عمران خان نے جو کہا کردکھایا شہبازشریف کو جیل میں حاصل سہولیات ختم اپوزیشن لیڈر عام قیدیوں کی طرح رہیں گے

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد، لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن )اپوزیشن لیڈر اورمسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے لیے جیل کی سہولیات ختم ،عام قیدیوں کی طرح رکھا جائے گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق قائد حزب اختلاف کو بیرک نمبر دو میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جہاں شہباز شریف کو جیل میں عام قیدیوں

کی طرح رکھا جائے گا اور مسلم لیگ ن کے صدر کو جیل میں الگ کمرہ،بیڈ، ٹیبل لیمپ اور بی کلاس کی سہولیات ملیں گی۔یا درہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنہوں نے قوم کا پیسہ لوٹا انہیں اب جیل میں وی آئی پی سہولیات نہیں ملیں گی ، انہیں بھی عام قیدیوں کی طرح رکھا جائیگا ۔دریں اثنااحتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی نیب کی درخواست مسترد کردی اورجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجوا دیا۔منگل کے روز مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت کے رو برو پیش کیا گیا،شہبازشریف کو احتساب عدالت کے جج جوادالحسن کی عدالت میں پیش کیاگیا،نیب نے شہبازشریف کے مزید14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،وکیل امجد پرویزکے موجود نہ ہونے پر شہبازشریف نے خود دلائل دیئے۔شہبازشریف نے کہاجو سوالنامے دیئے وہ دوبارہ دے دیئے،ان کے جواب

دے چکا ہوں ،جو ریفرنس کاحصہ ہیں ،شہبازشریف نے کہاکہ پورے ہفتے میں صرف15 منٹ مجھ سے تفتیش ہوئی ،ان 15 منٹوں میں وہی سوال کئے جو پہلے کئے ،نیب والے تو سوالنامہ دیکر اٹھ کر جا رہے تھے میں نے انہیں روکا۔شہبازشریف نے دعویٰ کیا مجھے نیب

کی حراست میں 85 روز ہوگئے ہیں ،شہبازشریف کے بیان پر نیب کے تفتیشی افسران حیران رہ گئے ،شہبازشریف نے کہا کہ اس سے پہلے بھی نیب کے عقوبت خانے میں رہ چکا ہوں،21 روز یہ ملا لیں تو 85 دن بن جاتے ہیں ،نیب تفتیشی افسر نے کہاکہ شہبازشریف کو سوالنامہ دیا۔

شہبازشریف نے کہاکہ اگر میں جواب نہیں دوں گا تو میرانقصان ہوگا،شہبازشریف نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ یہ بات عدالت کہہ چکی ہے میں کوئی جواب نہیں دوں گا،تفتیشی افسر نے کہاکہ شہباز شریف کو مختلف اکائونٹس دکھا کر سوال جواب کئے گئے ،احتساب عدالت نے نیب کی شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی ،شہبازشریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی ہدایت کردی ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر