بدترین لوڈشیڈنگ: شہری کربناک اذیت میں مبتلا، لوڈشیڈنگ کے باعث فیکٹریوں نے رات کی شفٹ میں کام کرنا بند کردیا، ہزاروں مزدور بے روزگار

بزنس

کراچی(این این آئی)شدید گرمی میں کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی کے باعث شہری کربناک اذیت میں مبتلا ہیں، کے الیکٹرک اپنی ہٹ دھرمی پر اب بھی قائم ہے۔تفصیلات کے مطابق شہرقائد میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کاسلسلہ تاحال جاری ہے، رہائشی علاقوں اور تمام صنعتی علاقوں میں8گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایاکہ لوڈشیڈنگ کے باعث فیکٹریوں نے رات کی شفٹ میں کام کرنا بند کردیا ہے، شفٹ کی بندش کی وجہ سے ہزاروں مزدور بیروزگار ہوگئے، کے الیکٹرک نے گیس،فرنس آئل کی کمی کا بہانہ کرکے بدترین لوڈشیڈنگ شروع کی ہے۔لوڈشیڈنگ والے علاقوں

میں دورانیہ20گھنٹے تک پہنچ گیا، مستثنیٰ علاقوں میں بھی3سے6گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاری ہے، نیشنل گرڈ سے کے الیکٹرک کو700میگاواٹ تک اضافی بجلی فراہم کی جارہی ہے، موسم میں بہتری، ڈیمانڈ میں کمی کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے،۔ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے گیس اور فرنس آئل کی کمی کا دعوی بھی بے بنیاد نکلا، ایس ایس جی سی اور پی ایس او کے الیکٹرک کو اس کی ضرورت کے مطابق سپلائی کررہی ہیں۔کے الیکٹرک نے رواں ماہ فرنس آئل کی اضافی طلب سے متعلق پی ایس او کو تاخیر سے آگاہ کیا، کے الیکٹرک فرنس آئل کی ڈیمانڈ سے متعلق30دن قبل آگاہ کرنے کی پابند ہے۔کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار سوئی گیس کمپنی اور پی ایس سو کو قرار دے دیا لیکن گیس و فیول فراہم کرنے والے ادارے کہتے ہیں الزام بے بنیاد ہے۔کے الیکٹرک کو بلا تعطل اور اضافی گیس و فیول فراہم کررہے ہیں، کراچی میں شدید گرمی اور بد ترین لوڈ شیڈنگ کے الیکٹرک مبینہ طور پرغلط بیانیوں سے کام لے رہی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق لوڈشیڈنگ جائے گی تب جب فیول ملے گا لیکن گیس اور فیول فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق حقیقت کچھ اور ہے، سوئی گیس کمپنی اور پی ایس او کے مطابق کے الیکٹرک کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ اضافی گیس اور فرنس آئل کی بلاتعطل فراہمی کی جارہی ہے۔سوئی گیس نے بیان جاری کیا کہ کے الیکٹرک کو 50ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس فراہم کررہے ہیں، پی ایس اونے کہاکہ61000 میٹرک ٹن فرنس آئل فراہم کرچکی ہے۔ سوال اب بھی وہی ہے کہ شہر میں بد ترین لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار آخر ہے کون؟

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر