پاکستان کو بچانے کیلئے فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی،سلیکٹرز بتائیں ایسے سلیکٹرز کو کیوں ہمارے سروں پر ٹھونس دیا گیا؟ہم کسی کے غلام بن کے نہیں رہ سکتے؟ نواز شریف ایک بار پھر کھل کر بول پڑے

پاکستان

لندن(آن لائن) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے کیلئے فیصلہ کن گھڑی آپہنچی،اب عوام اپنے فیصلے سڑکوں پر کریں گے، ملک کے تمام شعبے اور معیشت تباہ، کسانوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، کاشتکار سکون سے نہیں سوتا،ایماندار سرکاری افسران کی زندگی اجیرن بن گئی،سلیکٹرز بتائیں ایسے سلیکٹرز کو کیوں ہمارے سروں پر ٹھوس دیا گیا، جب تک جواب نہیں

ملے گا،پاکستانی عوام گھروں کو واپس نہیں جائے گی، ہم کوئی گائیں،بھینسیں اور بکریاں نہیں کہ غلام بنا لیا جائے، ہم کسی کے غلام بن کر نہیں رہ سکتے، جو ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے وہ گھر چلے جائیں ہمیں ان کی ضرورت نہیں، ہم ملک کو باوقار بنائیں گے،شکر ہے فوج کا سب سے بڑاحصہ آئین و قانون کی پاسداری کرتا ہے جس پر مجھے خوشی ہے،مجھے پاک افواج کا ہروہ جوان اورافسر بہت عزیز ہے جو آئین و قانون کا پاسدار ہے لیکن ایسے جوان عزیز نہیں جو الیکشن میں دھاندلی کراتے ہوں، اب یہ تماشا بند ہونا چاہیے ہم مزید یہ تماشا نہیں چلنے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار نوازشریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک کو کیا سے کیا بنا دیا گیا ہے،اس ملک میں کیا نظام چل رہا ہے،نہ پارلیمنٹ کو چلنے دیا جاتا ہے، نہ عدلیہ کو چلنے دیا جاتا ہے اور دیگر اداروں کو بھی نہیں چلنے دیا جاتا ہے،کچھ طاقتیں ہیں جو اس نظام کو نہیں چلنے دیتیں،حال ہی میں ایک بطور وزیر اعظم یہ سب کچھ دیکھ چکا ہوں،مکھن سے بال کی طرح مجھے نکال دیا گیا ہے،ایک شخص کو وزیر عظم کے منصب سے اس لئے نکال دیتے ہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،ایک اقامہ کی بنیاد پر ہٹا دیا گیا،مشرف دور میں ہمیں باہر بھیج دیا گیا سعودی عرب میں رہنے کے لئے اقامہ رکھنا ضروری تھا،7 سال تک ملک سے باہر رہا،اقامہ کے بغیر وہاں نہیں رہ سکتا تھا۔

بیٹے سے تنخواہ لی ہے یا نہیں لی میری مرضی۔یہ کونسا انصاف ہے کہ تنخواہ نہ لینے پر باہر نکال دیا گیا اور ان فیصلوں سے ملک کی حالت کیا ہو گئی ہے۔آج میں قوم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ2017 کا پاکستان اچھا تھا یا 2020 کا پاکستان اچھاہے۔ملک کے تمام شعبے تباہ ہوگئے ہیں، ملک کی معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ کسانوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، کاشتکار سکون سے نہیں سوتا،ایماندار

سرکاری افسران کی زندگی اجیرن بن گئی ہے،یہ صورت حال 2013 سے لیکر2017 تک نہیں تھی،ہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دہشت گردی کا خاتمہ کرایا،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔جب جیل میں تھا تو صورت حال کا بخوبی مشاہدہ کرتا رہا۔چند سالوں میں ملک ڈبو دیا ہے،مجھے موجودہ حکومت سے بالکل امید نہیں ہے،ملک ڈوب رہا ہے اور ان کو کوئی فکر نہیں۔اس وقت لوگ پانی میں

نمک ڈال کر روٹی کھا رہے ہیں اس صورت حال میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔اب عوام کے لئے آواز نہیں اٹھاؤں گا اور ہم باہر نہیں نکلیں گے تو میں سب سے بڑا مجرم ہوں،ایک کروڑ کی نوکریوں کا وعدہ کیا گیا،پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا ہے،میں آج پوچھتا ہوں آج تک کسی کو ایک گھر ملا ہے۔انہوں نے اتنے بڑے بڑے وعدے کئے،کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔ہر بات پر یو ٹرن لے

رہے ہیں، آئی ایم یف سے نہ جانے کا وعدہ کیا گیا پھر چلے گے، خود کشی کا وعدہ کیا،خود کشی تو نہیں لیکن قرضے ضرور لئے۔ ہمارے دورے میں چار سالوں میں صرف 4 روپے پاکستان کی کرنسی گری اور ڈالر 104 پر رہا اور آج 65 روپے کرنسی گر گئی ہے۔ہمارے دورے میں برطانوی پاؤنڈ 120 روپے تھا جو آج 225 کا ہوگیا ہے۔پاکستان کا کیا حال کر دیا ہے کسی کو بھی ادراک

نہیں ہے۔اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کا مظاہرہ دیکھ کر لگا کہ صورت حال کتنی سنگین ہوگئی ہے۔ ایک ملازمین کی تنخواہ 20 ہزا روپے ہے اور اس کے اخراجات 34 ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔اورنج لائن بغض کا شکار ہوگئی ہے اور اس کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے ہماری حکومت ہوتی تو آج اورنج لائن عوام کی خدمت کررہی ہوتی۔بی آر ٹی منصوبے کرپشن کا انبار لگا ہوا ہے،اگر تمہارے

ہاتھ صاف ہیں تو عدالت کیوں پہنچ گئے ہو۔ہمارے خلاف تو بڑی بڑی بڑھکیں مارتے تھے،ہمارے خلاف تو فوری جے آئی ٹی بن گئی اور اس میں خفیہ اداروں کے افراد کو بٹھا دیا گیا۔میری عمر 70 سال ہوگئی ہے دیکھ رہا ہوں کہ ملک کے اصل مسائل کو حل کرنے پر کبھی بات نہیں ہوئی۔میں ایک پاکستانی ہوں میرا حق اورمیرا فرض ہے کہ ان مسائل سے قوم کو آگاہ کروں۔اپنا فرض سمجھ کر اے

پی سی میں کھل کر ملک کے اصل مسئلے کی جانب سے قوم کی توجہ مبذول کروائی۔ صاف اور شفاف طریقے سے اپنی بات کو قوم تک پہنچائی۔ہم غلام بن کر اس ملک میں نہیں رہ سکتے،ہم گائے،بھینسیں نہیں ہیں نہ ہی ہم بکریاں ہیں۔ہم اپنے ملک کو دشمنوں کے حوالے سے نہیں کر سکتے۔ہم آئندہ ایسا نہیں ہونے دیں گے،ہم ملک کو باوقار بنائیں گے اور صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ

اے پی سی میں بتا دیا ہے۔موجودہ حکمران پاسپورٹ کو عزت نہیں دلوا سکتے،باہر دنیا کے سامنے جھولیاں پھیلا رہے ہیں۔ہم نے پاسپورٹ کو عزت دلوائی تھی۔پوری دنیا ہماری معترف کررہی ہے۔ہم نے موٹروے کے جال بچھائے، میٹرو ٹرین اور اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبے شروع کئے۔گوادر سے کوئٹہ سے منصوبے شروع کئے اور کوئٹہ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے منصوبے

شروع کروائے تھے جو آج تیار ہو رہے ہیں۔چترال منصوبوں کو مکمل کیا ہے وہاں کی عوام سے جا کر پوچھو ان کو کیا فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ جے تھنڈر ہم نے بنائے تھے،اس منصوبے پر نواز شریف کے دستخط ہیں۔دفاع کو مضبوط کیا اور دفاعی ضروریات کو ہر لحاظ سے پورا کیا۔دفاعی ضرورت کو پورا کرنے کا مقصد پاک فوج کو دنیا کی نمبر1 فوج بنانا تھا۔شکر ہے فوج کا سب سے بڑا

حصہ آئین و قانون کی پاسداری کرتی ہے جس پر خوشی ہے۔ آئین و قانون کی پاسداری نہ کرنے والوں کی کوئی عزت نہیں۔مجھے فوجی بہت پیارا ہے، پاک افواج کے جوان،افسر بہت عزیز ہیں لیکن ایسے جوان عزیز نہیں ہیں جو الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں۔آر ٹی ایس کو بند کر کے ن لیگ کے ووٹ کو باکسوں سے نکال تحریک انصاف کے باکس میں ڈالے گئے۔ہم جیت رہے تھے اور آر ٹی

ایس سسٹم بٹھا کر ہرا دیا گیا۔آج واضح الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ اگر ووٹ کو عزت نہ دلوائی گئی تو دنیا میں کہیں پاسپورٹ کی عزت نہیں ہوگی۔ملک ٹریک پر چل رہا تھا،ہمیں فارغ نہ کیا جاتا تو پاکستان کی عزت بلند ہوگئی تھی،معاشی ترقی کررہا تھا،سی پیک اہداف کررہا تھا،پاکستان میں خوشحالی تھی اور دنیا تعریفیں کررہے تھے لیکن ہمیں نکال کر ملک کو ڈبو دیا گیا،آج ایک ایک ڈالر

مانگ رہے ہیں،افغانستان،بنگلہ دیش، نیپال جیسے ممالک کی کرسی سے روپے کی قدر گر گئی ہے جس کی وجہ آج غریبوں کا یہ حال ہوگیا ہے۔لوگ بازار جاتے ہیں تو لوگ روتے ہیں،خواتین سبزیوں،ٹماٹر، پیاز اوآٹے کا بھاؤ معلوم کر کے روتے ہیں۔بجلی اور گیس کے بل دیکھ کر عوام چکرا کر رہ جاتے ہیں۔حیران ہوں پاکستانی عوام کیسے برداشت کررہے ہیں۔ہم جیت رہے تھے لیکن آر ٹی

ایس بند کر رکے تبدیلی والے کو جتوا دیا ہے۔یہ آئین و قانون شکنی ہوئی ہے۔اتنی بڑی دھاندلی کر نے کے باوجود پنجاب،بلوچستان سے دو،دود،چار چار بندوں کو لے آئے اور صرف چارووٹوں کی برتری نے عمران کو وزیر اعظم بنایا ہے اور اس نے ملک کا یہ حشر کر دیا ہے۔ملک کو بچانے کا وقت آگیا ہے،اس نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا،قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ہم اس کے خلاف کھڑے

ہو گئے ہیں اور اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک ہم جنگ جیت نہیں جاتے۔جو ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا برائے مہربانی گھر چلا جائے اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے قوم کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ملک کی ایسی حالت کرنے والوں کا صرف ذمہ دار عمران خان نہیں بلکہ اصل ذمہ دار کوئی اور ہیں۔انہوں نے کہاکہ چینی چور ملک سے باہر بھاگ گئے ہیں اور موجودہ حکمرانوں نے ان

کو باہر بھجوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ملک میں ادویات مہنگی ہوگئی ہیں،اس وقت مریض کیسے علاج کرا رہے ہیں۔سلیکٹرز بتائیں ایسے سلیکٹرز کو کیوں لایا گیا،ہماری سروں پر ٹھوس دیا گیا جب تک جواب نہیں ملے گا پاکستانی عوام گھروں میں نہیں جائے گی۔جواب دینا ہوگا، اب فیصلہ کن گھڑی آ پہنچی ہے یہ نظام نہیں چل سکتا،یہ اسمبلیاں نہیں چل سکتیں۔ہر طبقہ پریشان ہے،تاجر پریشان

ہے ہم نے آپ سے جواب لینا ہے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔بی آرٹی منصوبے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،کئی اربوں روپے ڈبو دیئے گئے، اربوں کھربوں لوٹ کر چینی چور باہر بھاگ گئے ہیں۔مجھے تنخواہ پر نکالنے والے مجھے بتائیں عمران خان سے بنی گالہ کی رسیدیں کب لیں گے۔ملک اس وقت مکمل ڈوب چکا ہے،اب عوام اپنافیصلہ خود کریں گے اور ملک کو بچانے کیلئے فیصلہ کرنے آ رہے

ہیں۔نواز شریف نے دوران خطاب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی انٹرویو کی ویڈیو بھی دکھائی جس میں عمران خان نے شریف خاندان کے خلاف کارروائی کیلئے غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات جاری کئے تھے۔نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئی ادارہ ہے جو گریڈ 22 کے افسر سابق ڈی جی ایف آئی اے کے انٹرویو کا نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے کے انکار کے

بعد نیب کو استعمال کیاگیا،بشیر میمن نے بتایا کہ میرے انکار کے بعد چیئرمین نیب نے شریف فیملی کے خلاف کارروائی کے لئے کی رضا مندی ظاہر کی تھی۔نواز شریف نے کہا کہ بنی گالہ کا گھر کا کہاں سے آیا،زمان پارک کا گھر کہاں سے آیا ہے، فارن فنڈنگ کا فیصلہ کب آئیگا،حلیمہ خان کب رسیدیں کب دے گی،عاصلم سلیم باجوہ رسیدیں کب دے گا،نیب نے آنکھیں بند کررکھی ہیں،نیب

نے قوم کو ”الو“ بنا رکھا ہے، اب ہم ایسا نہیں کرنے دیں گے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کلین چٹ دیکر چلے گئے لیکن قوم رسیدیں مانگتی ہیں،قوم کو رسیدیں دکھاؤ۔میرے خلاف فیصلہ دینے والے ارشد ملک برطرف ہوگیا ہے لیکن ہمارے خلاف فیصلہ برطرف نہیں ہوا۔ نواز شریف نے دوران خطاب جسٹس شوکت عزیزصدیقی کی ویڈیو بھی دکھائی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کس طرح حساس

اداروں کے لوگ عدلیہ کے فیصلوں میں کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے رابطہ کر کے کہا کہ نواز شریف کو الیکشن سے قبل باہر نہیں آنے دینا۔اس موقع پر جے یو آئی (ف) کے رہنما غفوری حیدری

کی ویڈیو دکھائی گئی جس میں وہ اعتراف کررہے ہیں مجھے رابطہ کر کے کہا گیا نواز شریف کے خلاف ہم جو کررہے ہیں اس میں مداخلت نہ کریں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اب یہ تماشا بند ہونا چاہیے ہم مزید یہ تماشا نہیں چلنے دیں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر