جو آئین کی عزت نہیں کرتا میں اس کی عزت نہیں کرتا مجھے فوج کے افسر عزیز ہیں، مجھے کسی بزدل کی ضرورت نہیں، نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو حیرت انگیز لقب دے دیا

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جنہوں نے ملک میں ابتری کی کیفیت پیدا کی ہے انہیں جواب دینا ہوگا،سلیکٹرز بتائیں کیوں اس کاانتخاب کیا،کیوں اس کوسرپر لا کرسوارکر دیا،پاکستانی قوم اب یہ سوال پوچھے گی، اگر آج پاکستا ن کو بدلنا ہے اورحقیقت میں پاکستان میں تبدیلی لانی ہے تو ان سوالوں کے جواب چاہئیں،اس کے

بغیر یہ ملک اور اسمبلیاں اورحکومتیں نہیں چل سکتیں، اس کے بغیر غریب کا چولہا اور پاکستان نہیں چل سکتا،سابقہ ڈی جی ایف آئی اے کا انٹرویو سب نے سن لیا ہے،جو کام ایف آئی اے نے نہیں کیا وہ نیب سے لیا جارہا ہے، آپ کو جواب دیناہوگا اورہمیں جواب لینا ہوگا اورہم جواب لینے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،ہم غلام بن کے نہیں رہ سکتے اگر ایسا ہوتا رہا ہے تو آئندہ ایسا نہیں ہوگاہم پاکستان کو باوقار باعزت ملک بنائیں گے اس کا وہی راستہ ہے جو میں نے اے پی سی میں دیا ہے،جو آئین کی عزت نہیں کرتا میں اسکی عزت نہیں کرتامجھے فوج کے افسر عزیز ہیں لیکن وہ افسر مجھے پسند نہیں جو دھاندلی کرتے ہیں جو انتخابات چوری کرتے ہیں،مجھے کسی بزدل کی ضرورت نہیں،جوبزدل ہیں وہ گھروں میں بیٹھے رہیں، اسمبلیوں کوبھی ان کی ضرورت نہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں اراکین قومی وصوبائی اسمبلی،سینیٹ ممبران اور ٹکٹ ہولڈرزکے مشترکہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر راجہ ظفر الحق،شاہدخاقان عباسی،احسن اقبال، مریم نواز، پرویز رشید، خواجہ آصف،راناتنویرحسین، خواجہ سعد رفیق، مخدوم جاوید ہاشمی،مریم اورنگزیب سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں اس لیے میرا حق ہے میں پاکستان کے مسائل کو سامنے لاؤں،آج ملک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے

آج تک ملکی مسائل کی اصل جڑ کی تشخیص تک نہیں ہوئی یا اس پر کوئی بات نہیں کرتا،میں نے 20 ستمبر کو اے پی سی میں پاکستانی مسائل کی اصل وجوہات کا ذکر کیا تھا، میں نے صاف شفاف انداز میں بات قوم تک پہنچائی تھی،آج بھی اگر ہم نے بات نہیں کرنی تو ہم اپنی نسلوں کو کیا دیں گے،کیا ہم کرائے کے ممبرز ہیں کہ کسی کے کہنے پر ووٹ دیدیں،ہم غلام بن کر اس ملک میں نہیں

رہنا چاہتے،اگر پہلے ایسا ہوتا رہا ہے تو اب ایسا نہیں ہو گا ہم پاکستان کو باعزت اور باوقار ملک بنائیں گے،اس کا وہی راستہ ہے جو میں نے اے پی سی میں دیا ہے،اگر ہمیں تنگ نہ کیا جاتا تو آج پاکستان ترقی کر رہا ہوتا،ایٹمی دھماکے کرنے سے پاسپورٹ کو عزت ملی،سڑکوں کے جال بچھانے سے سبز پاسپورٹ کو عزت ملی،موٹر وے کیا تبدیلی والوں نے بنائی ہے؟، جے ایف تھنڈر ہم نے بنایا،

ہم نے پاکستان کے دفاع کومضبوط کیا،ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج تب ہوگی جب آئین کی پاسداری کرے گی،ہماری فوج آئین کی پاسدار ہے،صرف چند لوگوں نے ساری فوج کو بدنام کیا ہے،جو آئین کی عزت نہیں کرتا میں اسکی عزت نہیں کرتامجھے فوج کے افسر عزیز ہیں لیکن وہ افسر مجھے پسند نہیں جو دھاندلی کرتے ہیں جو انتخابات چوری کرتے ہیں۔آپ لوگ جیتے ہوئے تھے لیکن

آپ کوہرایا گیا،اگر ووٹ کو عزت نہ دی پاکستان کی رہی سہی عزت چلی جائے گی،کوئی پاکستان کی عزت نہیں کرے گا،مجھے نہ نکالا جاتا تو پاکستان ترقی کر رہا تھا، سی پیک چل رہا تھا لیکن ہم ٹریک سے اتر گئے،ایک ایک ارب ڈالر ملکوں سے مانگ رہے ہیں،یہ نئے پاکستان کی بات کرنے والے سبز پاسپورٹ کی عزت کروائیں گے،جو جھولیاں پھیلا کر ملکوں سے قرضے مانگ رہے ہیں،

سبز پاسپورٹ کی عزت ہم نے بنوائی تھی جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے، ہزاروں کلومیٹر کی موٹرویز بنائیں اگر ہم ملک کی خدمت کر رہے ہوتے تو مزید موٹر ویز بھی بن چکی ہوتیں،گوادر سے کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان اور اسلام آباد کو ملا رہے تھے،چترال والوں سے پوچھیں کہ ہم نے ان کے لئے 50 سال پرانا منصوبہ کیسے مکمل کیا اور انہیں سہولت دی۔انہوں نے  کہا کہ

پاکستان کہاں تھااور آج اسے کہاں پہنچا دیا گیا ہے، خطے میں پاکستان کی کرنسی سب سے کمزورہے، روپے کی قدر میں کمی نے پاکستان کوبھی کنگال کردیا ہے، آج مہنگائی کی وجہ سے عوام کے آنسونکلتے ہیں، عوام کہتے ہیں کہ بچوں کو پالیں یا ان کو پڑھائیں، ان کو روٹی ٍکھلائیں یا دودھ پلائیں، انہیں روٹی کھلائیں یا فیسیں اداکریں،آج خواتین بھی روتی ہیں،جب بجلی اورگیس کے بل آتے ہیں

تو عوام کوسمجھ نہیں کہ وہ کہاں جائیں۔ پاکستان کے عوام نے دو سال کاعرصہ کس صبراور ہمت کے ساتھ گزارا ہے، یہ وہ نیا پاکستان ہے جس کے سنہرے خواب دکھائے گئے تھے؟۔ عوام نے اس کے باوجود اس کے نعرے کوقبول نہیں کیا۔ انہوں نے پارٹی کے اراکین اسمبلی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود آپ نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی لیکن کامیاب تبدیلی والوں کوکروایا

گیا،یہ بہت بڑی آئین شکنی،یہ نا قابل معافی جرم ہے،آرٹی ایس کوبندکر کے مکمل صفائی اور ہیر اپھیری کی گئی، مینڈیٹ کوچوری کیا گیا،ہمارے بکسوں کو تبدیل کرکے دوسرے بند ے کو جتوا دیا گیا، دھاندلی کے باوجودفاٹا سے، ایم کیو ایم اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کوساتھ ملایا گیا اور انہوں نے عمران خان کو وزیراعظم بنوایا،اتناکچھ کرنے کے بعدبھی، اتن بڑے پیمانے پر دھاندلی

کرنے کے باوجودبھی، مانگے تانگے کے ووٹوں کے باوجود عمران خان چارووٹوں کی برتری سے وزیر اعظم بناگیااور اس نے پاکستان کا یہ حشرکردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بزدل آدمی کی ضرورت نہیں ہے، اگر جس نے بزدلی کا مظاہرہ کرتاہے وہ برائے کرم گھر بیٹھ جائے قوم کی اس کی ضرورت نہیں ہے اس کیلئے اسمبلیوں میں بیٹھنے کی بھی گنجائش نہیں، اگر پاکستان کو بچانا ہو

تو پھر دل کو تھوڑابڑاکرناہوگا،بہادری اور جرات کامظاہرہ کرنا ہوگا، اس کیخلاف اٹھنا ہوگا۔ اپنی قو م او ردنیا کوبتاناہوگا کہ ہم ظلم او رناانصافی کو قبول نہیں کرسکتے اور ہم اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک یہ جنگ ہم جیت نہیں جاتے، آپ کو میرے ساتھ وعدہ کرنا ہوگا،آج پاکستان اس کا حساب لینے کا تیار ہیں، عوام آپ کے کاندھے کے ساتھ کاندھا ملانے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا

کہ ایک نظام ختم کرکے دوسرے اور پھر تیسرے نظام کے آنے پر سوچتے ہیں،آئین کے مطابق اداروں کو چلنے نہیں دیا جاتے،کچھ ایسی طاقتیں ہیں جو سب پر حاوی ہوجاتی ہیں،یکا یک کیا ہوگیا کہ مجھے مکھن میں بال کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا، مجھے سمجھ نہیں آتی اگر آپ کو آتی ہے تو مجھے سمجھا دیں،ایک شخص کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے اور اقامہ پر وزارت عظمیٰ کے منصب

سے نکال دیں،اگر جلا وطن نہ کیا جاتا تو اقامہ لینے کی کیا ضرورت تھی،کیا میں نے اقامہ کے بغیر رہنا تھا،بیٹے سے تنخواہ لی میری مرضی نہیں لی تب بھی میری مرضی۔نواز شریف نے کہاکہ آج میں کس سے اس کا گلہ کروں، اس کا ذمہ دارا عمران خان کوسمجھوں یا اس کو لانے والے اصل ذمہ دار ہیں؟۔عمران خان کو لانے والے عوام کا جذبہ دیکھیں۔اس سوغا ت کو جتنی جلدی ہو سکے لے

جائیں، یہ سوغات ہمیں نہیں چاہیے اس نے پاکستان کی تباہی کر دی ہے، اس نے پاکستان اورپاکستانیوں کو پریشان حال کر دیا ہے، آج لوگ بھوک سے مررہے ہیں،انہیں دووقت کی روٹی نہیں ملتی، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ چینی چور بھاگ گئے ہیں یا بھگادیا گیا ہے، دوائیاں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں،مریض کس طرح دوائیاں خریدتے ہوں گے، ایسے بھی

پاکستانی ہیں جوکسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔کیا تین سال پہلے ملک کی یہ کیفیت تھی؟جنہوں ن ے یہ کیفیت پیدا کی ہے انہیں جواب دینا ہوگا،سلیکٹرز بتائیں کیوں اس کاانتخاب کیا،کیوں اس کوسرپر لا کرسوارکر دیا اورٹھونس دیا، پاکستانی قوم اب یہ سوال پوچھے گی اورجب تک جواب نہ ملے آپ گھروں کو واپس نہیں جائیں گے،آپ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ نواز شریف نے کہاکہ اگر آج پاکستان

کو بدلنا ہے اورحقیقت میں پاکستان میں تبدیلی چاہتے ہیں تویہ وہ ہے تبدیلی ہے جولانی پڑے گی،اس کے بغیر یہ ملک اور اسمبلیاں اورحکومتیں نہیں چل سکتیں، اس کے بغیر غریب کا چولہا اور پاکستان کا نظام نیں چل سکتا،اس کے بغیر پاکستان کی عدالتیں بھی نہیں چل سکتیں،پاکستان کا کاروبار نہیں چل سکتا، ہرطبقہ پریشان رہے گا، آپ کو جواب دیناہوگا اورہمیں جواب لینا ہوگا اورہم جواب لینے

تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہاکہ آج معیشت منہ کے بل گر گئی ہے، بلین ٹریز کہاں ہے اس پر جو پیسے لگے ہیں یہ عوام کے خون پسینے کی کمائی ہے، چینی چوراربوں کھربوں لے کر کیسے باہر بھاگ گئے؟ انہیں جانے دیاگیا، وہ عوام کاپیسہ ہے، آپ نے وہ پیسہ واپس لینا ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالنے والے بتائیں عمران خان بنی گالہ کی

منی ٹریل کب دے گا،آپ کب اس سے رسیدیں لیں گے۔ انہوں نے کہاہ سابقہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے ان کی کرتوتوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔نواز شریف کی تقریر روک کرسابقہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا ایک صحافی کو دیا گیا انٹرویو کاکچھ حصہ بھی دکھایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے یہ تماشہ دیکھ اورسن لیا ہے، جب ڈی جی ایف آئی اے نے انکارکیاتووہی کانیب کر رہاہے۔انہوں

نے کہا کہ پاکستان بربادی کی طرف جارہا ہے،بشیر میمن گریڈ بائیس کے افسر تھے اوریہ سب سے بڑا گریڈ ہوتا ہے۔ وہ بتا رہے تھے کس طرح عمران خان نے کہا کہ نواز شریف،مریم نوازاور ہماری فیملی کیخلاف غداری،دہشتگردی اورکرپشن کے مقدمات درج کرو۔جوکام ڈی جی ایف آئی اے نے نہیں کیا وہ نیب کرنے کے لئے تیار ہو گئی،یہ ہے نیب کی بے ایمانیاں اوریکطرفہ احتساب

ہے،یہ زیادتی،ظلم اور ناانصافی ہے،عدالتیں بھی اس کے بارے میں کہہ چکی ہیں لیکن عدالتوں نے نیب کے قانون کوختم کرنے کے لئے کوئی ایکشن نہیں لیا، عدالتوں کو عملدرآمد روکنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہاکہ اب شہباز شریف کو پکڑلیاہے،انہوں نے دن رات پنجاب کی خدمت کی ہے اپنا سکون اورنیندیں چھوڑکر پنجاب کو سنوارا۔ نواز شریف نے کہا کہ قوم آج آپ سے رسیدیں مانگتی ہے،

عمران خان نے زمان پارک میں کروڑوں روپے سے نئی نئی کنسٹرکشن کی ہے،کہاں سے آیا پیسہ، آپ سے پوچھنا بنتاہے کہ نہیں، علیمہ خان کی رسیدیں کب ملیں گی، جنرل عاصم سلیم باجوہ کی رسیدیں کب ملیں گی،حکومت اور نیب کی آنکھیں بند ہیں لیکن عوام کی آنکھیں بند نہیں ہیں،آپ نے عوام کو قوم کو الو بنانے کی کوشش کی ہوئی ہے لیکن یہ نہیں چلے گا،ہم یہ نہیں چلنے دیں گے،آپ نے

پاکستان کے ساتھ دشمنی کی ہے ہم اس کو کھول کررکھیں گے،آپ نے ملک کو تماشہ بنا دیا ہے، ملک کومذاق بنا دیا ہے، ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ جج محمد بشیر نے میرے خلاف فیصلہ دیا ان کی عدالت سے کرنل برآمد ہوتا ہے وہ وہاں کیا کرنے گئے تھے۔ پھر جج ارشد ملک نے جو کچھ اعتراف کیا ہے اس پر سپریم کورٹ نے خود کہاکہ ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں،

جج برطرف ہو گالیکن فیصلہ برطرف نہیں ہوا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کیا کہا؟۔ اس ملک کے اندر دو ڈھائی سالوں میں یہ تماشہ ہوا ہے، ہماراخاندان،ہماری جماعت اس کا نشانہ بنی ہے، لیکن یہ سب فراڈ اورتماشہ ہے جو ملک کے ساتھ ہوا ہے، کیا ہم صرف تماشہ دیکھتے رہیں گے یا اس کیخلاف کھڑے ہوں گے، آپ نے اس کافیصلہ کرناہے میں اس کے بغیر آپ کو یہاں سے اٹھنے نہیں دوں گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر