شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد سرمایہ کاروں کا حیرت انگیز عمل، پاکستان سٹاک مارکیٹ شدید ترین مندی کی لپیٹ میں

سوشل میڈیا‎‎

کراچی (این این آئی) پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے شدید ترین مندی کی لپیٹ میں رہی،کے ایس ای100انڈیکس 1600پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 41ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے نیچے آگیا اور 40ہزار پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بند ہوا،مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 280ارب روپے ڈوب گئے اور سرمائے کا مجموعی حجم 78کھرب روپے سے گھٹ کر75کھرب روپے کی سطح پر آگیا،کاروباری مندی کی وجہ سے 64فیصد حصص کی قیمتیں بھی گر گئیں۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا آغاز مثبت زون میں ہوا لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے بعدسیاسی لحاظ سے غیر مستحکم صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے

حصص فروخت کرنے شروع کردئے جس کے نتیجے میں مندی چھاگئی۔ماہرین کے مطابق اپوزیشن رہنماں کی گرفتاری سے ملک کے سیاسی افق پر چھائی غیر یقینی صورتحال کے علاوہ خام مال کی عالمی قیمت میں کمی اور مقامی آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سیکٹر کے منافع میں 40فیصد کمی جیسے عوامل کیپٹل مارکیٹ پر اثر اندز ہوئے یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے3دن مندی کی لپیٹ میں رہی اس دوران انڈیکس 2199.25پوائنٹس لوز کر گیا جبکہایشیائی ترقیاتی بینک کی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے سلسلے میں پاکستانی کیپٹل مارکیٹ کو30کروڑ ڈالر قرض دینے کی منظوری،چائنیز کمپنیوں کی کے الیکٹرک کے 66.4فیصد حصص کی خریداری،نجکاری کے عمل سے100ارب روپے کی آمدنی کی توقع اور ایف بی آر کی جانب سے رواں ماہ کا ریونیو وصولیوں کا ہدف حاصل ہونے جیسی خبروں سے سرمایہ کاروں کا نہ صرف اعتماد بحال ہوا بلکہ شعبہ جاتی بنیادوں پر مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے مارکیٹ کا گراف بلند بھی ہوا جس کی وجہ سے 2دن کی تیزی سے انڈیکس نے568.85پوائنٹس ریکور کئے تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ تنزلی کا شکار رہی۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس میں 1630.4پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس 41701.23پوائنٹس سے کم ہوکر 40070.83پوائنٹس پر آگیا اسی طرح626.28پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای30انڈیکس 17605.68پوائنٹس سے کم ہو کر16979.40 پوائنٹس پر ہو گیا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 29636.11پوائنٹس سے گھٹ کر28574.84پوائنٹس پر بند ہواکاروباری اتار چڑھا کے بعد رونما ہونیوالی مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں ایک ہفتے کے دوران 2کھرب80ارب21کروڑ15لاکھ4ہزار142روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 78کھرب 18ارب84کروڑ19لاکھ62ہزار837روپے سے کم ہو کر75کھرب38ارب63کروڑ4لاکھ58ہزار695روپے رہ گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس 41785.73پوائنٹس کی بلند سطح پر دیکھا گیا تھا تاہم مندی کے اثرات غالب آنے سے انڈیکس 39902.28پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بھی ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشت ہفتے زیادہ سے زیادہ 15ارب روپے مالیت کے 47کروڑ37لاکھ30ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم12ارب روپے مالیت کے 34کروڑ85لاکھ89ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر 2044کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 671 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 1302میں کمی اور71کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے حیسکول پیٹرول،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ،کے الیکٹرک لمیٹڈ،یونٹی فوڈز لمیٹڈ،بائیکو پیٹرولیم، پاک انٹر نیشنل بلک،عائشہ اسٹیل مل،میپل لیف سیمنٹ،بینک آف پنجاب،پی ٹی سی ایل،پاک ریفائنری،بینک آف پنجاب،فوجی فوڈز لمیٹڈ،سلک بینک لمیٹڈ،فوجی سیمنٹ،پاور سیمنٹ اور ازگارڈنائن سر فہرست رہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر