ماہرین نے 3500 سو سال پرانا مقبرہ کھولا تو ایسا انکشاف کہ دیکھ کر ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اندر کون دفن تھا؟

دلچسپ و عجیب

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے قدیم اہرام فرعونوں کی حنوط شدہ لاشوں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں لیکن حال ہی میں کھولا گیا ایک مقبرہ الگ ہی قسم کے حیرتناک رازوں سے بھرپور ہے۔ اسوان شہر سے 500 میل کی دوری پر واقع مقبرہ 3500 سال قدیم ہے۔

اسے حال ہی میں پہلی بار کھولا گیا تو اندر انسانی ڈھانچوں کے ساتھ ایک چیز بھی دریافت ہو گی کہ جس کی توقع کئی دہائیوں سے یہاں تحقیق میں مصروف ماہرین آثار قدیمہ کو بھی نہیں تھی۔اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق مصر کی وزارت آثار قدیمہ کے سربراہ محمود افیفی نے بتایا کہ اس مقبرے کا تعلق 1479قبل از مسیح میں مصر پر حکمرانی کرنے والے فراعین تھٹموس سوئم اور آمن ہوتب دوئم سے ہے۔اس کی منفرد ترین بات انسانی ڈھانچوں کے ساتھ ملنے والے جانوروں اور رینگنے والے جانوروں کے ڈھانچے ہیں، جو مصر کے قدیم مقبروں سے پہلی بار دریافت ہوئے ہیں۔ یہ ایک نیا انکشاف ہے کہ یہاں صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ جانوروں کو بھی دفن کیا گیا۔جبل السلسلہ کے علاقے میں واقع ان مقبروں میں کھدائی کا کام چارسال قبل شروع کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر مقبروں سے متعدد انسانی ڈھانچے اور ہڈیاں ملی تھیں لیکن گزشتہ سال شروع کی جانے والی نئی کھدائی سے انکشاف ہوا کہ یہاں جانوروں کو بھی فرعونوں کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ انسانی ڈھانچوں کے ساتھ سانپ اور بچھو جیسے جانوروں کے ڈھانچے ملے ہیں، جبکہ قدیم مذاہب کی مقدس اشیاءاور علامت بھی ان مقبروں میں دفن ملی ہیں۔ علاقے میں کھدائی کا کام جاری ہے اور ماہرین مزید حیرت انگیز انکشافات کی توقع کر رہے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر