پاکستان کی سمندری حدود میں پہلی مرتبہ ایسا دیوہیکل جانور اور اس کا بچہ دیکھا گیا کہ سب حیران رہ گئے!!

دلچسپ و عجیب

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں ایک دیو ہیکل ’بلیو وہیل‘ اور اس کا بچہ دیکھا گیا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ یہ ماں اور بچہ وہیل اس وقت چرنا جزیرے کے قریب دیکھا گیا جب ماہ گیر سعید زمان اور اس کے ساتھی، ٹونا مچھلی کے شکار کے لیے سمندر میں موجود تھے، اور انہوں نے فوارے کی طرح پانی کو نکلتے

دیکھ کر وہاں کا رخ کیا اور تصویریں لیں جو ڈبلیو ڈبلیو ایف کو بھیجی گئیں جہاں ماہرین نے اس کی تصدیق کی۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی زندہ بلیو وہیل کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔ماہی گیر کے مطابق بلیو وہیل کی جسامت 17 میٹر لمبی تھی جو ان کی کشتی کے برابر تھی جبکہ بچے سطح پر نہ آنے کی وجہ سے اس کے سائز کا اندازہ نہیں ہوسکا۔اس سے قبل متعدد بار بلیو وہیل پاکستان کے ساحل سے مردہ حالت میں پائی گئی ہے، آخری بار 3 سال قبل سندھ کے علاقے کھڈی کریک سے بلیو وہیل کا ڈھانچہ ملا تھا۔پاکستان کی سمندری حدود میں گذشتہ ایک سال کے دوران 47 بار وہیل کو دیکھا گیا ہے، جس میں سے بلیو وہیل ایک بار بھی نظر نہیں آئی۔ڈبیلو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کو دنیا میں طویل ترین جانور تصور کیا جاتا ہے، جس کی لمبائی 30 میٹر تک رکارڈ کی گئی ہے۔ دنیا میں ان کی تعداد کا تخمینہ 10 ہزار سے 25 ہزار لگایا گیا ہے۔ آئی یو سی این کے مطابق اس کی نسل خطرے سے دوچار ہے اور یہ ناپید جانداروں کی ریڈ لسٹ میں شامل ہے۔آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ کے مطابق ایک مادہ بلیو وہیل دو یا تین سالوں میں ایک بار بچہ دیتی ہے جس کا ابتدائی وزن ڈھائی ٹن اور لمبائی سات میٹر ہوتی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کی خوراک جھینگے کی ایک مخصوص قسم ہے، جسے کرل کہا جاتا ہے اور یہ جھینگا بحریہ

عرب میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ علاقے بلیو وہیل کے لیے باعث کشش ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ایڈوائیزر محمد معظم کا کہنا ہے کہ زندہ بلیو وہیل کا نظر آنا اس بات کی گمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں کئی اقسام کی سمندی حیات موجود ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں وہیل کا نظر آنے کی بڑی وجہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی موثر نگرانی ہے جس میں سندھ اور بلوچستان میں کشتیوں کے سو

سے زیادہ ماہی گتروں اور خاص طور پر ناخداؤں کی تربیت کی گئی ہے۔ جو وہیل، شارک، ڈولفن اور دیگر نایاب جانوری کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کی جال سے رہائی کو یقینی بناتے ہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز کا کہنا ہے کہ چرنا جزیہ وہیل، شارک، سن فش سمیت کورال یعنی ساحلی مرجان کی آماجگاہ ہے، حکومت بلوچستان کو اس جزیرے کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان حکومت استولا جزیرے کو محفوظ قرار دے چکی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر