پہلے ایک بابا رحمتا برداشت کر لیا، اب کوئی دوسرا بابا رحمتا لایا گیا تویہ کام کریں گے،کارکنوں کو بھی بڑا حکم جاری، ن لیگ کا استعفوں بارے بھی تہلکہ خیز اعلان

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پارٹی صدرو قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف مال رود سے ملحقہ ٹمپل روڈ پر احتجاج کیا جس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی،لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور رہنما کارکنوں کے جلوسوں کے ہمراہ اپنے حلقوں سے مال روڈ پہنچے، کارکنان سارے راستے پارٹی قائد محمد نواز شریف، پارٹی صدر محمد شہباز شریف کے حق میں،حکومت اور نیب کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے، مسلم لیگ (ن) کے احتجاج میں کارکنوں کی قافلوں کی صورت میں آمد کی وجہ سے مالروڈ سمیت مختلف شاہروں پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر رہا، پولیس کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کے احتجاج کے موقع کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے۔احتجا ج میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے

صدر رانا ثنااللہ خان، مرکزی رہنما سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، پرویز ملک،رانا مشہود احمد خان، خواجہ عمران نذیر،شائستہ پرویز ملک، مجتبیٰ شجا ع الرحمان سمیت دیگر اراکین قومی وصوبائی اسمبلی، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ جب لاہور جاگتاہے تو پورا پنجاب اور پورا پاکستان جاگتاہے،پاکستان جاگتاہے تو کوئی آمر اور ڈکٹیٹر ٹھہر نہیں سکتا،کٹھ پتلی وزیر اعظم کا جانا ٹھہر چکا ہے اب یہ نہیں رکے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف وہ لیڈر ہے جس نے پنجاب کو ترقی دی،تین سال سے مقدمات بنا رہے ہو جس سے کچھ بھی نہیں نکلا،خدا کی قسم امانت و دیانت سے شہبازشریف نے دس سال صوبے کی خدمت کی،دس سالوں میں ایک بار نہیں دیکھا شہبازشریف نے اپنی فیملی کے کاروبار پر بھی بات کی ہو،سلمان شہباز کاروبار کو دیکھتے تھے کبھی ان سے نہیں پوچھا کیا کررہے ہو،شہبازشریف نے عوام کی خدمت کی ان پر الزامات کو کبھی ثابت نہیں کر پاؤ گے، مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں چھ سے سات سو ارب ترقیاتی بجٹ کی مد میں عوام پر خرچ ہوا جس میں ایک پائی کی کرپشن نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جھوٹے مقدمے اور پراپیگنڈہ اس لئے کر رہے ہیں کہ اپنی چوری، نااہلی اور نالائقی کو چھپا سکیں، یہ عوام سے جھوٹ بولتے رہے کہ پچاس لاکھ گھر بنا کر دیں گے، ڈھائی سال میں پچیس لاکھ کے بجائے پانچ لاکھ گھر نہیں بنا سکے بلکہ کئی ہزار لوگوں کو گھروں سے محروم ضرور کیاہے، کہاں ہیں ایک کروڑ نوکریاں، بلکہ آپ نے تو کروڑوں لوگوں کو بیروزگار کر دیا ہے،۔ انہوں نے کہا کہ سازش کرکے بابے رحمتے کی ذریعے نوازشریف کومنصوبوں کے افتتاح نہ کرنے دیئے گئے،حکومت بتائے اس نے آج تک کونسا میگا پراجیکٹ شروع کیا ہے،اب تک حکومت نے کسی سڑک یا موٹر وے کاافتتاح نہیں کیا۔ حکمرانوں نے ہمارے منصوبوں کاافتتاح کرنا شروع کیا، جب یہ منصوبے کا افتتاح کر کے آتے تو لوگ شکریہ نواز شریف کے بینرز آویزاں کر دیتے اور اب انہوں نے ان کا افتتاح کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا اب حکمرانوں کو چلتا کیاجائے گا،پورے پنجاب سے نوازشریف کے کارکنان جس کمٹمنٹ سے کھڑے ہیں اسی کے ساتھ لاہور آئیں گے،جس دن لوگ باہر نکلے تو عمران خان وزیر اعظم ہاؤس سے بھاگ جائے گا اور یہ دن اس کا آخری دن ہوگا،پی ڈی ایم کی تحریک میں (ن) لیگ ہر اول دستہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی چاہتا ہے کہ اپوزیشن اور ادارے آپس میں دست و گریبان ہو ں اور میاں مٹھو چوری کھاناچاہتا ہے، میاں مٹھو وزیر اعظم آج بھی وزیر اعظم کے پنجرے میں بند ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام ادارے آئینی حدود کا پاس نہیں کریں گے اس وقت تک ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اورستر سال سے ملک آگے نہیں بڑھ رہا،اسے اب آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جھوٹے کیس میں بند کیا گیا، اگلے روز کہا تھا پہلے میں سو فیصد نوازشریف کے ساتھ تھا اگر آج دوبارہ گرفتار کرلیا ہے تو اب میں ہزار فیصد نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جو بڑے عہدوں پر بیٹھے منصف ہیں انہیں کہناچاہتے ہیں اپنی گفتگو میں اعتدال رکھیں،جسے عوام نے تین بار وزیر اعظم منتخب کیا اس سے ایسی بات نہ کیا کریں جس سے عوام کا دل دکھے، ہم نے پہلے ایک بابا رحمتا برداشت کر لیا اب اور صبر کا امتحان نہ لیا جائے،ا

گر اب کوئی دوسرا بابا رحمتے لایاگیا تو اس کی عزت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ شہبازشریف کے خلاف سازش کی گئی،جو تم کررہے ہو اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو،مودی کونوازشریف کایار کہتے تھے، عمران خان نے خود کہا مودی جیت گیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا،کشمیر کا فیصلہ نیازی اورمودی نے جو کروایاوہ سب کے سامنے ہے،عمران خان نے مودی و ٹرمپ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے کشمیر کا سودا کیا،یہ وہی عمران نیازی ہے جومودی سے بات کرنے کیلئے بے چین رہا۔ انہوں نے کہا کہ چینی آٹے اوردوائی کی چوری میں حکومت ملوث ہے،حکمرانوں کی سوچ کٹے سے شروع ہوکر مرغی کے انڈے پر ختم ہوتی ہے۔ا نہوں نے کہا کہ اب رستہ ایک ہے کہ ٹکرا جاؤ یا ان کی بات مان لو،پوری طاقت سے نوازشریف کا ساتھ دیں گے،جیلوں سے ڈراتے ہیں لیکن نہیں ڈریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بندکرنے کی سازش عوام پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ استعفے میرے کمرے میں دینے نہیں آتے شرائط بھی پورے نہیں کرتے،استعفیٰ دینا اور منظور کروانا بھی آتاہے،

جب ہم نے استعفے دینا ہوں گے تو قومی اسمبلی میں اعلان کریں گے ایک نہیں دس استعفے دیں گے، کارکنان تیار ہوجائیں اب حکمرانوں کا راستہ روکنا ہوگا،وہ دن آنے والا ہے جب ہم پیچھے اور نیازی آگے آگے ہوگا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ تم نے شہباز شریف کو نہیں پنجاب کی خدمت کو پابند سلاسل کیا ہے، پنجابیوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ عمران خان کان کھول کر سن لو جیلیں،مقدمے نا انصافی مسلم لیگ (ن) کے شیروں اور شیرنیوں کا راستہ نہیں روک سکتے۔ہم نے اور قوم نے دو برس تمہیں برداشت کیا، تم نے کوئی کام نہیں کیا بلکہ پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ تمہاری پالیسیوں سے لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں،غربت بڑھ گئی ہے بیروزگاری بڑھ گئی ہے لا قانونیت بڑھ گئی ہے، ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں محفوظ نہیں ہیں، نئے پاکستان کا دعویٰ کیا لوگوں کوسبز باغ دکھائے گئے۔ سازش کی گئی وہ سازش یہ تھی کہ نواز شریف اور اس کے ساتھیوں کے چہروں کو داغدار کروں چور بناؤ،شہباز شریف نے جدید پنجاب اور نواز شریف نے جدید پاکستان کی بنیاد رکھی۔ آپ جس طرف نکل جائیں تعمیر و ترقی کے زندہ نشان موجود ہیں

۔ پوچھو اس نئے پاکستان والوں سے سو ا دو سال میں کون سا میگا پراجیکٹ دیا ہے، عوام کی خدمت کا کونسا منصوبہ لائے ہو،آپ نے عوام کو جھوٹ فریب دھوکہ بازی اورجھوٹے مقدموں کے سوا کیا دیا ہے۔ نواز شریف یا ساتھیوں کا نہیں تم نے ریاست پاکستان کانقصان کیا ہے۔ جب حکومتیں کام نہیں کرتیں تو ملکوں کی معیشت ڈوب جاتی ہے،اداروں کا بھٹہ بیٹھ جاتاہے۔ ملک میں ہر طر ف انتشار،تقسیم اورتلخی ہے۔،محبت جبر سے نہیں بوئی جاتی،لوگوں کے دلوں پر راج کیا جاتا ہے،جسموں پر نہیں دلوں پر حکومت کی جاتی ہے۔ سوا دو سال کے بعد آخری کار کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ہم نے کوشش کی کہ جھگڑا نہ کریں ہم مار کھاتے رہے سہتے رہے ہمیں سر بازار چور کہا جائے اب ہمیں غدار کہا جارہا ہے، کیا ہم غدار ہیں؟، ہم اس ملک کی خاطر خون دینے والے لوگ،ہمارے بڑوں نے اپنی زندگی جمہوریت کیلئے قربان کی ہے، ہم نے ساری زندگی جمہوریت آئین او ر قانون کی سر بلندی کیلئے وقف کی۔۔ نواز شریف نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی لاؤ،آئین کے سائے نیچے کام کرو کیا یہ غداری اور بغاوت ہے؟۔ آئین ایک بار ختم ہو گیا تو دوبارہ نہیں بنے گا، شہری حقوق بحال کئے جائیں،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں نیچے لائی جائیں،اب کوئی راستہ نہیں بچا جب کوئی راستہ نہیں بچا تو ہم نے پی ڈی ایم بنائی ہے، ہم آئین و قانون کے مطابق چل رہے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلاؤ،قانون کی حکمرانی قائم کو۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتیں کہتی ہیں تم منتخب حکمران نہیں ہوے تم سلیکٹو ہو، عمران خان جاؤ،

ہم تمہیں کہتے تھے کہ ایسی روایت نہ ڈالو کل تم کیا کرو گے، تم نے پوری قوم کو رلادیا ہے،تمہیں عوام کی آہیں سسکیاں سنائی نہیں دیتیں،تم نے کسی غریب کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا،سارا دن اپوزیشن سے لڑتے ہو، تمہارے وزراء جھوٹ بولتے ہیں، آج قومی سلامتی کا مشیر وہ جو امریکہ میں رہتا ہے، تمہارا ترجمان وہ ہے جس کی دہری شہرت ہے، جوں جوں عمران خان کے جانے کے دن قریب آئیں گے یہ سوٹ کیس اٹھا کر امریکہ بھاگ جائیں گے،یہ ملک کو برباد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حمزہ شہباز چودہ مہینے سے بے گناہ جیل کاٹ رہا، سید خورشید شاہ طویل عرصے سے جیل کاٹ رہے ہیں،یہ کیسی جمہوریت ہے، قائد حزب اختلاف شہباز شریف جیل میں ہے، سابقہ قائد حزب اختلاف جیل میں،پنجاب کا احتساب حمزہ شہباز جیل میں ہے، ساری اپوزیشن کو احتساب کے دروازے پر کھڑا دیا ہے۔ ہمیں سب پتہ ہے جو ظلم نواز شریف کے ساتھ ہوا ہے،ڈاکٹروں نے کہا کہ

نواز شریف کو اللہ نے بچایا۔ انہوں نے ملک کے سب سے بڑے لیڈر کو ان حالات میں رکھا کہ ان کو ڈی ہائیڈریشن ہو گئی،اگر تمہیں یہ جیل کاٹنا پڑ گئی تو تم 5 دن نہیں نکال سکو گے،جمہوریت پر جب بھی شب خون مارا جاتا ہے تو ہم جیلوں میں جاتے ہیں ہمیں جیلوں میں ڈال کر تمہیں اور ملک کو کیا ملا،اب اداروں کو غیرجانبدار ہونا ہو گا،اگر ملک چلانا ہے تو نظریہ ضرورت کو دفن کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے،ملک میں شفاف انتخابات کروائیں،پنجاب کے لوگو، پنجاب کی پگ کو داغ نہیں لگنے دینا،پرامن انداز میں باہر آ کر احتجاج کریں گے تو یہ گیڈر بھاگ جائیں گے۔گر ہم نے ملک کو آگے لے کر جانا ہے قومی اداروں کو انصاف دینااورغیر جانبدار ترازو سے تولنا پڑے گا،ملک کو چلانے کے کے لئے 73ء کے آئین پر عمل کرناہوگا،جیل کا پھاٹک ٹوٹے گا شہباز اورحمزہ شہباز چھوٹے گا،اس سے پہلے بہت دیر ہوجائے عقل سے کام لے کر انتقام کا سلسلہ بندکرکے عوام کی حکمرانی قائم کی جائے۔ ووٹ کو عزت نہ دی گئی تو ملک ٹوٹ گیا اب ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر