نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر، یونیفارم والے بندے کو سزا سنا دوں تو اچھا نہیں ہو گا،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی درخواست گزار کے وکیل بابر ستار عدالت کے وبرو پیش ہوئے جبکہ نیول فارمز کی طرف سے قمر افضل ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب عدالت ایک یونیفارم والے بندے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے؟یونیفارم والے بندے کو سزا سنا دوں تو اچھا نہیں ہو گا ایف آئی آر درج ہو جائے تو انسپکٹر یا سب انسپکٹر جا کر نیول چیف سےتفتیش کریگا جس پر وکیل نیول فارمز کا کہنا تھا کہ یہ حساس معاملہ ہے عدالتی کارروائی سے غلط اثر پڑے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حساس معاملہ ہے تو کیا اس عدالت کو بند کر دیں اگر یہ معاملہ حساس بنا ہے تو عدالت کی وجہ سے نہیں بنا آپ کیا چاہتے ہیں نیول چیف کو اس

کاروبار کے لئے استثنیٰ دے دیا جائے؟ سب سے زیادہ حساس معاملہ قانون توڑنا ہے،سی ڈی اے کا قانون کمزور کے لیے ہے طاقتوروں کے آگے سی ڈی اے کے قانون خاموش ہو جاتے ہیں بابر ستار جب دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیول چیف کو کس چیز کا پیٹرن ان چیف بنایا گیا ہے جس پر بابر ستار نے عدالت کو بتایا کہ نیول چیف کو واٹر سپورٹس کا پیٹرن ان چیف بنایا گیا ہے اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ واٹر سپورٹس کی کوئی باڈی ہو گی کوئی ہوا میں تو پیٹرن ان چیف تو نہیں بنا دیا گیا ہو گا جس پر بابر ستار نے عدالت کو بتایا کہ بدقسمتی سے کوئی ایسی باڈی نہیں ہے نیول چیف کو بس واٹر سپورٹس کا پیٹرن ان چیف بنایا گیاواٹر سپورٹس کا پٹرن ان چیف بننا نیول چیف کو کوئی اختیار نہیں دیتانیول چیف کو واٹر سپورٹس کا پیٹرن ان چیف بنانے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں 1992 کا خط ہے جس میں وزیراعظم نے چیف آف نیول سٹاف کو 20 ملین کی رقم جاری کی تھی اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کس کی حکومت تھی جب یہ سب ہوا جس پر وکیل صفائی نے جواب دیا کہ 1992 میں چونکہ یہ خط جاری کیا گیا تو یہ مسلم لیگ ن کا دور ہوا ہو گافنڈز 1993 میں جاری کیے گئے اور تب بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی جھیل کنارے کسی قسم کی تعمیرات خلاف قانون ہیں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیول فارمز تو تعمیر ہو چکے اب انکا اختیار پھر کون سنبھالے گا؟ جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان نیوی کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں چلا سکتی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سب کر رہے ہیں آئی بی اور ایف آئی اے بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا کام کر رہے ہیں میرا خیال ہے اس ہائیکورٹ کو بھی اپنی سوسائٹی بنا لینی چاہیی اس شہر میں ہر ادارہ ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہو چکا ہے جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ تمام سوسائٹیز غیرقانونی قرار دی جا چکی ہیں سی ڈی اے قوانین تو ماسٹر پلان کے مطابق تھے اور ماسٹر پلان تو انہوں نے خود تباہ کر دیا چیف جسٹس نے نے کہا کہ سی ڈی اے نے خود کو کمزور کیا اس ماسٹر پلان تباہ ہوا قانون صرف کمزور کے لئے ہے اسلام آباد میں قانون کی بالا دستی نہیں ہے اگر اس چودہ سو سکوائر میل میں قانون کی بالادستی نہیں تو پھر پورے ملک میں بھی نہیں ہو گی عدالت قرار دے نیول چیف نے خلاف قانون کلب کا افتتاح کیا تو اچھا ہو گا؟جہاں قانون کی بالادستی نہ ہو وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں اْن معاشروں میں سب سے زیادہ غربت ہوتی ہے جہاں قانون کی عملداری نہ ہو اس موقع پر وکیل نیول فارمز نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کرے میرا اعتراض ہے کہ یہ درخواست قابل سماعت ہی نہیں اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار چاہتا ہے کہ ادارہ جس کی قوم میں بے پناہ عزت ہے اسکی عزت ختم نہ

ہوغلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے لیکن اس غلطی کو درست کر لیا جانا چاہیے اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ 1980 میں پاکستان نیوی نے کراچی میں ڈیفنس کالونی بنائی جو آج ڈیفنس فیز ون ہے کراچی کی ڈیفنس کالونی میں آرمی یا ایئرفورس کا کوئی تعلق نہیں تھا1982 میں نیول ٹرسٹ بنایا گیا تھا جب پہلی ڈیفنس کالونی بنائی گئی تھی عدالت نے استفسار کیا کہ بحریہ فاؤنڈیشن پرائیویٹ ادارہ نہیں ہے کیا بحریہ فاؤنڈیشن بھی پاکستان نیوی چلا رہی ہے نیول کے وکیل قمر افضل نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ فاؤنڈیشن خیرات کیلئے بنایا گیا ادارہ ہیجو کہ پاکستان نیوی نے بنایا سی ڈی اے رولز کے مطابق سکیم جب تک مکمل نہیں ہوتی تو سپانسر کے زیر اختیار ہوتی ہے جب نیول فارمز کی سکیم مکمل ہو جائے گی تو وہاں کے رہائشی یا سی ڈی اے کے زیر اختیار آ جائے گی وزارت دفاع نے ڈائریکٹر جنرل ویلفیئر اینڈ ری ہیبلیٹیشن کا ادارہ بنایا اس

موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس ادارے کا آڈٹ کون کرتا ہے کیا اسکی آڈٹ رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس پر وکیل نیول فارمز نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ویلفیئر کا انٹرنل آڈٹ ہوتا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیول ہیڈکوارٹرز میں ایک ادارہ ہے وہ پرائیویٹ فنڈز کو بھی ڈیل کر رہا ہے اب آپ بات کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں نیول فارمز کی بجلی استعمال ہو رہی ہے وہاں پر دیگر اخراجات بھی آ رہے ہیں اس ہائیکورٹ کے فنڈز کے ایک پیسے کے بھی ہم ذمہ دار ہیں وکیل نیول فارمز نے عدالت کو بتایا کہ عدالت سارے معاملے کو کسی دوسری طرف لے جا رہی ہے پاکستان نیوی نے وفاقی کابینہ سے بحریہ فاؤنڈیشن ادارہ بنانے کی اجازت لی اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اسی لئے کہتے تھے کہ ایسی چیزیں نہیں کرنی چاہئیں اب عدالت ایک یونیفارم والے بندے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے؟

یونیفارم والے بندے کو سزا سنا دوں تو اچھا نہیں ہو گا ایف آئی آر درج ہو جائے تو انسپکٹر یا سب انسپکٹر جا کر نیول چیف سے تفتیش کریگا جس پر وکیل نیول فارمز کا کہنا تھا کہ یہ حساس معاملہ ہے عدالتی کارروائی سے غلط اثر پڑے گا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ حساس معاملہ ہے تو کیا اس عدالت کو بند کر دیں اگر یہ معاملہ حساس بنا ہے تو عدالت کی وجہ سے نہیں بنا۔ آپ کیا چاہتے ہیں نیول چیف کو اس کاروبار کے لئے استثنیٰ دے دیا جائے؟ سب سے زیادہ حساس معاملہ قانون توڑنا ہے اس عدالت نے مفاد عامہ کا تحفظ کرنا ہے عدالت نے استفسار کیا کہ نیول سیلنگ کلب پر کتنا خرچہ آیا؟جس پر وکیل قمر افضل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نیوی ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت بنایا گیا اور اخراجات سے متعلق معلوم کرنا پڑیگا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قمر افضل صاحب آپ جو حوالہ دے رہے ہیں وہ آپکے خلاف جا رہا ہے عدالت نے پاکستان نیول فارمز کے وکیل قمر افضل کو تیاری کیلئے وقت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر عدالت کو قانون کے حوالوں سے مطمئن کریں کہ کیسے پاکستان نیوی ہاؤسنگ سوسائٹی بنا سکتی ہے عدالت نے کیس کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر