جینیاتی تدوین شدہ بچیوں کی پیدائش اخلاقی اور سائنسی تحقیق کی بقا کی خلاف ورزی قرار

صحت

چین (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں جینیاتی تدوین شدہ بچیوں کی پیدائش اخلاقی اقدار اور سائنسی تحقیق کی بقا کی خلاف ورزی ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی تفتیش کاروں نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ 2 بچیوں میں ایچ آئی وی سے تحفظ فراہم کرنے والی جینیاتی تدوین کرنے والے ڈاکٹر نے از خود یہ تجربہ کیا اور انہیں قانون کی خلاف ورزی پر سزا دی جائے گی۔ زن ہوا ایجنسی کا کہنا تھا کہ چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں تفتیش کاروں نے کہا کہ ڈاکٹر ہی جیان کوئی

نے قومی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی بیرونی مدد کے بغیر خود تجربہ کیا ہے۔ زن ہوا کے مطاببق لولو اور نانا نامی جڑواں بچیوں کی پیدائش کے بعد ان کے تجربے کے تحت ایک اور بچے کی پیدائش ابھی باقی ہے جبکہ دیگر 5 کی فرٹیلائزیشن نہیں ہوسکی۔ یہ تینوں بچے طبی نگرانی میں رہیں گے اور سرکاری محکمہ صحت کی جانب سے باقاعدہ دورہ بھی کیا جائے گا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈاکٹر ہی جیان کوئی نے کون سے قوانین کی خلاف ورزی کی لیکن یہ کہا گہا کہ انہوں نے تحقیق پر تبصرے سے متعلق جھوٹ کہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ’یہ رویہ اخلاقی اقدار اور سائنسی تحقیق کی بقا کی خلاف ورزی ہے،یہ ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ملکی اور غیر ملکی سطح پر ایک خطرناک تاثر پیدا کرتا ہے‘۔ ڈاکٹر ہی جیان کوئی نے 2017 میں برکلے میں اعلی سطح اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں سائنسدانوں نے ایک ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کیا تھا جس کی مدد سے جینز میں تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے کرسپر نامی آلہ حاصل کرنے کے بعد گزشتہ برس ایک بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کے پہلے جینیاتی تدوین شدہ بچیوں کی پیدائش کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے طبی میدان میں سنگ میل قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر ہی جیان کوئی نے یہ تجربہ واضح سائنسی ہم آہنگی کے بغیر کیا کہ جینز میں کی جانے والی تبدیلیاں مستقبل کی نسلوں میں منتقل ہوں گی اور پوری نسل اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔ بعد ازاں چین نے جینیاتی تدوین شدہ بچیوں کی پیدائش کے اعلان کے بعد فوری طور پر ہی جیان کوئی کے تجربات روکنے کا حکم دیا تھا۔ مستقبل کی نسلوں میں کی جانے والی جینیاتی تبدیلی پر امریکا اور یورپ کے اکثر ممالک میں پابندی عائد ہے، چین میں وزارت صحت کی ہدایات کے تحت ایمبریو ریسرچ نہیں کی جاسکتی جو کہ ’اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے‘۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ برس کہا تھا کہ ان کی ایجنسی کے ماہرین صحت پر جینیاتی تبدیلی کے اثرات پر غور کریں گے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز آڈانوم گیبریاسز نے کہا کہ ’ واضح ہدایات کے بغیر جینیاتی تبدیلی نہیں کی جاسکتی اور ماہرین کو ہرچیز کا جائزہ لینا چاہیے‘۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ’ ہماری آبادی کا ایک بڑا جصہ کہتا ہے کہ جینز کو نہیں چھوئیں، ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اور ہمارا گروہ یہ احتیاط کرے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر