لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کا مرکزی ملزم عابدعلی چنیوٹ میں ڈیرے پر ایک ماہ تک چارا ڈالتا رہا ، جب نوکری چھوڑی تو مالک نے اسے کتنے ہزار روپے دیے ، اسے پولیس نے پکڑا یا خود گرفتاری دی ؟ سراغ لگا لیا گیا

سوشل میڈیا‎‎

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور سیالکوٹ موٹروےکیس کا مرکزی ملزم عابد علی ملہی ایک ماہ چنیوٹ میں جانوروں کو چارا ڈالتا رہا،جبکہ اس کی گرفتاری پر بھی سوال کھڑا ہوگیا کہ اسے پولیس نے پکڑا یا اس نے خود گرفتاری دی، ملزم عابد ملہی روپوشی کے دوران کہاں

چھپا رہا ؟سراغ لگا لیا۔ روزنامہ دنیا کے مطابق ملزم ایک ماہ تک چنیوٹ کے ایک ڈیرے پر رہا جہاں جانوروں کو چارا ڈالنے کے عوض ڈیرے کا مالک دو وقت کا کھانادیتا تھا، جب وہ کام چھوڑ نے لگا تو مالک نے اسے 5ہزار روپے دئیے ، ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگ ملزم کو پہچان نہیں سکے ،باقی وقت ملزم لاہور قصور اور ننکانہ میں چھپا رہا جہاں اس نے ایک ایک روز سے زیادہ قیام نہیں کیا، ذرائع کے مطابق ملزم کی بیوی اور دیگر رشتہ داروں کو پولیس آج رہا کر دے گی جنہیں پولیس نے مخبری کیلئے حراست میں رکھا ہوا تھا،ملزموں کے تیسرے ساتھی اقبال عرف بالا مستری کو عابد ملہی سے تفتیش کے بعد چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا جائے گا ، ملزم کو آج عدالت میں پیش کر کے 12روزہ ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی،دریں اثنا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عابد ملہی جب فیصل آباد کے علاقہ تاندلیانوالہ سے فرار ہوا تو وہ سیدھا اپنے والد کی پاس مانگا منڈی پہنچا جہاں عابد کے والد نے علاقے کے ایک شخص خالد بٹ کو بیٹے کے بارے میں بتایا ،جن کے تعاون کے بعد ملزم عابد ملہی کو پولیس کے حوالے کیا گیا تاکہ پولیس کوئی بھی ماورائے عدالت اقدام نہ اٹھا سکے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر