ہم نے عوام میں اعتماد کھو دیا تو ہمیں بھی چلا جانا چاہیے،وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بھی حیرت انگیز بات کر دی

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی) وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ ووٹ کو نہیں بلکہ لوٹ مار کو عزت دو ہے،،عدالت سے سزا ملنے کے بعد یہ بیانیہ تھا کہ مجھے کیوں نکالا، اس بیانیے سے نکل کر ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ آیا اور اس میں سے بیانیہ نکلا کہ میں بیمار ہوں اور اس میں سے بیانیہ نکلا کہ اب ہمیں انقلاب لانا ہے، مسلم لیگ نا اہل عوام کو 80 اور 90 کی دہائی کی طرح بے وقوف بنانا چاہتے ہیں،سرکاری خرچے پر کھانے اور سفرنواز شریف کا وطیرہ ہے، یہ اتنے خوش قسمت ہیں کہ اب انہیں سرکاری خرچے پر بیرون ملک سے واپس لایا جائے گا،ایک باریش انسان کے ساتھ جو کیا گیا کیا یہ کلچر شریف برادران نے متعارف کرایا، اختلاف کرنا کس قانون اور ضابطے کے تحت جرم ہے، جلیل شرقپوری کا قصور ہے انہوں نے نواز شریف کے بیانیے کوعزت نہیں دی

اور اسے غلط کہا،حکومتیں عوام کی مرضی سے آتی اور جاتی ہیں، اگر ہم نے عوام میں اعتماد کھو دیا تو ہمیں بھی چلے جانا چاہیے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ جلیل شرقپوری کے ساتھ جو کیا گیا، کیا وہ ہمارا سیاسی کلچر ہے، سیاسی کلچر تو ہے جو میاں نواز شریف اور ان کے بھائی نے بنایا لیکن کیا ہمارا اخلاقی کلچر ہے؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔جو کیا گیا وہ کیا جانا چاہیے تھا، ہاتھا پائی تک کی نوبت آ گئی، انہیں زدوکوب کیا گیا، ان کی پگڑی اچھالنے کی کوشش کی گئی، ان سے گالی گلوچ کی گئی، ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میرا لیڈر نواز شریف ہے لیکن میں ان کے فوج اور پاکستانی اداروں کے خلاف بیانیے کے ساتھ نہیں ہوں۔پاکستان کی کسی ثقافت، سماجی یا قانونی وجہ سے بتا دیجیے کہ کہیں پر یہ خلاف قانون یا ضابطہ ہو، انہوں نے کہیں پر قانون نہیں توڑا، سوچنے کی بات ہے کہ ایک باریش آدمی کو بے عزت اور ان کی تذلیل کی گئی لیکن اس کے لیے ہم پہلے اس کا پس منظر دیکھ لیتے ہیں کہ بات یہاں تک پہنچی کیسے کیوں کہ ہم تو ووٹ کو عزت دینے والے تھے، تو کیا جلیل شرقپوری صاحب ووٹ لے کر نہیں آئے؟، کیا ان کا اسمبلی میں ووٹ نہیں ہے؟۔رہی بات کہ وہ عثمان بزدار سے ملے تو کسی بات پر تو کھڑے ہو جائیں،آپ کہیں پر تو انسانیت دکھائیں، کیا جب آپ اپوزیشن میں تھے تو کیپٹن (ر)صفدر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے نہیں ملتے رہے، تو کیپٹن (ر)صفدرکو تو آپ نے نہیں پوچھا، وہ کہتے تھے کہ میں اپنے حلقے کے فنڈز کے لیے مل رہا ہوں، اب ان کے سر پر بھی سٹیل کا لوٹا بنوا دیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص رکن صوبائی اسمبلی بن جاتا ہے اور اگر اس کے حلقے میں کام ہے تو وہ کس سے جا کر ملے، آپ سارا کچھ کرتے رہے ہیں تو درست ہے کوئی اور کرے تو درست نہیں، یہ ووٹ کو عزت دو کا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ ہے لوٹ مار کو عزت دو، مسئلہ ہے لندن کے ان فلیٹوں کو عزت دو جو ہم نے لوٹ مار سے بنائے ہیں، مسئلہ ہے شریف فیملی کو عزت دو، جن میں شاید کوئی ایسی چیز ہے کہ وہ اشرف المخلوقات سے بھی کوئی اوپر کی چیز ہیں تو ان کی عزت ہے، باقی کوئی قاعدہ یا قانون نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 1984 میں میاں صاحب پنجاب حکومت میں آئے، اچانک وزیر خزانہ بنے، وہاں جونیجو صاحب کی اسمبلی توڑ دی گئی، جب جونیجو صاحب کی اسمبلی توڑی تو کیونکہ ہم نے ووٹ کو عزت دینی تھی تو ہم جونیجو صاحب کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، ہم نے فدا حسین کے ذریعے ایک نیا گروپ بنوا دیا اور جب عدالت نے فیصلہ دیا کہ جونیجو صاحب کو غلط اور غیر آئینی طریقے سے نکالا گیا ہے لیکن انتخابات قریب ہیں لہٰذاالیکشن لڑنے دیا جائے۔فدا حسین صاحب کے گروپ کو نواز شریف نے جوائن کیا، پھر قسمت اور ملکی تاریخ نے ایک ایسا چیپٹر دیکھا

جو کبھی نہیں دیکھا تھا، نگراں وزیر اعلی نواز شریف نے خود چار حلقوں سے الیکشن لڑا اور میرے خیال میں دو سے جیتے، دو سے ہارے، نگراں وزیر اعلی ہوتے ہوئے مہم چلائی، کیا آپ نے کبھی دنیا میں ایسا سنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب بے نظیر صاحبہ حکومت میں آگئیں تو پہلے دن سے ان کے خلاف کام کرنا شروع کردیا یعنی پھر سے ووٹ کو عزت دینا شروع کی کیونکہ شہید بے نظیر ووٹ لے کر تھوڑی آئی تھیں، وہ تو پیسے دے کر آئی تھیں (طنزیہ کہہ رہا ہوں)، ووٹ تو صرف نواز شریف لے کر آتے ہیں۔شہباز گل نے کہا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا تھی اس لیے سب سے بڑے اصطبل کا انتظام کیا گیا اور وہ چھانگا مانگا کا جنگل تھا، وہاں ریسٹ ہاؤس میں باہر سے تالے لگا دئیے گئے اور اندر تمام سہولیات میسر تھیں، لوگوں قید کیا گیا، خریدا گیا تاکہ بینظیر کی حکومت گرائی جا سکے، وہ نہیں گرائی جا سکی اور یہ ناکام ہوئے لیکن

باز نہیں آئے اور اس کے بعد بھی کاوش جاری رکھی اور صدر کے ساتھ مل کر حکومت گرائی اور خود حکومت میں آئے۔انہوں نے کہاک ہ نواز شریف دوسری دفعہ صدر کے ساتھ مل کر، سازش کر کے محترمہ کی حکومت گرا کے پچھلے دروازے کو عزت دے کر پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، پھر انہیں لگا کہ اس وقت کے آرمی چیف مسئلہ بنیں گے تو ان کو ووٹ کو عزت دیتے ہوئے بی ایم ڈبلیو دینے کی کوشش کی گئی جو لینے سے انہوں نے معذرت کر لی۔انہوں نے کہا کہ ایک فیصلہ ان کے خلاف آیا اور جسٹس سجاد علی شاہ نے کیونکہ ووٹ کو عزت نہیں دی تو انہوں نے ووٹ کو عزت دیتے ہوئے سپریم کورٹ پر حملہ کیا، ججز پر تشدد کیا، توڑ پھوڑ کی۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف آئے تو ہماری اخلاقی طاقت اتنی تھی کہ ایک آرمی چیف جو ملک سے باہر گیا ہوا تھا، اس کو بیرون ملک ہوتے ہوئے برطرف کردیا، واپس آنے کا انتظار نہیں کیا، پاکستان کی

جگ ہنسائی کا نہیں سوچا کیونکہ ووٹ کو عزت نہیں بلکہ نواز شریف کو عزت دینی ہے۔پرویز مشرف سے کہا گیا کہ بھارت سے جا کر اپنے جہاز میں ایندھن بھروا لیں، یہ بھی ووٹ کو عزت دے رہے تھے، جب پکڑے گئے تو ایک دوست کے ساتھ مل کر ووٹ کو عزت دی اور ایک معاہدہ کیا اور راتوں رات نکل گئے۔دس سال کا معاہدہ کیا لیکن جب پرنس حریری نے بتایا تو کہا چونکہ پاکستان میں جمہوریت کی مدت پانچ سال ہوتی ہے تو ہم نے پانچ سال کا معاہدہ کیا اور نہیں مانے۔انہوں نے کہا کہ 2008 میں انہوں نے مسلم لیگ (ق)میں فارورڈ بلاک بنایا اور بے تحاشا پیسہ خرچ کرکے میڈیا پر بھی ووٹ کو عزت دی لیکن پھر طاہر القادری آ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا بھی ووٹ بینک ہے لیکن یہ نہیں مانے اور کہا کہ اس کا فیصلہ ہمارا جسٹس گلو بٹ کرے گا اور اس نے جو ڈنڈا پھیرا وہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے۔انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت پر

دستخط کیے جو لوٹ مار اکٹھے کرنے کا منصوبہ تھا لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ پیپلز پارٹی کو زیادہ عزت مل گئی ہے جو درست نہیں ہے لہٰزاہم نے کالا کوٹ پہنا اور ووٹ کو عزت دینے کے لیے پھر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔پہلے ہم نے یوسف رضا گیلانی کو وہاں سے نااہل کروایا اور اس کے بعد ہم دوبارہ میمو گیٹ لے کر پہنچے کیونکہ زرداری صاحب کو نکلوانا تھا، ووٹ کو عزت دینی تھی اور کیونکہ جلیل شرقپوری نے اس کے برعکس ووٹ کو عزت دی تو ہم نے کہا کہ گلو بٹ پرانا ہو گیا ہے، اب میاں رؤف کو بدتمیزی ے لیے چھوڑتے ہیں، کیا کوئی مان سکتا ہے کہ ان کی پارٹی کی سینئر قیادت کی مرضی کے بغیر یہ کرتوت ہوئی ہو۔ شہباز گل نے کہاکہ انہوں نے

احسن اقبال کی تصویر دکھاتے ہوئے کہاکہ احسن اقبال نے پلے کارڈ اٹھارکھا ہے کہ سزا یافتہ منظور نہیں، تو ان سے پوچھ لیں کہ آج بھی یہی خیال ہیں یا اب مختلف ہے۔انہوں نے نواز شریف کی ضیاء الحق کے ساتھ تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ آج آپ انقلابی ہوگئے ہیں، اپ کو مرحوم جنرل ضیاء الحق اچھے نہیں لگتیں۔انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ سفر اور کھابے سرکاری مال پرکھائے ہیں، جب حکومت آپ کو واپس لائے گی تو سرکاری خرچ پر واپس لائے گی،وزارت داخلہ کے ذریعے آپ کے سفر پر اخراجات ہوں گے کیونکہ آپ کی قسمت ہے مال کھانے کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کل میڈیا سے بڑی اپنائیت دکھائی جارہی ہے لیکن ماضی میں خلاف خبریں لگنے پر اشتہارات بند کئے گئے بلکہ پابندیاں لگائی ہے۔ آپ کو امام خمینی یا نیلسن منڈیلا بننا ہے تو اس کیلئے جیل میں ہونا پڑتا ہے جلا وطن ہونا پڑتا ہے،آپ جھوٹ بول کر مکاری کے ساتھ باہر گئے،

آپ کو واپس آنا چاہیے اور آپ کو سرکاری خرچ سے واپس لائیں گے،آپ کو کرپشن کے مقدمات کا سامناکرنا پڑے گا پھر چاہیں سیاست کریں، آپ کہتے ہیں ماضی میں غلطیاں ہوئیں معاف کردیں،، آپ نے جس طرح کی غلطیاں کی ہیں آپ وہ دوبارہ غلطیاں کریں گے جس طرح آپ نے جلیل سرقپوری کے ساتھ کیاہے۔ آپ مافیاز ہیں،آپ شریف آدمی کی پگڑی اچھالنے سے گریز نہیں کریں گے۔ بھلے آپ تنظیم سازی کریں لیکن جب ہم آپ کو تنظیم سازی کا کہتے ہیں تو آپ غصہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ شریف لوگوں کو سیاست کرنے کا حق نہیں دینا چاہتے،آج سوسائٹی کے لئے اہم موڑ ہے، کیا عام آدمی یہاں سیاست کرسکتا ہے، مافیاز اور سرمایہ کاروں کے سامنے آکر سیاست ہو سکتی ہے۔آپ کبھی مخالفین کے خلاف بھینس چوری کے مقدمات کراتے رہے، آپ نے ماضی میں پریس اور جرنلسٹوں کو سبق سکھایا، بیورو کریٹس کو نہیں چھوڑا نہ جسٹس چھوڑا، آپ کا جرنیلوں کے ساتھ اختلاف ہوتا ہے۔ آپ کے ووٹ کو عزت دو کے جھوٹے دعوے کی قلعی کھل گئی ہے۔اگر آپ کو اپنا بیانیہ دینا ہے تو آپ کو پاکستان آنا پڑے گا ہم آپکا انتظار کر رہے ہیں، پہلے جیلیں کاٹیں پھر سیاست کریں ہم آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر