متاثرہ خاتون کو جنگل تک کیسے لانے میں کامیاب ہوئے؟ لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی نے منہ کھول دیا

پاکستان

لاہور( این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی ملہی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ 9 ستمبر کو ہم لوٹ مار کی وارداتوں کے لیے کورول گائوں سے نکلے تھے۔ گاڑی کے جلتے بجھتے انڈیکٹر دیکھ کر موٹروے کے اوپر چلے گئے۔

خاتون کو دیکھ کر اسے باہر نکلنے کا کہا، انکار پر گاڑی کا شیشہ توڑا اور خاتون سے گھڑی، زیورات اور نقدی لوٹنے کے بعد اسے موٹروے سے نیچے جانے کوکہا۔خاتون کے انکار پر بچوں کو نیچے لے گئے۔ خاتون بچوں کو بچانے نیچے آئی تو اسے نشانہ بنایا۔ ڈولفن اہلکاروں نے آکر ہوائی فائرنگ کی توفرار ہوگئے۔ملزم نے مزیدبتایا کہ واردات کے بعد میں ننکانہ اور پھر بہاولپور چلا گیا۔ ایک مہینے کے دوران ماسک پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ میں مختلف شہروں میں پھرتا رہا۔ پیسے ختم ہونے پر بیوی سے رابطہ کیا تو پولیس نے گرفتار کرلیا۔دریں اثنا خصوصی عدالت نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو شناخت پریڈ کیلئے 14روزکیلئے جیل بھجوا دیا  گیاجبکہ شریک ملزم شفقت کو شناخت پریڈ کیلئے دی گئی مدت ختم ہونے کے بعد 14روز کیلئے پولیس کے حوالے کردیا گیا ۔ سی آئی اے پولیس پیر کے روز گرفتار ہونے والے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو

انتہائی سخت سکیورٹی میں لے کرعدالت آئی ۔خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیس کی سماعت کی ۔ اس موقع پرپولیس کی جانب رپورٹ پیش کی گئی جس کے بعد عدالت نے ملزم کو شناخت پریڈ کیلئے 14روزکیلئے جیل بھجوا دیا ۔ قبل ازیں شریک ملزم شفقت کو بھی ارشد حسین بھٹہ

کی عدالت میں پیش کیا گیا اور پولیس کی رپورٹ کے بعد اسے 14روز کیلئے پولیس کے حوالے کر دیاگیا۔دریں اثنالاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے حوالے سے نیا پنڈورا باکس کھل گیا ،ملزم کو گرفتار کرنے والی ریڈنگ ٹیم کے نام بھی سامنے آ گئے ۔ب

تایا گیا ہے کہ ملزم عابد ملہی کو ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار کمبوہ اور انچارج آرگنائزڈ کرائم سی آئی اے ماڈل ٹائون لاہور انسپکٹر سید حسین حیدر نے ریڈنگ ٹیم کو لیڈ کیا جبکہ ریڈنگ ٹیم میں آرگنائزڈ کرائم سی آئی اے خلیل احمد، شرافت علی، شبیر احمد، محمد بشیر، کامران انور

، مظہر حسین اور طاہر حسین شامل تھے۔دوسری طرف ملزم کی نے خود گرفتاری دی یا اسے پولیس نے گرفتار کیا اس حوالے سے نیا پنڈورا باکس کھل گیاہے ۔میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملزم کے والد نے علاقہ معزز سے عابد کو پولیس کے حوالے کرنے کی

درخواست کی جس پر علاقہ معزز کی گاڑی میں ہی عابد کو سی آئی اے ماڈل ٹائون منتقل کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق عابد ملہی ننکانہ سے فرار ہونے کے بعد چنیوٹ چلا گیا، چنیوٹ میں کچھ دن بھینسوں کے باڑے میں کام کرتا رہا، پیر کی صبح پولیس چھاپے سے قبل فرار ہو کر مانگا منڈی آگیا،

والد اور علاقہ معزز سے رابطے کے بعد عابد کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔علاوہ ازیں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ پولیس ٹیم نے ہی موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتار کیا ہے ، حکمت عملی کے تحت کچھ دن خاموشی رکھی گئی جس سے ملزم نے

نقل و حرکت شروع کی ۔ 90شاہراہ قائد اعظم پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہاکہ اس واقعہ کے ایک ملزم کو دو تین روز بعد ہی گرفتار کر لیا تھا۔ جب عابد ملہی واردات کے بعد اپنے گھر پہنچا تو اس کے ساتھ نہ جا سکنے والے اس کے ساتھی اقبال عرف بالا نے

اسے بتایا کہ تمہاری تصویر ٹی وی پر چل رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی آ گئی ہے۔ آئی جی نے بتایا کہ ملزم عابد ملہی فرار ہو کر مانگا منڈی، فورٹ عباسم فیصل آباد، چنیوٹ گیا ۔ چنیوٹ میں یہ کئی روز تک انڈر گرائونڈ رہا ، وہاں پراس نے عباس نامی شخص کے پاس نوکر ی کر لی تھی اور

اس کے جانوروں کو چارہ وغیرہ ڈالتا تھا۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے حکمت عملی کے تحت خاموشی اختیار کی لیکن ہم اسے ٹریس کرنے میںلگے ہوئے تھے ۔ فیصل آبادآ کر اس نے اپنے سالے کے فون سے گھر والوں سے رابطہ کیا کیونکہ اسے معلوم ہوگیا تھاکہ پولیس نے اس کے والد اور بیوی کوچھوڑ دیا ہے ، ملزم جب اپنے گھر آیا اور جیسے ہی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا تو وہاں پولیس ٹیم پہلے سے موجود تھی اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر