے جو بڑا جمہوری بن کر پاکستان کی فکر میں، حسین حقانی باہر بیٹھ کر پوری مہم چلاتا ہے اور یہاں نادان لبرلز بنے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں ہم فوج کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولو اور لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں آگ لگی ہوئی اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے۔وزیراعظم نے کہا کہ

ہندوستان کے تھنک ٹینک باقاعدہ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور ہم اس فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی تاریخ کا واحد آدمی ہو ہوں جو 5 حلقوں سے جیت کر آیا ہوں، نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو کی طرح فوج کی نرسری میں نہیں پلا، ایوب خان کی کابینہ میں سارے جنرل تھے اور صرف ایک سویلین وزیر تھا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید

باجوہ کی جانب سے پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھ کر ملاقات کی تھی۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے اندر بھارت مکمل طور پر متحرک ہے کیونکہ یہ سی پیک کی روٹ ہے اور اوپر سے انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور مسئلہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہوں اور ایک کش مکش میں

ہیں، ہندوستان اس کا استعمال کررہا تھا اس لیے جنرل باجوہ سیکیورٹی مسئلے آگاہ کیا جو ہمارا دشمن آگے جا کر مسئلہ اٹھا رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستان نے ملک میں شیعہ سنی انتشار کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہماری ایجنسیوں نے ناکام بنایا اور اسلام آباد میں لوگوں کو پکڑا، بی جے پی کی موجودہ حکومت جیسی ہندوستان میں اس قدر پاکستان مخالف کوئی حکومت نہیں آئی۔انہوں نے کہا

کہ سب جانتے ہیں بھارت دہشتگردی کو پروان چڑھاتا ہے، بھارت گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہاہے، گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف جھوٹ بول کر بیرون ملک گئے، ہم تو سمجھ رہے تھے کہ وہ جہاز کی سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ سکیں گے۔عمران خان نے کہا کہ انہیں معلوم ہے میں این آر او نہیں دوں گا اس لیے مائنس ون کہتے

رہتے ہیں، اپوزیشن عدلیہ، نیب اور فوج پر پریشر ڈال رہی ہے، اگر اس وقت یہ پریشر ہم نے جھیل لیا تو پاکستان وہ ملک بن جائیگا جو اسے بننا چاہیے تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنی چوریاں بچانے کیلئے ڈاکواکٹھے ہوگئے ہیں،چوروں کے دباؤ

میں آکر ڈیل کرنے سے ملک تباہ ہوتے ہیں، یہ ملک کومقروض چھوڑکرگئے اورجواب ہم سے مانگ رہے ہیں، ملک میں دولت بڑھانے کی انہوں نے چیزیں نہیں چھوڑیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن استعفے دے گی تو ہم الیکشن کرادیں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر