وزیراعظم کی جانب سے عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے معاملے کی تحقیقات کروانے کا اعلان

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دینے سے متعلق سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دو سال سے پہلے نیب کے ہوتے ہوئے کرپشن بڑھتی گئی اگر ہم نے ملک میں کمزور اور طاقت ور کیلئے قانون میں فرق کیا تو ہمارا ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھے گا، اگر کوئی مزید سوال کرتا ہے تو ہم ان سے تفتیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں اپنے

اور دوسروں کے چوروں اور کرپٹ لوگوں میں فرق کرتے ہیں تو احتساب ختم ہوجاتا ہے، اگر جنرل (ر) عاصم باجوہ کے حوالے سے کسی نے سوال کیا تو تفتیش کریں گے اور ضرورت پڑی تو ایف آئی اے کے حوالے کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں گھر کے خرچ خود اٹھاتا اور گھر کے اندر سیکیورٹی باڑ تحریک انصاف نے اپنے پیسوں سے لگوائی اور اس کے لیے ٹیکس کا پیسہ خرچ نہیں کیا، مجھے کوئی تحفہ ملا تھا وہ توشہ خانے میں جمع کرکے جو پیسے بچے اس سے سڑک بنوائی۔اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کیے گئے استعفے کے مطالبے پر وزیر اعظم نے کہاکہ وزیر اعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گا اور باقیوں سے یہ ڈیل کریں گے جو نہیں ہوگا، ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جتنا احتجاج کرنا چاہتے ہیں کریں، جس وقت انہوں نے قانون توڑا، میں ایک،ایک کو جیلوں میں ڈالوں گا، ان کے کہنے پر استعفیٰ دینے کا مطلب چوروں کے بلیک میلنگ پر استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ مجھے پاکستان کے ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں نے منتخب کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے استعفیٰ دیا تو ہم پھر سے الیکشن کرائیں گے اور اتنی بڑی نشستوں الیکشن ممکن ہے، اگر یہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ کریں اور یقین دلاتا ہوں کہ یہ جو کرنا چاہیں میں اس کے لیے تیار ہوں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں

ہمیں قانون سازی میں آسانی ہوگی کیونکہ جو اصلاحات کرنا چاہتے ہیں وہ سینیٹ میں جا کر پھنس جاتی ہیں کیونکہ وہاں ان کی اکثریت ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہمارے پہلے دو سال میں بہت زیادہ تنقید کی جو کسی حکومت کے ساتھ نہیں ہوئی، فیک نیوز سے ہمیں نقصان پہنچایا، کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا رہا اور کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا نہیں رہا اور ان مجروموں کے تحفظ کیلئے کوئی

کسر نہیں چھوڑی اور جو لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے تھے ان کو سپورٹ کیا۔صحافیوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مطیع اللہ جان کے معاملے پر ہماری حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور وہ ہمیں کیا نقصان پہنچا رہے تھے کہ ہم اغوا کرتے یا کسی اور کو اغوا کریں۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف

مقدمے پر وزیراعظم نے کہا کہ ایسٹ ریکورٹی یونٹ میں ایک چیز آئی ہم نے عدلیہ کو بھیج دی، یا تو کہیں اس ملک میں کوئی مقدس گائے ہے ایسا ہوا تو احتساب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ میں چیزیں آئیں تو شہباز شریف کے خلاف کیسز بنے اسی طرح یہاں بھی بات آئی لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا عدلیہ کو بھیج دیا کہ آپ فیصلہ کریں۔نواز شریف کی واپسی کے لیے حکومتی

منصوبے پر انہوں نے کہاکہ ہم نے فوری منصوبہ بنایا ہے، برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں واپس بھیج دو، ایک جھوٹ بول کر مجرم باہر گیا، کسی مجرم کو ایسی چھوٹ نہیں دی جاتی لیکن ہم نے انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دی۔وزیراعظم نے کہاکہ نواز شریف نے باہر

جا کر سیاست شروع کی بلکہ سیاست شروع نہیں کی، ہمیں پتہ ہے کہ باہر کے لوگوں سے باقاعدہ مل رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے، ہم ان کو واپس بلا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کوئی وجہ نہیں ہے اس کو واپس نہ بھیجیں، ایک مجرم خاص وجہ سے گیا تھا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر