آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو 2030 سے 2050 کے درمیان مرنے والوں کی سالانہ تعداد 70 لاکھ سے دگنی ہوجائے گی : ماہرین

صحت

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادراہ برائے عالمی صحت نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر کو 10 بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کی گئی۔جس میں بتایا گیا کہ رواں برس ماحولیات کو خطرات لاحق ہیں جس کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی سے ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ سے زائد افراد

پھپھڑوں کی خرابی، عارضہ قلب اور برین ٹیومر کی وجہ سے مررہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں کینسر کا موذی مرض بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 90 فیصد اموات ایسے ممالک میں ہوتی ہیں جہاں غربت یا متوسط طبقے سے وابستہ لوگ رہتے ہیں کیونکہ ان ملکوں میں صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں موجود ہیں جبکہ بیشتر گھروں میں مضرِ صحت ایندھن سے آگ لگا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ایندھن کا جلنا ہے جسے صنعتوں اور گاڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ایندھن کے جلنے کی وجہ سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے‘۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو 2030 سے 2050 کے درمیان مرنے والوں کی سالانہ تعداد 70 لاکھ سے دگنی ہوجائے گی، اسی وجہ سے مستقبل میں ملیریا کی وبا اور درجہ حرارت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر 2018 میں عالمی کانفرنس کا انعقاد جینیوا میں کیا گیا تھا جس میں ماہرین نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے طریقے اور قوانین کو منظور کیا تھا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر